0
Saturday 2 Jun 2012 14:40

مغربی طاقتیں شام میں خانہ جنگی شروع کروانے کی سازشیں کر رہی ہیں، امریکی تجزیہ نگار

مغربی طاقتیں شام میں خانہ جنگی شروع کروانے کی سازشیں کر رہی ہیں، امریکی تجزیہ نگار
اسلام ٹائمز- پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ایک معروف تجزیہ نگار جناب جف اسٹائن برگ نے کہا ہے کہ سب کو اس حقیقت کا اچھی طرح علم ہے کہ شام مخالف مغربی اور عربی ممالک جن میں سعودی عرب، قطر، برطانیہ، فرانس اور امریکہ بھی شامل ہیں کی جانب سے کروڑوں ڈالر کا اسلحہ اور مالی امداد القاعدہ سمیت شام کے حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کے عضو ممالک جیسے برطانیہ، فرانس اور امریکہ بظاہر تو سابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ جناب کوفی عنان کی جانب سے شام کیلئے پیش کردہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں لیکن درپردہ شام میں خانہ جنگی پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔
جناب جف اسٹائن برگ نے شام میں اقوام متحدہ کے نگران وفد کے سربراہ جنرل رابرٹ موڈ کی جانب سے شام کے علاقے حولہ میں عام افراد کے قتل عام کی ذمہ داری شام حکومت پر عائد کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "درحقیقت ایسا نہیں ہے، اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے جناب جعفری نے روسی نمائندے کے بعد اس بات پر زور دیا کہ جنرل موڈ کے پاس اپنے اس دعوے کا کوئی ثبوت موجود نہیں"۔
شام حکومت کی جانب سے حولہ میں قتل عام کے بارے میں انجام پانے والی تحقیقات کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قتل عام کے ذمہ دار حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہ ہیں۔ یاد رہے اس واقعے میں سو سے زائد عام شہریوں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں کو انتہائی بھیانک انداز میں نزدیک سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ دہشت گردوں نے قتل کئے گئے بچوں کے ہاتھ اور پیر بھی باندھ رکھے تھے جس سے شام مخالف گروہوں کا یہ دعوی کہ یہ افراد شامی فوج کی گولہ باری میں ہلاک ہوئے ہیں واضح طور پر جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔
شام کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ بریگیڈئر قاسم جمال سلیمان نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عینی شاہدین کے مطابق حولہ میں انجام پانے والا قتل عام 600 سے 800 کے لگ بھگ مسلح دہشت گردوں کی کاروائی ہے جنکے پاس بھاری اسلحہ موجود تھا اور انہوں نے اس گاوں کو اپنی اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ بریگیڈئر قاسم جمال سلیمان نے مزید کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس دہشت گردانہ اقدام میں قتل ہونے والے تمام خاندانوں کا تعلق حکومت کے حامی گروہ سے تھا جو حکومت کے خلاف مسلح کاروائیاں انجام دینے کیلئے تیار نہ تھے جس پر مسلح گروہ ان سے سخت ناراض تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں جاں بحق افراد کو انتہائی نزدیک سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور کسی قسم کے ایسے شواہد دریافت نہیں ہوئے جن سے معلوم ہو کہ یہ افراد فوج کی گولہ باری میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
بریگیڈئر قاسم جمال نے کہا کہ مسلح دہشت گرد گروہوں کی جانب سے اس قسم کی کاروائیوں کا مقصد شام کی فوج کو ان علاقوں سے مکمل طور پر بے دخل کرنا اور ان علاقوں کو نو گو ایریاز میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی حکومت اپنے ملک کے بچوں اور خواتین کو قتل کرنا پسند نہیں کرتی اور یہ کام صرف مسلح دہشت گرد گروہوں کا ہی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ واقعہ انجام پایا ہے اس وقت شام کی فوج کا ایک سپاہی بھی اس علاقے میں موجود نہ تھا۔
خبر کا کوڈ : 167628
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب