0
Thursday 20 Dec 2012 20:16
ہرگز اس گندے انتخابی نظام کا حصہ نہیں بنیں گے

ڈاکٹر طاہر القادری 23 دسمبر کو ملک بچانے کا فارمولا دیں گے، مشتاق علی سہروردی

ڈاکٹر طاہر القادری 23 دسمبر کو ملک بچانے کا فارمولا دیں گے، مشتاق علی سہروردی
مشتاق علی خان سہروردی کا بنیادی تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے ہے۔ آپ زمانہ طالب علمی میں 1985ء میں تحریک مہناج القرآن سے منسلک ہوئے، اس وقت چونکہ ڈاکٹر طاہر القادری سیاسی رہنماء نہیں تھے، لہذا ان کے دینی لیکچرز سے متاثر ہو کر آپ اس تحریک کا حصہ بنے۔ مشتاق علی سہروردی صاحب ملک میں تبدیلی لانے کے خواہش مند ہیں۔ اسی تبدیلی کی غرض سے 23 دسمبر کو مینار پاکستان لاہور میں ہونے والے اجتماع کی تیاریوں میں سرگرم عمل ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے مشتاق علی سہروردی کیساتھ  ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان واپسی، تحریک منہاج القرآن کی تحریک کے اغراض و مقاصد اور 23 دسمبر کو ہونے والے اجتماع سے متعلق ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: ڈاکٹر طاہر القادری صاحب ’’سیاست نہیں ریاست بچاو‘‘ کا نعرہ لیکر پاکستان آرہے ہیں، میرا پہلا سوال آپ سے یہ ہے کہ موصوف کو ریاست بچانے کا خیال اتنی تاخیر سے کیوں آیا۔؟
مشتاق علی سہروردی: اصل میں ریاست بچانے کا جو خیال آیا، یہ ہمارے اندورنی حالات جو سب کے سامنے ہیں، پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس وقت انٹرنیشنل لیول پر ہمارے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے؟ ہمارے حالات، ہماری اکانومی، ہماری اندرونی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے اور بیرونی قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جو کچھ ہو رہا ہے، یہ کس طرف ملک کو لیکر جایا جا رہا ہے، تاکہ انٹرنیشنل لیول پر یہ ثابت کیا جائے کہ پاکستان کی حکومت، اس کے فوجی ادارے اور تمام، ان حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، تاکہ عالمی طاقتیں پاکستان کے اندر اپنی فوج داخل کریں، یہ کہہ کر کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے کہیں اور لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں، اس طرف لیجانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور اس کی آڑ میں پاکستان کے پر قبضہ کرنے کیلئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ 

ان حالات میں ایک مخلص اور دردمند پاکستانی کا یہی فرض بنتا ہے کہ وہ دیکھے کہ اب دوبارہ الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور دوبارہ پوری قوم الیکشن کے اس پراسس سے گزرنا چاہتی ہے تو ان کا حق ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ میں اس ملک کو بچانے کیلئے ایک فارمولا دوں گا، تاکہ عام طبقے سے تعلق رکھنے والا بندہ بھی اسمبلی میں جاسکے، اور وہاں بیٹھ کر ملکی اندرونی سرحدوں کی حفاظت اور اپنی خارجہ پالیسی کو نئے طریقے سے مرتب کیا جاسکتے، تاکہ ہم اپنے ملک کا دفاع کرسکیں۔ اور انہوں نے یہ بھی ساتھ ہی واضح کر دیا ہے کہ میں سیاست کیلئے نہیں آرہا ہوں، میں خود الیکشن کیلئے نہیں آرہا ہوں، اپنی جماعت کا جھنڈا بھی لیکر نہیں آنا ہے، مینار پاکستان پر آنا ہے تو صرف پاکستان کا جھنڈا لیکر آنا ہے۔ پہلے تو ہمارا اپنا 50 لاکھ افراد کا ٹارگٹ تھا، لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، جس کے اندر پاکستان کا درد ہے، وہ بھی اب اس میں شامل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ اتنا بڑا جمع غفیر ہوگا کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا اجتماع کسی نے مینار پاکستان کی دھرتی پر نہیں دیکھا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: بعض لوگوں کا کہنا طاہر القادری بعض خفیہ ہاتھوں کے اشارے پر سامنے آرہے ہیں، اس بارے میں کیا کہیں گے۔؟
مشتاق علی سہروردی: اس بارے میں ڈاکٹر صاحب نے بڑا واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر آپ کو کسی اشارے کا پتہ ہے تو مجھے بتا دیں، مجھے تو کسی خفیہ اشارے کا نہیں پتہ۔ ایک اینکر نے سوال کیا تھا تو اس کے جواب نے ڈاکٹر صاحب نے کلیئر کٹ بتا دیا تھا اور یہ ریکارڈ پر ہے۔

اسلام ٹائمز: طاہر القادری صاحب جنرل مشرف کے دور آمریت میں ان کو سپورٹ کرتے رہے، اور اب دوسرا نظام لانے کی بات کر رہے ہیں، سابق غلطیوں کا ازالہ کیسے ممکن ہوگا۔؟
مشتاق علی سہروردی: اس بات کو آپ تھوڑا سا پیچھے لے جائیں، مشرف صاحب کی بات نہ کریں کچھ پیچھے لے جائیں۔ جب ڈاکٹر صاحب نے پاکستان عوامی تحریک کی بنیاد رکھی تھی موچی دوازے پر، تو اس وقت بھی انہوں نے کہا تھا اور یہ آن دی ریکارڈ بھی ہے کہ میں اس نظام کے اندر آیا ہوں، الیکشن کے پراسس کو ایک یا دو مرتبہ آزمائیں گے، اور دیکھیں گے کہ اگر یہ راستہ موزوں ہوا تو اس کو جاری رکھیں گے اور اگر یہ موزوں نہ ہوا تو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔ کئی دوسرے راستے ہیں تبدیلی لانے کے۔ اس کے بعد وہ الیکشن کے عمل سے گزرے، اسمبلی کی نشست جیتی، اسمبلی میں بیٹھ کر آپ نے سارا نظارہ دیکھا، بشمول دینی و سیاسی جماعتوں۔ انہوں نے دیکھا کہ اس اسمبلی میں بیٹھ کر ملک اور قوم کی کسی صورت خدمت نہیں ہو سکتی۔ 

علامہ طاہرالقادری وہ واحد شخصیت ہے جس نے اس اسمبلی کی نشست کو لات ماری اور وہاں سے استعفٰی دیکر واپس نکلے۔ جیسا کہ آپ نے کہا کہ مشرف صاحب کو سپورٹ کیا، تو جب مشرف نے ٹیک اور کیا تھا، اس وقت ان کی پے در پے ملاقاتیں ڈاکٹر صاحب کیساتھ ہوئیں۔ آپ نے ان کو فارمولا دیا کہ اگر آپ ملک اور قوم سے مخلص ہیں تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ یہ کام کریں۔ لیکن جب آپ نے دیکھا کہ ٹیک اور کرنے کے بعد بھی ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل نہیں کیا تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ اسمبلی میں وردی کے معاملہ پر طاہر القادری صاحب نے استعفٰی دیا اور واپس آگئے۔ جو لوگ مشرف کیساتھ تھے وہ اس وقت بھی اسمبلی میں موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں۔ سارے باتیں ضرور کر رہے تھے، لیکن استعفٰی کسی نے نہیں دیا۔

اسلام ٹائمز: آپ نے الیکشن کا ذکر کیا، جب آپ کی جماعت نے الیکشن میں حصہ نہیں لینا تو ڈاکٹر صاحب کی الیکشن سے کچھ عرصہ قبل واپسی کیوں ہو رہی ہے اور کیا اس تحریک کا آئندہ انتخابات پر کوئی اثر ہوسکتا ہے۔؟
مشتاق علی سہروردی: یہ اب عوام پر منحصر ہے، عوام جہاں اکٹھے ہوں گے، کم و بیش 50 لاکھ افراد کا یہ اجتماع ہے اور انشاءاللہ آپ کا میڈیا دکھائے گا اور یہ اپنا تجزیہ کرکے بتائے گا کہ کتنے افراد آئے ہیں۔ پہلے ہی ہم نے کہہ دیا ہے کہ ہم الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے، تاہم اگر عوام اس میں جانا چاہتے ہیں تو بھلے جائیں۔ لیکن ہم نے اپنا حق ادا کر دینا ہے، تاکہ کل کو ہم نے اپنے آپ کو بری الذمہ کرنا ہے کہ ہمارا حق یہ تھا کہ ہم نے قوم کو بتا دیا تھا کہ اس میں خیر نہیں ہے، یہ گند کی دلدل ہے جو بھی اس دلدل میں اترے گا وہ اپنے آپ کو خود اس گند سے لپیٹ لے گا۔ اس لئے اس گندے انتخابی نظام سے نکل کر ایک صاف و شفاف پولیٹیکل نظام دینا چاہتے ہیں، توبہ نعوذ باللہ ہم کوئی ایسا نہیں کرنا چاہتے کہ کلاشنکوف کلچر دیا جائے یا ملک میں بدامنی پیدا کی جائے۔ ملک تو پہلے ہی اس دہانے پر پہنچا ہوا ہے، اور ہم ملک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جو ملک کیلئے خطرے کا سبب بنے۔

اسلام ٹائمز: 23 دسمبر کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں تیاریوں کی کیا پوزیشن ہے اور کتنی تعداد میں لوگ یہاں سے مینار پاکستان جائیں گے۔؟
مشتاق علی سہروردی: پورے صوبے سے ابھی تک ہماری 500 سے زائد بسیں کنفرم ہوچکی ہیں اور ہمارا ہدف ایک ہزار بسوں کا ہے، ابھی ہمارے پاس کچھ دن موجود ہیں۔ یہ وہ بسیں ہیں جن کی پے منٹ ہوچکی ہے، بسوں کے نمبر کنفرم ہوچکے ہیں، افراد کی لسٹ بن چکی ہے اور جو ان بسوں میں بیٹھیں گے ان کے نام، ٹیلی فون نمبرز کیساتھ ہمارے پاس موجود ہیں۔ انشاءاللہ 21 دسمبر کی رات کو یہ قافلہ یہاں سے نکلے گا، نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ آزاد کشمیر، بلوچستان اور سندھ سے بیک وقت قافلے نکلیں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا دیگر دینی جماعتوں کو بھی اس تحریک میں شامل کیا جائے گا۔؟
مشتاق علی سہروردی: جی بالکل، ہمارا دینی جماعتوں کیساتھ رابطہ ہے، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ بھی رابط ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بیان دیا ہے، قاضی حسین احمد صاحب نے بھی کہا ہے کہ میں خود 23 دسمبر کو ڈاکٹر صاحب کا استقبال کرنے آرہا ہوں، جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ اجتماع صرف ڈاکٹر طاہر القادری، پاکستان عوامی تحریک یا منہاج القرآن کا نہیں ہے، اس میں ان تمام مخلص لوگوں کو بلایا گیا ہے جو پاکستان کا درد رکھنے والے ہیں اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے نکلیں گے۔

اسلام ٹائمز: طاہر القادری صاحب کس قسم کا انقلاب پاکستان میں لانا چاہتے ہیں۔؟
مشتاق علی سہروردی: انہوں نے ایک نقشہ پیش کیا ہے، مصر میں عوام باہر نکلے، کسی جگہ پر کوئی قتل و غارت گری نہیں ہوئی، اسی طرح تیونس میں ہوا، اسی طرح دوسرے ممالک میں عوام باہر نکلے۔ جو بھی اسمبلی میں جاتا ہے عوام کی طاقت سے جاتا ہے، حضرت عمر فاروق (رض) نے فرمایا تھا کہ اگر میں تمہارا امیر المومنین ہوں، صحیح کام کروں تو مجھے چلنے دینا، اگر سمجھیں کہ میں صحیح کام نہیں کر رہا تو گریبان سے پکڑ کر نیچے اتار دینا۔ تو یہ حق عوام کے پاس ہونا چاہئے، اور عوام ہی انشاءاللہ اس کا فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ بہت سے ممالک میں انقلاب آیا ہے لیکن ہم اس انقلاب پر یقین رکھتے ہیں جو حضور (ص) نے ہمیں طریقہ بتایا ہے۔ انہوں نے 13 سالہ زندگی مکہ کے اندر گزاری ہے، ہم اس نبی (ص) کے پیروکار ہیں، جن پر اوجھڑی بھی پھینکی گئی، آپ (ص) کے راستے میں کانٹے بھی بچھائے گئے، آپ (ص) کے جسم پاک کو پتھر مار کر لہولہان بھی کیا گیا، لیکن آپ (ص) نے کسی کیخلاف بدعا کرنے کیلئے ہاتھ تک نہیں اٹھایا۔ ہمارے نبی (ص) وہ آخر الزماں ہیں کہ جن میں اتنی برداشت ہے، جو اپنی تعلیمات اور زندگی کے اندر اتنی برداشت دے رہا ہے، ہم انہی کے پیروکار ہیں اور ہمیں انہی کا پیروکار بن کر رہنا ہے اور انہی کے طرز عمل کو اپنانا ہے۔ اللہ تعالی انہی کی پیروی کرنے والوں کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے گا۔

اسلام ٹائمز: ملک شدید ترین دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، اس کے تدارک کیلئے کیا اقدامات کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔؟
مشتاق علی سہروردی: بالکل جی، ملک دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، یہ جو صورتحال ہے اس میں ہمارے اندرونی لوگ بھی شامل ہیں، لیکن اس سے زیادہ بیرونی طاقتیں شامل ہیں۔ بیرونی ایجنسیوں کے لوگ ہمارے ملک میں داخل ہوچکے ہیں، اور وہ اس کے ذریعے ہمارے ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان سے یہ دہشتگردی کنٹرول نہیں ہو رہی، یہ پوری کی پوری حکومت ناکام ہوچکی ہے، اور یہ اہلیت ان میں نہیں کہ ان لوگوں کو ختم کرسکیں۔ لہذا ایک ہی حل ہے اس کا کہ آئیں اور تمام طاقتیں ملکر اپنی فوجیں پاکستان بھجوائیں، جس طرح افغانستان بھجوائی گئی ہیں، پاکستان ایٹمی قوت ہے اور کہیں اس کے ایٹمی اثاثے ان لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ اس لئے ڈاکٹر صاحب نے یہ نعرہ دیا ہے کہ سیاست کی بات نہ کرو، ریاست کی بات کرو۔ سیاست نہیں ریاست بچاو۔

اسلام ٹائمز: حکومت کی جانب سے کیا 23 دسمبر کے اجتماع کیلئے کسی قسم کی مشکلات پیدا کی جا رہیں اور سکیورٹی و دیگر انتظامات میں کس حد تک تعاون کیا جا رہا ہے۔؟
مشتاق علی سہروردی: ہم نے بتایا ہے کہ ہم پرامن لوگ ہیں، ہر انسان کا جمہوری حق ہے، کیا عمران جلسے کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں کر رہا؟ کیا دیگر سیاسی جماعتیں اپنے اپنے جلسے کرکے طاقت کا مظاہر نہیں کر رہیں، تو ڈاکٹر طاہر القادری کو پاکستان میں اپنی طاقت کا اظہار کرنے کی اجازت کیوں نہ دی جائے۔

اسلام ٹائمز: آخر میں اسلام ٹائمز کے توسط سے 23 دسمبر کے حوالے سے قوم کو کوئی پیغام دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔؟
مشتاق علی سہروردی: میں منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے اور ڈاکٹر طاہر القادری کا خادم ہونے کے ناطے یہ اپنی ملت اور قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آئیں اور اس ملک و قوم کو بچائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے۔
اب بھی نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے مسلمانو
تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں

یہ وقت آنے والا ہے، اس سے پہلے کہ ہمارا نام و نشان مٹ جائے، ہمیں آپس میں بغل گیر ہو جانا چاہئے۔ تمام طاقتوں کو مل جانا چاہئے، اور پاکستان کو بچانے کی بات کرنی چاہئے، نہ کہ اپنی سیاست بچانے کی۔ اس میں ہم نے ان لوگوں کو مخاطب کیا ہے جو پاکستان کی دھرتی پر رہنے والے ہیں۔ سالہا سال سے انتخابات کا ڈرامہ ہوتا ہے، پورے پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ 30 سے 40 فیصد ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں اور 60 سال سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ 60 فیصد لوگ ووٹ کاسٹ نہیں کر رہے تو کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ 60 فیصد لوگ ووٹ کیوں نہیں ڈالتے۔ یہ 60 فیصد وہ لوگ ہیں جو پاکستان سے مخلص ہیں، پاکستان کا درد رکھنے والے ہیں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو لوگ کھڑے ہیں یہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو ووٹ دیا جائے۔

ڈاکٹر طاہر القادری ان لوگوں کی آواز بن کر انشاءاللہ 23 دسمبر کو مینار پاکستان پر آئے گا، اور وہی لوگ ان کا استقبال کریں گے، میں آپ کا اور آپ کے ادارے کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنا وقت دیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہماری یہ آواز نہ صرف پاکستان بلکہ باہر کی دنیا تک پہنچے گی، آپ بھی دیکھیں گے اور میں بھی دیکھوں گا کہ ہماری زندگی کے اندر انشاءاللہ یہ ہوگا اور اگر ہماری زندگی میں ایسا نہ ہو سکا تو ایک نہ ایک دن ضرور وہ دن آئے گا۔
خبر کا کوڈ : 222942
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے