1
0
Tuesday 28 Feb 2017 21:24
امریکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کیخلاف منفی طور پر کوئی بہت مؤثر کردار ادا نہیں کر پائیگا

پاکستان، چین، ایران اور روس کا قدرتی طور پر بلاک بن رہا ہے، پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل

حکومت کی تبدیلی ہو یا دہشتگردی، سی پیک منصوبے پر کام بالکل نہیں رُکے گا
پاکستان، چین، ایران اور روس کا قدرتی طور پر بلاک بن رہا ہے، پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل
ماہر معاشیات و پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کے ادارے تحقیقی مرکز برائے اطلاقی معاشیات کی ڈائریکٹر ہیں، جو کہ اقتصادی حوالے سے ملک کا بڑا تھنک ٹینک ہے، وہ جامعہ کراچی کے شعبہ معاشیات سے بیچلرز اور ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد کیمبرج یونیورسٹی (UK) سے ایم فل اور یونیورسٹی آف یارک (UK) سے پی ایچ ڈی مکمل کر چکی ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ کئی سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں بھی انکے لیکچرز کا سلسلہ جاری رہتا ہے، وہ ملکی و غیر ملکی معاشی و اقتصادی صورتحال پر گہری نگاہ رکھتی ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل کیساتھ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے اور اسکو درپیش خطرات سمیت دیگر معاشی و اقتصادی موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: حکومت کے ویژن 2025ء کے بارے میں مختصراً کیا کہیں گی۔؟
پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل:
ویژن 2025ء بھی ڈویلپمنٹ کا ویژن ہے، اس میں بھی اقوام متحدہ کی جانب سے طے کردہ ملینئیم ڈویلپمنٹ گولز (millennium development goals) کے اہداف رکھے گئے ہیں، ویژن 2025ء میں انسداد پولیو سمیت بنیادی صحت، مختلف سیکٹرز میں غربت، اقتصادی نمو و دیگر حوالوں سے سترہ اہداف شامل ہیں۔ اقتصادی نمو میں اربنائزیشن (urbanization) اور انڈسٹرلائزیشن (industrialization) ایک اہم اور بنیادی ہدف کے طور پر شامل ہے، اربنائزیشن اب ایک قدرتی پروسس ہوگیا ہے، پہلے زمانے میں شاید زراعت پر بہت توجہ مرکوز ہوتی تھی، اربنائزیشن کی گروتھ بہت سست تھی، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے، کیونکہ آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا ویژن 2025ء سی پیک منصوبے کی کامیابی سے مشروط نظر آتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل:
ویژن 2025ء سی پیک منصوبے سے ہم آہنگی تو رکھتا ہے، مگر میرا خیال ہے کہ اسے سی پیک منصوبے سے مشروط نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کرنا چاہیئے۔ ویژن 2025ء پر بھی کام تو ہو رہا ہے، اس لئے ان دونوں میں ہم آہنگی نظر آ رہی ہے۔ مشروط نہیں بلکہ ہم آہنگی ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی سرمایہ کاری کا بہت بڑا حصہ انرجی سیکٹر کے پروجیکٹس کیلئے مختص ہے، ویژن 2025ء کے تحت ہونے والی اربنائزیشن اور انڈسٹرلائزیشن کیلئے آپ کو انرجی چاہیئے، بجلی چاہیئے، لہٰذا سی پیک منصوبہ انرجی اور بجلی کی ضروریات کو پورا کریگا۔ اس وجہ سے اسے مشروط سمجھا جا رہا ہے، لیکن یہ ہم آہنگی ہے۔

اسلام ٹائمز: دہشتگردی یا حکومت کی تبدیلی یا دیگر وجوہات کی بناء پر سی پیک منصوبہ تعطل کا شکار ہوسکتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل:
سی پیک منصوبے کی ناکامی یا تعطل کا تو اب آپ سوچ بھی نہیں سکتے، اب سی پیک پر کام بالکل نہیں رک سکتا، چاہے حکومت تبدیل ہو جائے یا دہشتگردی میں خدانخواستہ اضافہ ہو جائے، کیونکہ صرف سیاسی قوتیں ہی نہیں بلکہ عسکری قوتیں بھی اس منصوبے کے پیچھے ہیں، یا یوں کہیں کہ سیاسی و عسکری قوتیں، دونوں سی پیک منصوبے کے پیچھے کھڑی ہیں، اب یہ منصوبہ کسی بھی وجہ سے رکنے والا نہیں، جہاں تک دہشتگردی کا معاملہ ہے، ہماری عسکری فورسز اس کو جڑ سے آسانی کے ساتھ ختم کر دینگی۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ سی پیک منصوبے کے تحفظ کیلئے ہی آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا ہے، جسکے نتیجے میں پنجاب میں بھی دہشتگرد عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل:
ہم لوگ اس قسم کے حساس موضوعات پر بہت زیادہ رائے نہیں دیتے ہیں، مختصراً یہ کہ اخبارات اور نیوز چینلز میں آنے والی خبروں کے مطابق جنرل (ر) راحیل شریف کے زمانے میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے نام سے ایک کریک ڈاؤن کیا گیا تھا، اس کے بارے میں کچھ حلقوں کی رائے یہ ہے کہ اس میں کچھ علاقوں خصوصاً پنجاب میں اس شدت کے ساتھ کارروائی نہیں کی گئی تھی، جو کہ دوسرے علاقوں میں کی گئی تھی، پنجاب میں دہشتگردوں کے مراکز اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں ہوا، لہٰذا آج جو دہشتگردوں کا ردعمل نظر آ رہا ہے، وہ پنجاب سے ہی نکل کر آ رہا ہے، لہٰذا اب اس کمی بیشی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں دہشتگرد عناصر اور دہشتگردی بڑی آسانی سے ختم ہو جائے گی۔

اسلام ٹائمز: کیا سی پیک منصوبے پر امریکی بلاک منفی طور پر اثرانداز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل:
امریکہ اس وقت ملکی تاریخ کے بدترین اندرونی بحران کا شکار ہے، امریکہ اس وقت معاشی طور پر عدم مساوات کے بدترین دور سے گزر رہا ہے، انہوں نے برسوں سے سرمایہ دارانہ نظام (capitalism) اپنایا ہوا ہے، اسی سرمایہ دارانہ نظام نے امریکی معاشرے میں زبردست قسم کی عدم مساوات پیدا کر دی ہے، پچھلے بیس تیس سالوں میں محروم طبقے کی تعداد انتہائی زیادہ بڑھ چکی ہے، نظام کی خرابی کا نتیجہ ظاہر سی بات ہے آخر کار نظر آتا ہے، پھر اسکینڈلز میں گھرے ہوئے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو کمال ہی کر دیا ہے، اس صدارتی انتخابات کے بعد امریکی عوام اور معاشرہ مکمل طور پر تقسیم کا شکار ہوچکا ہے، لہٰذا اس وقت امریکہ خود اندرونی طور پر بہت سے سنگین بحرانوں کا شکار ہے، لہٰذا وہ چاہے گا بھی تو سی پیک منصوبے کے خلاف منفی طور پر کوئی بہت مؤثر کردار ادا نہیں کر پائے گا۔

اسلام ٹائمز: ایران کی سی پیک منصوبے میں شمولیت کو کس نگاہ سے دیکھتی ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل:
میرا خیال ہے کہ ایران سی پیک منصوبے میں خودبخود شامل ہوگا، ہمیں پتہ ہونا چاہیئے کہ پاکستان کے ساتھ چین کے اس منصوبے میں ساٹھ سے زائد ممالک حصہ بنیں گے، اس میں مغربی ممالک بھی شامل ہونگے، حتٰی کہ پاکستان بھی اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن بنیادی طور پر اس کا سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہی ہوگا۔ بہرحال یہ ایران کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا، پاک ایران تعلقات میں بھی بہتری آئے گی، کیونکہ دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب قومیں، علاقے یا لوگ ایک دوسرے کے اوپر معاشی طور پر انحصار کرتے ہیں، جہاں معاشی مفادات ایک ہو جاتے ہیں تو باقی دوسرے اختلافات ویسے ہی ختم ہو جاتے ہیں، پھر اختلافات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

اسلام ٹائمز: اقتصادی راہداری منصوبہ اور دیگر حوالوں سے پاکستان، چین، ایران اور روس ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے جا رہے ہیں، کیا کوئی اقتصادی یا اسٹراٹیجک بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیل:
اسٹراٹیجک بلاک کے بغیر اکنامک بلاک نہیں بنتے یا نہیں چل سکتے، اسٹراٹیجک بلاک ایک طرح سے اکنامک بلاک کو سپورٹ کرتا ہے، کور کرتا ہے، اکنامک اسٹراٹیجی، جغرافیائی و سیاسی اسٹراٹیجی کے ساتھ مکمل انٹرلنک (Interlink) ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سی پیک منصوبے کو لیکر کچھ ممالک تحفظات کا شکار ہیں، پیوٹن کی قیادت میں روس نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان، چین، ایران اور روس کا بلاک قدرتی طور پر بن رہا ہے، اس میں بہت کم کوششوں کی ضرورت ہے، حالات خود ہی اس کی طرف لے کر جا رہے ہیں کہ یہ علاقائی بلاک بنے گا۔
خبر کا کوڈ : 613807
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

علی جعفر
Pakistan
پروفیسر صاحبہ کا مؤقف کافی بہتر ہے، عموماً لبرل افراد سے ایسی گفتگو کی توقع کم ہوتی ہے۔
منتخب