1
Saturday 18 May 2019 12:08

غیرت نہ ہو تو چالیس ملکوں کا الائنس کچھ نہیں کر پاتا، غیرت ہو تو تین سو تیرہ کافی ہیں، شہیر سیالوی

غیرت نہ ہو تو چالیس ملکوں کا الائنس کچھ نہیں کر پاتا، غیرت ہو تو تین سو تیرہ کافی ہیں، شہیر سیالوی
اسٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کے سربراہ اور نوجوان بریلوی رہنماء شہیر سیالوی ملک گیر روابط اور شعلہ بیانی کیوجہ سے معروف ہیں۔ معروف بریلوی درگاہ آستانہ سیال شریف کے مرید ہیں۔ نوجوانی کے باوجود اپنے مکتب فکر میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ دہشتگردی، حکومتی پالیسیوں اور بریلوی مکتب فکر کیطرف سے مخصوص طرز عمل پہ مبنی گروہوں کے کردار سمیت اہم ایشوز پر انکے ساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

 اسلام ٹائمز: حالیہ دنوں میں داتا دربار کو پھر دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ہے، پرامن لوگوں کو نشانہ بنانے کے کیا محرکات ہوسکتے ہیں۔؟
شہیر سیالوی:
یہ ایک سادہ مسئلہ ہے، لیکن ہمیں ہمیشہ کسی نہ کسی تماشے کی طرف متوجہ کرکے گمراہ کیا جاتا ہے، ایک طرف بریلوی مکتب فکر کے لیڈر کو گرفتار کیا جاتا ہے، دوسری طرف آسیہ ملعونہ کو رہا کر دیا جاتا ہے، ان دنوں پھر ایسا ہی ہوا، وجہ یہ تھی کہ بریلویوں کو سڑک پہ کوئی نہ لا سکے، داتا دربار دھماکوں کی بھی ایسی ہی وجوہات ہیں کہ لوگوں کی توجہ کسی اور طرف ہو جائیگی، تاکہ کسی کو پتہ ہی نہ چلے کہ آسیہ ملک سے باہر بھاگ گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر بریلویوں کے علاوہ کوئی دیوبندی یا بریلوی آسیہ ملعونہ کو ملک سے باہر بھیجنے کیخلاف احتجاج کرے تو داتا دربار دھماکے کا کیس اس پر ڈال دو۔ پھر بریلوی بھی اسی بات کو مان لیں کہ یہ وہابی تھا، دھماکہ بھی اسی نے کیا ہوگا، اس سے پہلے بھی دھرنے ختم کروانے کیلئے اسی طرح کی دہشت گردی کروائی گئی تھی۔

جب ممتاز قادری کا چالیسواں تھا تو مسیحیوں کی آبادی میں لاہور دھماکہ کروایا گیا۔ اس میں زیادہ مسلمان شہید ہوئے تھے، اس کے علاوہ جب جب دھماکے ہوئے ہیں، اس کا پس منظر دیکھ لیں، جب پوری قوم مارچ کر رہی تھی گستاخانہ فلموں کیخلاف امریکی ایمبیسی کی طرف، اس وقت ملالہ پر حملہ کروایا گیا، ساری قوم کو اس طرف متوجہ کر دیا، اب یہی کھیل ہے جو کھیلا گیا ہے۔ پھر انہوں نے رمضان میں آسیہ کو بھجوایا ہے کہ یہ لوگ کیسے بھوکے پیاسے دھرنا دینگے، کیسے باہر نکلیں گے، پھر وہ تو جا چکی ہے، کس کے خلاف اب احتجاج کرو گے، وہ تو جا چکی ہے، احتجاج سے اس نے کونسا واپس آنا ہے۔

ساتھ ہی جن لوگوں نے احتجاج کرنا تھا، ان سب کو اٹھا کر جیل میں پھینکا گیا، اس سے پہلے بھی جب شیعہ سنی سب اکٹھے ہوئے تھے تو جنید جمشید پہ حملہ کروایا گیا تھا، اس کے بعد سے دیوبندی اور بریلوی الگ الگ ہوگئے، اب داتا دربار پر حملہ کروایا گیا ہے، ہم لوگ بس پہلے ہی اپنے اپنے فرقوں میں بٹ کر الگ الگ لگے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو تقسیم ک کے رول کرنیکی پالیسی کے تحت لڑایا جا رہا ہے، ناموس رسالتؐ پر حملے ہو رہے ہیں اور مسلمان لسانیت، صوبایئت اور فرقہ واریت پہ آپس میں لڑ رہے ہیں، اب پانی سر سے گزر چکا ہے، یہ وقت سونے کا نہیں، بیدار ہونے کا ہے۔

اسلام ٹائمز: اس کھیل کے پیچھے کونسی قوتیں ہیں، جو مسلمانوں کو اکٹھا نہیں ہونے دے رہیں۔؟
شہیر سیالوی:
یہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے دشمن ہیں، جب تک ان کے گریبان کو نہیں پکڑیں گے، مسلمان عزت حاصل نہیں کر پائیں گے، یہ ڈوریں کہیں اور سے ہل رہی ہیں۔ اس کے پیچھے وہی قوتیں ہیں، جو آئین سے ناموس رسالتؐ کے تحفظ کی دفعات ختم کروانا چاہتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آسیہ ملعونہ کو رہا کروایا اور اسے باہر بھجوایا۔ جن ججز نے یہ فیصلہ دیا تھا، انہیں پتہ ہونا چاہیئے کہ جس دن آسیہ نے کینیڈا میں آرٹیکل 295 سی کے بارے میں کوئی بات کی، ہم انکا گریبان پکڑیں گے۔ یہ ثابت ہو جائیگا کہ ان لوگوں نے جو بھی فیصلے کیے، وہ کسی اور کے پریشر میں کیے تھے۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی نوجوان مغربی تہذیب کے دلدادہ ہیں، اس سے نجات کیسے ممکن ہے۔؟
شہیر سیالوی:
یہ بس توجہ کی بات ہے، اقبال کا پیغام ہی اس کے لیے کافی ہے، جب علامہ اقبال مغرب سے واپس آئے تو سب لوگوں نے ان سے پوچھا کہ وہاں کیا دیکھا، ترقی یافتہ دنیا کو کیسا پایا تو آپ نے کہا کہ
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

پھر مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ کسی غیر کے آگے نہیں جھکتا، مسلمان کی اصل پہچان ہی غیرت ہے، خودی اور خودداری ہے، مسلمان محمود غزنوی کی طرح بت شکن ہے، بت فروش نہیں، انہیں پورے ہندوستان سے ہیرے جواہرات اور اموال اکٹھے کرکے دیئے گئے تھے کہ یہ لے لو اور سومنات کو چھوڑ دو، لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ تاریخ مجھے معاف نہیں کریگی، اس احساس کا نام خودی ہے، جو ہر مسلمان بالخصوص نوجوان کا خاصہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح اسپین میں بھی عیسائی لشکر مسلمانوں کے لشکر سے دس بارہ گنا زیادہ تھا، لیکن انہوں نے جذبہ ایمانی کے بل بوتے پر آگے موو کیا تھا، منہ نہیں موڑا، گھبرائے نہیں۔ اسوقت پورے لشکر نے شہادت یا فتح کا نعرہ لگایا۔ یہ خاصہ ہے مسلمان نوجوان کا، یہ ہماری میراث ہے۔

یہی ہمارا سرمایہ ہے۔ آج ضرورت ہے کہ بچوں کو نصاب میں یہ تعلیمات دی جائیں، تو کیسے مسلمان، غیور اور جسور قوم نہیں بنتے۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے بچوں کا رول ماڈل ہیری پوٹر نہیں ٹیپو سلطان اور محمد بن قاسم ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ استاد اور تعلیمی نظام قوم کا مستقبل بناتے بھی ہیں اور برباد بھی کرتے ہیں، اگر ہم اپنا نصاب اور نظام تعلیم مغرب سے لیں گے، تو اسکا نتیجہ یہی ہوگا۔ اگر یہ روح نصاب میں نہیں ہے تو یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ خود پڑھائیں اپنے بچوں کو، ورنہ وہ مغرب کی چمک دمک کے فریب میں آجائیگا۔ اسکا مطلب ہے کہ خود بخود ہماری نوجوان نسل مغرب کی دلدادہ نہیں ہو رہی بلکہ مغربی نظام اور تہذیب کے نمائندہ تعلیمی سلسلے، اسکولز اور یونیورسٹیز یہ ہماری نسلوں کے رگ و پے میں اتار رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: اقبال اور قائد اعظم کے پاکستان سے فلسطینی مسلمانوں کیلئے وہ آواز کیوں نہیں بلند ہوتی، جسکا اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے۔؟
شہیر سیالوی:
یہ ایک اہم سوال ہے، جو ہر مسلمان پاکستان میں بسنے والوں سے پوچھتا ہے، جو ایک پاکستانی کے جذبات ہیں، اسکی ترجمانی کسی حاکم نے نہیں کی، اب یہ مظالم فلسطین سے شروع ہو کر پوری اسلامی دنیا میں پھیل چکے ہیں، لیکن ہم نے بحیثیت امت مسلمہ اور بطور پاکستانی اسکا جواب نہیں دیا، ہم انہی لوگوں سے قرضے لیتے ہیں، جو یہ مظالم کرتے ہیں، پھر ہم کیسے انکے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔ یہ آواز اسوقت اٹھائی جا سکتی ہے اور تب اس میں طاقت ہوگی، جب ان سے ملنے والی امدادیں اور قرضے مسترد کرینگے۔ معاشی مسائل اپنی جگہ، لیکن کوئی یہ کہے کہ قرضہ لے لو اور اپنی ناموس کو فراموش کر دو تو کیسے ممکن ہے، ہم اس حد تک مردہ ہوچکے ہیں کہ ہمارے بچے قتل ہو رہے ہیں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عصمت دری ہو رہی ہے لیکن معیشت کا رونا روتے ہوئے ان سے قرضے اور امدادیں وصول کر رہے ہیں۔

یہ معاشی مسائل کو ایک طرف رکھ کر عزت اور وقار کی بنیاد پر آواز اٹھائی جائیگی تو کوئی رکاوٹ نہیں محسوس ہوگی۔ ذاتی طور پر اگر ہمیں کہے تو ہم کبھی قبول نہیں کرتے کہ کوئی ہمیں قرضہ دے اور ہم اس کے جوتے پالش کریں، یا کسی کی گاڑی پہ کپڑا مارنے کو تیار نہیں ہونگے۔ قربانی تو ہم دے رہے ہیں، ہمارے لوگ تو جانیں قربان کر رہے ہیں، کبھی دھماکوں میں، کبھی حادثوں میں، کبھی فرقہ وارانہ قتل و غارت میں، کبھی ٹارگٹ کلنگ میں، پھر کیوں نہ ضمیر کی آواز پہ لبیک کہتے ہوئے فلسطین اور کشمیر سمیت جہاں بھی ظلم ہوتا ہے، اسکے آواز اٹھائیں اور اٹھنے والی آوازوں کا حصہ بنیں۔
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو


اب یہ ان استعماری طاقتوں کا مطالبہ ہوتا ہے کہ اپنے تعلیمی نصاب سے سیرت کے ابواب نکال دو، چاہیے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ ہو یا اہلبیتؑ اور صحابہ کرام کی زندگی۔ اگر کچھ باقی بھی ہے تو اس میں حقیقی پیغام نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ دفاعی بجٹ اور تحقیق کیلئے بجٹ کو زیر بحث لایا جاتا ہے، جس سے فوج اور عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں، یہ انہی شرائط کی وجہ سے کہ آسیہ کو رہا کر دیں اور عافیہ کا نام بھی نہ لیں۔ آئی ایم ایف جیسے ادارے ان طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ اصل چیز غیرت ہے، غیرت نہ ہو تو چالیس ملکوں کا الائنس کچھ نہیں کر پاتا، غیرت ہو تو تین سو تیرہ کافی ہیں۔

اسلام ٹائمز: معمول کے عدالتی فیصلوں کو عالمی سازش کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔؟
شہیر سیالوی:
یہ معاملہ اس حد تک محدود نہیں بلکہ جب ایک شخص کو عالمی دباؤ پر پھانسی دی جاتی ہے تو ساٹھ لاکھ افراد اس کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں، یہ لوگ کون ہیں، یہ ان رہنماؤں اور پیروں کے پیروکار ہیں، جنہوں نے پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا، یہ پیر آف مانکی شریف، پیر پگاڑا، خواجہ قمرالدین سیالوی اور پیر جماعت علی شاہ کے ماننے والے ہیں، جنہیں اس بات پر اکسانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ملکی اداروں سے بدظن ہو جائیں، تاکہ پاکستان کی بنیادیں ہی کمزور پڑ جائیں۔ یہ وہ طبقہ تھا، جو ہمیشہ اداروں کا حامی رہا ہے، اب یہی طبقہ اداروں پر سوال اٹھا رہا ہے، اس میں نقصان کس کا ہے، پاکستان کا۔

ہماری قوم ملک کیلئے ایثار کرنا جانتی ہے، ضرورت صرف یہ ہے کہ حکمران طبقہ بشمول اسٹیبلشمنٹ قوم کو اعتماد میں لیکر چلیں۔ جو قوم خون دے سکتی ہے، وہ ڈیم فنڈ کیوں نہیں دے سکتی، فرق صرف یہ ہے کہ ہمارا جج جب احمدیوں سے بھی فنڈ قبول کرتا ہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی اور قومی امنگوں کا خون ہوتا ہے، کیونکہ ایک طرف ختم نبوت کے تحفظ کی جنگ چل رہی ہے، دوسری طرف پاکستان کی بقاء کے نام پر قادیانیوں سے چندے وصول کیے جا رہے ہیں، اس میں قومی یکجہتی اور اتحاد پارہ پارہ ہو رہا ہے، یہ کون کروا رہا ہے، یہ ایک عالمی ایجنڈا ہے، جس کی وجہ سے پہلے ہی ملک دولخت ہوا اور اب یہی قوتیں پاکستان کو کمزور کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت کا بھی یہی بیانیہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کرکے قرضوں سے ملک کو نجات دلائی جائے، کیا کہیں گے۔؟
شہیر سیالوی:
اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، یہ سیاستدانوں کی طرف سے عوام کو دھوکہ ہوتا ہے، جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق مشہور ہے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں اپنے بیٹے کو اسٹیج سے اتار دیا کہ جا کر عوام کیساتھ بیٹھیں کہ لوگ نیچے بیٹھے ہیں اور ذوالفقار بھٹو کا بیٹا کرسی پر بیٹھا ہے، لیکن بعد میں جب پوچھا گیا تو انہوں خود ہی اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ وہ اسٹیج پر آکر بیٹھے، انکا مقصد عام آدمی کو یہ احساس دلانا تھا کہ انہیں عوام کا کتنا خیال ہے، یہ پچھلی کئی دہائیوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ جب فواد چوہدری صاحب قادیانیوں کے حق میں بیانات دیتے ہیں۔

ساتھ ہی یہ شوشہ بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ ہم برطانیہ سے کوہ نور ہیرا واپس لائیں گے، یہی لوگ تھے جو تحریک لبیک کے دھرنوں میں شامل بھی ہوئے، لیکن انکی اصلیت کھل کر سامنے آگئی ہے، انہوں نے ہی عالمی دباؤ پر سارا کیس خراب کیا اور ملعونہ کو باہر بھیج دیا۔ یہ لوگ زبان سے عشق رسولؐ کا دم بھی بھرتے ہیں اور امریکہ اور یورپ کو راضی کرنے کیلئے سارے اقدامات بھی کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسولؐ اور عاشقان رسولؐ سے دھوکہ کرسکتے ہیں، وہ پاکستان اور پاکستانی مفادات کے محافظ کیسے ہوسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ مناسب ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی موجودگی میں لوگ اٹھیں اور خود سے کسی کو مار دیں، کیا اس سے پھیلنے والی انارکی پاکستان اور مسلمانوں کیلیے بدنامی کا سبب نہیں ہوتی۔؟
شہیر سیالوی:
یہ جو لوگوں کی طرف سے خود اٹھ کر کسی کو مارنے والی بات ہے، اس پر ایک مثال جو باچہ خان یونیورسٹی کا واقعہ اسی کے حقائق کو سامنے رکھ کر کہوں گا کہ ادارے ہوں یا ریاست، یہ خود ایسا موقع فراہم کرتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے عام مسلمانوں کے جذبات سے کھیلواڑ کرنے والی بڑی منظم طاقت ہوتی ہے، جس سے پاکستانی معاشرے کے اسلامی تشخص کو بھی داغدار کیا جاتا ہے اور ریاست کو بھی بدنام کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ میں قتل ہونیوالے مشال خان کو یونیورسٹی نے خارجہ کر دیا تھا، جسکا نوٹس لگایا گیا تھا کہ وہ توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوا ہے، اس کے بعد اشتعال پھیلا، اس کے ماموں اور رشتہ داروں نے گواہی دی کہ ہم نے اسکا جنازہ اس لیے نہیں پڑھا کہ وہ اور اسکا والد ملحد ہوچکے ہیں۔

پھر اس کے والد ملالہ کے والد کیساتھ برطانیہ میں کیا کر رہے ہیں، کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پر ایمان رکھتا ہو اور وہ گوروں کے در چلا جائے، جن لوگوں کو اس قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا، وہ کسی مدرسے کے طالب علم نہیں تھے، اے این پی اور پی ٹی آئی کے ذمہ دار لوگ تھے، جن وکیلوں نے انکا مقدمہ لڑا، انہوں نے کوئی فیس نہیں لی، پھر برطانیہ میں کون ہے جو مظلوموں کا سہارا بننے کیلئے پہلے ہی تیار بیٹھا ہوتا ہے، ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے فوج کیخلاف کتاب لکھی، انہوں نے پناہ دی، ملالہ بھی یہی کر رہی ہے، اسکی پناہ گاہ بھی برطانیہ ہے، پاکستان میں دیکھ لیں انکی لابی، یہ لبرل طبقہ کبھی گستاخانہ خاکوں کیخلاف تو نہیں بولا، لیکن گستاخوں کے حق میں آواز ضرور اٹھاتے ہیں۔

بلکہ اگر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کر لے تو انہیں آگ لگ جاتی ہے، یوحنا آباد میں جب دو حفاظ قرآن زندہ جلا دیئے جاتے ہیں تو انہوں نے کبھی بات تک نہیں کی، اس کی مذمت تک نہیں کی۔ کسی کا بھی قانون ہاتھ میں لینا درست نہیں، لیکن یہ بھی انصاف نہیں کہ مسلمان اور اسلام دشمنی پہ مبنی سازشوں اور مںصوبوں سے آنکھیں بند کر لی جائیں۔ یہ مسئلہ صرف توہین رسالتؐ تک محدود نہیں، پاکستان جیسے ملک میں لوگوں کو نوجوانوں کو ملحد بنایا جا رہا ہے، لوگ مرتد ہو رہے ہیں، یہ کھلے عام ہو رہا ہے، کوئی اس کے کارروائی کرنیوالا نہیں، اسے روکنا علماء سے زیادہ ریاست کی ذمہ داری ہے، جو غیروں کے ایجنڈے پہ چلائی جا رہی ہے، یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے، اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
خبر کا کوڈ : 794860
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے