0
Sunday 8 Jun 2014 00:15

شام کے صدارتی انتخابات، صدر بشار اسد کی قانونی حیثیت پر عظیم ریفرنڈم

شام کے صدارتی انتخابات، صدر بشار اسد کی قانونی حیثیت پر عظیم ریفرنڈم
اسلام ٹائمز – شام میں جاری بحران کو تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ 2011ء میں مغربی طاقتوں کی جانب سے شام میں پیدا کئے گئے بحران کا مقصد وہاں پر موجود سیاسی نظام اور صدر بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ تھا۔ یہ مقصد درحقیقت مشرق وسطی جیسے بحران زدہ خطے میں امریکہ اور مغربی ممالک کے مادام العمر اتحادی حسنی مبارک کی سرنگونی کا بدلہ لینے کیلئے چنا گیا تھا۔ اس منحوس مغربی – عربی – صیہونیستی – ترکی سازش کی بنیاد پر طے کیا گیا تھا کہ تین سے چھ ماہ کی مدت کے اندر اندر صدر بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ ایک ایسی حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں مغرب نواز اسلام پسند عناصر سے لے کر سیکولر عناصر سمیت صدر بشار اسد کے تمام مخالفین کی مناسب نمائندگی شامل ہو۔

اس منصوبہ بندی کی بنیاد پر ترکی جس نے 2008ء میں ہی خطے کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر شام کے ساتھ ایک سیکورٹی معاہدہ انجام دے رکھا تھا اچانک عہد شکنی کا مرتکب ہوتے ہوئے شام میں موجود سیاسی نظام کے مقابلے میں آن کھڑا ہوا۔ قطر، سعودی عرب، اردن اور مصر کی سابق حکومت امریکہ، یورپی یونین، عرب لیگ، عالمی تکفیری اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ اور ترکی شام میں سرگرم حکومت مخالف باغیوں کو انسانی قوت، مالی مدد اور اسلحہ فراہم کرنا شروع ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر شام کے خلاف ایک عظیم پروپیگنڈہ مہم کا آغاز کر دیا گیا۔ شام میں بحران کے آغاز پر ہی مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے انجام پانے والے پروپیگنڈے کے مطابق شام میں حکومت مخالف مسلح عناصر اس ملک کے تقریبا 85 فیصد حصے پر قابض ہو چکے تھے۔

شام حکومت کے پاس اس عالمی جارحیت کا مقابلے کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ گذشتہ تین سال کے دوران شام کی عوام اور حکومت کی جانب سے اپنے دوست ممالک کے تعاون سے اس بین الاقوامی جارحیت کے خلاف جدوجہد کو مندرجہ ذیل تین مختلف مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ دفاع کا مرحلہ،
۲۔ اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا مرحلہ اور
۳۔ حملے کا مرحلہ۔

۱۔ دفاعی مرحلہ:
شام حکومت نے پہلے مرحلے میں دفاعی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ایسے اقدامات انجام دیئے جن کے ذریعے ایسے مخالفین کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی گئی جو مسلح بغاوت کے مرتکب نہیں ہوئے تھے۔ شام میں سرگرم مسلح باغیوں اور ان کے حامی ممالک نے ابتداء میں ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کرتے ہوئے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے۔ ان ہتھکنڈوں میں ملک کی بڑی فوجی اور سیاسی شخصیات کو مختلف قسم کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملانا اور ایسی شخصیات جو اس مرحلے میں صدر بشار اسد کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوں کو قتل کرنا شامل تھا۔ اس طرح شام کے کئی اعلی سطحی فوجی کمانڈر اور سیاسی شخصیات حکومت کا ساتھ چھوڑ کر بیرون ملک مقیم اپوزیشن سے جا ملے۔ اس دوران شام کے حکومت مخالف دھڑوں کی جانب سے کئی افراد کو صدر بشار اسد کے متبادل کے طور پر ایک بڑی شخصیت بنا کر پیش کیا گیا۔ اسی طرح اس مرحلے میں بین الاقوامی روابط عامہ میں ایک انتہائی عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا۔ وہ یہ کہ مختلف ممالک کی جانب سے انتہائی منظم انداز میں لاکھوں تکفیری دہشت گرد عناصر کو شام کی سرزمین میں گھسا دیا گیا اور انہیں مکمل مالی اور فوجی سپورٹ بھی فراہم کر دی گئی۔

اس مرحلے پر شام میں سرگرم مسلح تکفیری دہشت گردوں نے ایسے انسان سوز اور شرمناک اقدامات انجام دیئے جس نے تاریخ کے جلادوں اور درندہ صفت انسانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ معصوم بچوں اور خواتین کو بے رحمی سے قتل کرنا، خواتین کی عصمت دری، معصوم بچوں کے سامنے ان کے پیاروں اور والدین کو وحشیانہ انداز میں قتل کرنا ان غیرانسانی اور مجرمانہ اقدامات کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن سے بے خبر ان وحشی تکفیری دہشت گردوں نے صرف یہیں تک اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے گمراہ اور دل کے اندھے مفتیوں کے گمراہ کن فتووں کے تحت بے حیائی اور بے غیرتی کی وہ مثالیں قائم کر دیں جنہیں سن کر نہ صرف مسلمان بلکہ ہر باغیرت انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ عجیب تو یہ کہ امریکہ اور مغربی طاقتیں جن کی جانب سے انسانی حقوق کے دعووں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈھنڈورا پیٹنے نے دنیا والوں کے کان بہرے کر رکھے ہیں ان تمام اقدامات پر نہ صرف آنکھیں موندے ہوئے تھے بلکہ ان تکفیری دہشت گرد عناصر کی بھرپور سیاسی، مالی اور فوجی مدد کرنے میں مصروف تھے۔ دوسری طرف اسرائیل کی صہیونیستی رژیم بھی اپنے ان جیالوں کا بھرپور خیال رکھے ہوئے تھی اور زخمی ہونے والے تکفیری دہشت گردوں کو مقبوضہ فلسطین کی سرزمین منتقل کیا جاتا تھا جہاں اسرائیلی اسپتالوں میں انہیں اعلی قسم کی طبی سہولیات مہیا کی جاتی تھیں۔ اس طرف سعودی عرب کا سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان ایک باولے کتے کی طرح پورے خطے میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے میں مصروف تھا اور اتفاق سے شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کی ذمہ داری بھی اسے ہی عطا کی گئی تھی۔

مذکورہ بالا تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے شام حکومت نے بعض اہم دفاعی اقدامات انجام دیئے۔ ان میں سے ایسے حکومت مخالف عناصر کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار تھا جن کے ہاتھ عام شہریوں کے خون سے رنگین نہ ہوئے ہوں۔ دوسری طرف شام حکومت نے ملک کے آئین میں ایسی اہم اور بنیادی اصلاحات انجام دینے کا بھی اعلان کیا جن کے تحت ملک میں جمہوری اقدار کو فروغ پانے میں مدد مل سکے۔ ان اقدامات کا مقصد حکومت مخالف عناصر کے ساتھ موجود اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنا اور خانہ جنگی کا خاتمہ تھا۔

۲۔ اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کا مرحلہ:
شام نے دوسرے مرحلے پر ایران، عراق، روس، چین اور حزب اللہ لبنان جیسے دوست ممالک اور قوتوں کی مدد سے اپنے پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ شام حکومت نے اس حقیقت کو درک کرتے ہوئے کہ وہ ایک منحوس بین الاقوامی سازش کا شکار ہو چکا ہے ملک کے داخلی امور میں بنیادی اصلاحات اور ایسے اقدامات کا آغاز کر دیا جن کا مقصد زیادہ سے زیادہ سیاسی اور سیکورٹی استحکام ایجاد کرنا تھا۔ اس ضمن میں مسلح افواج جو اس بین الاقوامی جارحیت کے مقابلے میں ملک کا اصلی ستون تصور کی جاتی تھیں کو دو بدو جنگ کی پالیسی اختیار کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔

دوسری طرف شام میں سرگرم حکومت مخالف تکفیری گروہوں نے خوف اور وحشت پھیلانے کی خاطر انتہائی غیرانسانی اور ہولناک اقدامات انجام دینا شروع کر دیئے۔ وہ شام فوجیوں کا سینہ چاک کر کے دل نکال کر چبانے سے لے کر معصوم بچوں اور پورے کے پورے گھرانوں کو ذبح کرنے جیسے بھیمانہ اقدامات کی ویڈیوز بنا کر انہیں سوشل نیٹ ورکس پر اپ لوڈ کرنے لگے۔ اس اقدام کا مقصد شام کے عوام اور سیکورٹی فورسز میں خوف اور وحشت کی فضا پیدا کرنا تھا۔ لیکن تکفیری عناصر کے ان غیرانسانی اقدامات کا الٹا نتیجہ نکلا اور شام کی عوام ان سے بری طرح متنفر ہو گئی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کے خلاف ایک منفی فضا معرض وجود میں آئی۔ ساتھ ہی ساتھ شام آرمی نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف اپنے دفاعی اقدامات میں تیزی لاتے ہوئے یکے بعد دیگرے کئی محاذ پر کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر دیں اور اس طرح تکفیری دہشت گرد عناصر کی پیشروی کو روک لیا گیا۔ اس مرحلے پر جنیوا کانفرنس بھی منعقد کی گئی جس کا مقصد شام کے اندرونی معاملات میں بین الاقوامی مداخلت کا قانونی جواز مہیا کرنا تھا۔

۳۔ جارحانہ پالیسی کا مرحلہ:
اس مرحلے میں شام کی حکومت اور فوج نے دفاعی مرحلے کی تکمیل اور اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے بعد تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے بھرپور فوجی کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔ اس مرحلے میں شام حکومت کی جانب سے سیاسی اور فوجی دونوں میدانوں میں جارحانہ اسٹریٹجی اختیار کی گئی۔ اس اسٹریٹجی کے نتائج جنیوا 2 کانفرنس میں دیکھے گئے۔ اس کانفرنس میں شام حکومت کے نمائندگان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موضوع متعارف کروایا اور اسے حکومت مخالف عناصر کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبے یعنی صدر بشار اسد کی برکناری کے مقابلے میں مطرح کیا گیا۔ دوسری طرف جنگ کے میدان میں بھی تکفیری دہشت گرد عناصر کے زیر کنٹرول اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں میں فوجی کاروائیاں انجام دیتے ہوئے انہیں آزاد کروا لیا گیا۔ ان کامیابیوں نے جنگ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ مثال کے طور پر ان اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں میں سے القصیر، القلمون، حمص اور حلب کے نام قابل ذکر ہیں۔

شام آرمی کی ان اسٹریٹجک کامیابیوں کے نتیجے میں تکفیری دہشت گرد عناصر مکمل محاصرے میں آ جانے کے بعد انہیں فوجی حملات کا نشانہ بنایا جاتا اور ان کا قلع قمع کر دیا جاتا۔ اسی دوران قومی مفاہمتی منصوبے کا بھی آغاز کر دیا گیا اور ہتھیار پھینک دینے والے دہشت گردوں کیلئے جان کی امان کی ضمانت فراہم کر دی گئی۔ یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ شام حکومت کے نزدیک عام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کس قدر اہمیت کی حامل تھی۔ البتہ اس مرحلے پر امریکہ نے شام کے خلاف فوجی کاروائی کی دھمکی دے کر شام آرمی کی مسلسل کامیابیوں کے سلسلے کو روکنے کی کوشش کی لیکن امریکہ کو اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کی جرات حاصل نہ ہو سکی۔

اس وقت جب ہم سال 2014ء کے وسط میں ہیں شام کی صورتحال سال 2011ء سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ شام کی عوام اپنی حکومت اور فوج کی مکمل حمایت کر رہی ہے۔ وہ فوج اور حکومت جس نے گذشتہ تین سال سے تقریبا پوری دنیا کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور اب وہ چوتھے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ مرحلہ درحقیقت بین الاقوامی سازش کے تحت ملک میں انجام پانے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی و بربادی کا ازالہ اور ملک کی تعمیر نو کا مرحلہ ہے۔ شام کی عوام نے 3 جون کو بیلٹ باکس میں ووٹ ڈال کر موجودہ سیاسی نظام کے قانونی ہونے کے حق میں ایک عظیم ریفرنڈم کا انعقاد کیا ہے۔ ان انتخابات میں عوام کی شمولیت بذات خود موجودہ حکومت کی تایید ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شام کے عوام مستقبل قریب میں اپنے ملک میں اس تمام تباہی کے حقیقی مسببین سے غرامت کا مطالبہ کریں گے۔ یہ صدارتی انتخابات درحقیقت حکومت کی جانب سے گذشتہ تین سال کے دوران تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف انجام پانے والے تمام اقدامات پر عوام کی مہر تایید کے معنا میں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 390111
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے