0
Saturday 12 Sep 2009 13:19
امریکہ کی ایران کے نئے جوہری پیکج کی مخالفت،روس کی حمایت،افغانستان دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے ہر ممکن تعاون کرینگے،مجتبی ہاشمی

ایران پر حملہ ناقابل قبول ہو گا،ولادی میر پیوٹن

ایران پر حملہ ناقابل قبول ہو گا،ولادی میر پیوٹن
ماسکو:روس کے وزیراعظم ولادی میر پیوٹن نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لئے اس پر کسی فوجی حملے یا نئی اقتصادی پابندی لگانے کے متعلق خبردار کیا ہے۔ ماسکو میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ ایران پر کوئی بھی حملہ بہت خطرناک اور نا قابل قبول ہو گا۔ اور اس سے دہشت گردی پھوٹ پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شک ہے کہ اس قسم کے حملے سے مطلوبہ نتائج نہیں نکلیں گے۔ انہوں نے ایران سے بھی کہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے متعلق تحمل کا مظاہرہ کرے۔ اس سے پہلے روس نے ایران کی پیش کردہ تجاویز پر مثبت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ تجاویز ایسی ہیں جن پر عمل ہو سکتا ہے۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران جامع مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اس کے لئے بھی کہ وہ افغانستان اور عراق میں کیسے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ سلامتی کونسل ایران کے تیل کی درآمدات پر کسی پابندی کی حمایت نہیں کرے گی۔ 
امریکہ کی ایران کے نئے جوہری پیکج کی مخالفت،روس کی حمایت،افغانستان دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے ہر ممکن تعاون کرینگے،مجتبی ہاشمی
واشنگٹن،ماسکو،بیجنگ،تہران:امریکہ نے ایران کی جانب سے عالمی طاقتوں کو پیش کئے گئے نئے ایٹمی پیکج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پیکج میں کوئی بھی نئی بات شامل نہیں اور پرانی تجاویز ایٹمی پروگرام پر عالمی تشویش کو ختم کرنے کیلئے کافی نہیں جبکہ روس اور چین نے کہا ہے کہ ایٹمی پیکج قابل عمل اور اس پر تہران کے ساتھ مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ پانچ صفحات پر مشتمل نئے ایٹمی پیکج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا ایران سے مذاکرات کیلئے تیار ہے اور امید ہے کہ صدر اوباما کی پیشکش کا ایران مثبت جواب دیگا۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کرالی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مجوزہ پیکج اس کے ایٹمی پروگرام سے متعلق ہماری تشویش کا حقیقی جواب نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے
کہ ایران کا نیا پیکج قابل عمل ہے اور اس پر تہران سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ ماسکو میں تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے خلاف تیل کی پابندی کو تسلیم نہیں کرے گی۔ چینی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کا نیا پیکج قابل غور ہے۔ 
ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے عالمی نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے ۔ امریکی اخبار ’’ واشنگٹن پوسٹ ‘‘ سے گفتگو میں ایرانی عہدیدار مجتبیٰ ہاشمی نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا اور ان ہتھیاروں کے خلاف ہے ۔ ان ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے کوئی عالمی نظام قائم کیا جانا چاہئے ۔ اس تجویز کے علاوہ انہوں نے یہ پیش کش بھی کی کہ ایران افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور توانائی کے منصوبوں پر تعاون کے لئے تیار ہے ۔ تاہم یورینیم کی افزدگی کا اپنا پروگرام روکنے پر کوئی بات نہیں کرے گا، امریکا نے کہا ہے کہ نیا ایرانی جوہری پیکج بھی عالمی طاقتوں کی تشویش کو ختم نہیں کرتا جبکہ روس کا کہنا ہے کہ تہران کے پیکج پر مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے چھ عالمی طاقتوں کو پیش کئے گئے نئے ایٹمی پیکج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکام نے کہا کہ تہران کے پیکج میں کوئی بھی نئی بات شامل نہیں اور پرانی تجاویز ایٹمی پروگرام پر عالمی تشویش کو ختم کرنے کیلئے کافی نہیں۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ امریکا ایران سے مذاکرات کیلئے تیار ہے اور امید ہے کہ صدر اوباما کی پیشکش کاایران مثبت جواب دیگا۔دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہاہے کہ ایران کا نیا پیکج قابل عمل ہے اور اس پر تہران سے مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ ماسکو میں تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے خلاف تیل کی پابندی کو تسلیم نہیں کرے گی۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ ایران تیل کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور ایران کی جانب سے اگر تیل پر پابندیاں عائد ہوئیں تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کی حمایت نہیں کرے گی ۔ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ایران نے بڑی عالمی طاقتوں کو جو تجویز پیش کی ہے اس کی بنیاد پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

خبر کا کوڈ : 11508
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے