0
Monday 14 Nov 2011 22:33

شاہ محمود قریشی کے سیاسی سفر کا احوال

شاہ محمود قریشی کے سیاسی سفر کا احوال
اسلام ٹائمز۔ شاہ محمود قریشی 22 جون 1956ء کو مری میں پیدا ہوئے۔ ایچی سن کالج سے انٹرمیڈیٹ اور ایف سی کالج سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ شاہ محمود قریشی 1983ء میں کیمرج یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آئے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج اپنے آپ کو بھٹو کا سپاہی کہنے والے شاہ محمود قریشی نے دیگر کئی سیاستدانوں کی طرح ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں عملی سیاست کا آغاز کیا۔ یوں وہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور نواز شریف کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ ان کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی 1985ء سے 1988ء تک پنجاب کے گورنر رہے۔ 1988ء میں جنرل ضیاء کی طیارے کے حادثے میں موت کے بعد جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوئے تو شاہ صاحب سابق جرنیل کی بنائی ہوئی جماعت مسلم لیگ کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی بنے اور کابینہ میں بھی شامل ہوئے۔
1993ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نہ صرف ملتان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے بلکہ وفاقی کابینہ میں بھی جگہ پائی۔ شاہ محمود قریشی کا پارٹی کے ان چند رہنماؤں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے 1997ء کے مشکل ترین دور میں قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ملتان کے ضلع ناظم منتخب ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دورہ ملتان کے موقع پر بطور ناظم ان کا استقبال کرنے سے انکار کیا۔ 2002ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے باعث، پارٹی نے جنرل مشرف کی مسلم لیگ ق کے امیدوار میر ظفر اللہ جمالی کے مقابلے میں وزارت عظمی کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا۔
2008ء کے عام انتخابات میں شاہ محمود قریشی ملتان سے ایک بار پھر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ بے نظیر کی شہادت کے باعث، الیکشن میں کامیابی کے بعد، پارٹی میں جب وزارت عظمی کیلئے موزوں امیدوار کا مرحلہ درپیش آیا تو شاہ محمود قریشی کا نام بھی لیا گیا تاہم قرعہ یوسف رضا گیلانی کے نام نکلا اور انہیں وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا۔
امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر پارٹی قیادت سے اختلاف کے باعث رواں برس اُن سے خارجہ امور کی وزارت لے لی گئی جس پر شاہ صاحب ناراض ہوئے اور دوسری وزارت قبول کرنے کے بجائے نہ صرف پارٹی سے عملا علیحدگی اختیار کر لی بلکہ ایوان میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے والی اپوزیشن کے ساتھ بھی دکھائی دیئے۔
شاہ محمود قریشی نے پارٹی سے وفاداری کے دعوے اور اعلانات تو کچھ اور کئے لیکن 14 نومبر کو انہوں نے بھٹو کی جماعت کو خداحافظ کہتے ہوئے بے نظیر کے نام پر جیتی ہوئی قومی اسمبلی کی نشست سے بھی استعفی دے دیا۔
خبر کا کوڈ : 114003
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے