0
Monday 30 Sep 2013 22:37

ایران اور امریکہ میں ممکنہ قربتیں اور عرب حکومتوں کی بے چینی

ایران اور امریکہ میں ممکنہ قربتیں اور عرب حکومتوں کی بے چینی
اسلام ٹائمز- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی کے دورہ امریکہ کے دوران کھلی سیاست کا مظاہرہ اور امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ عالمی ذرائع ابلاغ خاص طور پر عرب میڈیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس بارے میں بعض امریکہ کی حمایت یافتہ عرب حکومتوں نے جو ان ممکنہ قربتوں کو خطے میں اپنے اثرورسوخ کیلئے خطرہ تصور کرتی ہیں انتہائی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جس سے ان کی بے چینی اور غصہ ظاہر ہوتا ہے۔ 
سعودی عرب سے وابستہ کثیرالاشاعت عربی اخبار "الشرق الاوسط" جو اس کھلی سیاسی فضا سے راضی نظر نہیں آتا اپنے ایک شمارے میں لکھتا ہے: 

"اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر براک اوباما کی جانب سے انجام پانے والی تقریر میں اپنائے گئے موقف میں پریشان کن نکتہ ایران کے بارے میں تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر ایران کے صدر کو بعض پیغامات پہنچانا چاہتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے امن پسندی کا چہرہ اپنا رکھا تھا۔ انہوں نے براک اوباما کے ساتھ سیاسی معاہدہ طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اوباما کی سیاسی زندگی کے طولانی ہونے کا باعث بنے گا"۔ 
 
اخبار "الشرق الاوسط" آگے چل کر یہ سوال پیش کرتا ہے کہ ایرانی ایٹمی ہتھیار بنانے سے کتنا دور ہیں؟ ایرانی صدر جناب روحانی کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے کیلئے انہیں کم از کم دو سال کا وقت درکار ہے۔ انہیں اس قدر وقت کی ضرورت کیوں ہے؟ جبکہ ان مذاکرات کو چند ہفتوں میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ 
 
اخبار الشرق الاوسط کا دعوا ہے کہ ایرانی مزید وقت خریدنا چاہتے ہیں تاکہ مقررہ وقت پر یہ اعلان کر سکیں کہ اب وہ ایک جوہری طاقت بن چکے ہیں جس کے بعد ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس اخبار نے جو امریکہ اور ایران کے درمیان مثبت فضا قائم ہونے سے کافی ناراض نظر آتا ہے مزید دعوا کیا ہے کہ ایران ھندوستان، پاکستان اور حتی اسرائیل نہیں۔ ایرانی سیاسی کھیل کے اصول و ضوابط سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے مسکراتے چہرے اور میٹھی باتوں کے فریب میں آ کر انتہائی سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کا جبران بھی ناممکن ہے۔ ایرانی گذشتہ پندرہ برسوں سے مزید وقت خریدنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ 
 
قطر کے عربی نیوز چینل "الجزیرہ" کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا ایک مقالہ بھی ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی ممکنہ مفاہمت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن کے بگڑنے سے امریکہ نے محسوس کیا ہے کہ اسے اپنے رویے میں تبدیلی لانا پڑے گی۔ دوسری طرف مصر اور سعودی عرب سمیت خطے میں امریکہ کی اتحادی حکومتوں کی سرنگونی یا کمزوری اور ترکی پر بھروسے نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ تشویش کو جنم دیا ہے۔ 
 
اس مقالے میں تاکید کی گئی ہے کہ امریکہ، یورپ اور مغربی ممالک کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنائی گئی پالیسیاں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت میں سب سے بڑی رکاوٹ نظر آتی ہے اور یہ سوال بھی پیش کیا گیا ہے کہ آیا وہ وقت نزدیک ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کی حقیقت کو صحیح معنوں میں درک کر لیں گے؟ اسی طرح اس مقالے میں یہ دعوا بھی کیا گیا ہے کہ اگرچہ ایران صدر جناب حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ مکمل اختیارات کے ساتھ واشنگٹن آئے ہیں لیکن ایران کے بعض روایتی دینی اداروں اور بعض فوجی مراکز کی جانب سے اس موضوع کے بارے میں اپنائے جانے والا موقف ایران اور امریکہ کے درمیان انجام پانے والے مذاکرات پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ جس پر دائیں بازو کی اصول پسند قوتوں کا قبضہ ہے ان مذاکرات میں ایک اور رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ مقالے کے آخر میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ قربتیں ایسی مطلوب سطح تک پہنچ جائیں گی جس کے باعث دونوں فریقوں کی سیاست میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں؟
 
سعودی عرب میں شائع ہونے والے اخبار "الریاض" نے بھی یہ دعوا کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب حسن روحانی انتہائی محدود اختیارات کے حامل ہیں۔ لیکن اس بار اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے انہیں مکمل اختیارات سونپے ہیں اور ملک کی خارجہ و داخلہ سیاست میں انہیں کے فیصلے حتمی فیصلے تصور کئے جائیں گے۔ اس اخبار نے مزید دعوا کیا ہے کہ جناب حسن روحانی نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ کے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک کئی بار مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔ 
 
البتہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی مثبت فضا کے بارے میں معروف عرب سیاسی تجزیہ نگار جناب عبدالباری عطوان کی رائے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے دورہ امریکہ کے دوران ایرانی صدر جناب حسن روحانی کی سفارتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اور عرب حکمرانوں کی جانب سے منفی ردعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ایک مقالے میں یوں لکھا ہے:

"ایرانی صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تمامتر توجہ اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہے اور اگر ہم یہ نہ کہیں کہ وہ اس حوالے سے اپنے تمام ہم منصب افراد سے سبقت لے گئے ہیں تو یہ ضرور کہ سکتے ہیں کہ امریکی صدر سمیت دنیا کے اکثر صدور مملکت سے زیادہ توجہ کے مرکز رہے ہیں اور اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے جو یہ ہے کہ جناب حسن روحانی ایک ایسے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں جس نے امریکہ کے سامنے ایک بڑی "نہیں" کہی ہے اور امریکہ کے طیارہ بردار جنگی جہازوں، لڑاکا طیاروں اور اس کی اعلانیہ اور ڈھکی چھپی دھمکیوں سے بالکل خوفزدہ نہیں ہوا"۔ 
 
جناب عبدالباری عطوان مزید لکھتے ہیں:
"اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہم عربوں کا چہرہ اور تصویر انتہائی شرمناک تھی۔ ہم ماضی میں بھی ایسے ہی تھے اور دنیا میں موثر کردار کے حامل نہیں رہے، کوئی بھی ہمیں عزت و احترام کی نظر سے نہیں دیکھتا اور ہماری مشکلات بھی ان کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں"۔
 
جناب عبدالباری عطوان نے ایرانی حکام کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے اسرائیلی حکام کے شدید خوف و ہراس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم جس نے ہمیشہ سے امریکی حکومت کو ایران پر سیاسی دباو ڈالنے کیلئے استعمال کیا ہے اور اسے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے پر اکسایا ہے اب اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کا آپشن بروئے کار نہیں لائے گا۔ جناب عبدالباری عطوان لکھتے ہیں:
"موجودہ عالمی حالات اور بعض شواہد کی روشنی میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے امریکہ مستقبل قریب میں ایران کو خطے کی ایک بڑی طاقت کے طور پر تسلیم کر لے"۔ 
خبر کا کوڈ : 307025
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب