0
Sunday 21 Oct 2012 18:23

مجرموں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے، وزیراعلیٰ سندھ

مجرموں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے، وزیراعلیٰ سندھ
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صوبہ سندھ باالخصوص کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال اور املاک کو ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور دیگر جرائم پیشہ افراد سے تحفط فراہم کیا جائے۔ یہ احکامات وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاﺅس میں امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دئیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو جرائم پیشہ افراد کی سیاسی، مذہبی اور دیگر پارٹی وابستگی کے بلاتفریق کاروائی کی ہدایات دیں۔ انھوں نے جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کرنے کے لئے شہر کے متاثرہ علاقوں میں مستقل چیک پوسٹس قائم کرنے اور سماج دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھنے کے احکامات دئیے۔

سید قائم علی شاہ نے شہر میں پولیس اور رینجرز کے گشت میں اضافہ کرنے اور اسنیپ چیکنگ سمیت نگرانی کے عمل کو سخت اور مﺅثرکرنے کی بھی ہدایت دی۔ انھوں نے مجرموں کے خلاف علاقوں میں مقدمے پیش کرنے سے قبل ٹھوس اور مؤثر شواہد جمع کرنے پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ایجنسیوں کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاتفریق کاروائی کی ہدایت دیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہر میں بدامنی کی لہر کو ختم کرنے کے لئے آہنی ہاتھوں سے مجرموں کو خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ شہر میں امن کی فضا کو برقرار رکھا جائے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، چیف سیکریٹری سندھ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد خان، آئی جی سندھ پولیس فیاض احمد لغاری، ڈپٹی ڈی جی رینجرز محمد رفیق خان، ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی اقبال محمود، اے آئی جی پولیس سی آئی ڈی، مختلف اداروں کے سربراہان، تمام ڈی آئی جیز پولیس نے امن امان سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں کے خاتمے کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں آئی جی پولیس سندھ نے بتایا کہ کچھ اہم مجرموں کی گرفتاری کے علاوہ آج چار ڈاکو گلشن اقبال میں پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 109 پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں جن میں سے 88 کراچی میں شہید ہوئے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ اکتوبر 2012 کے دوران کراچی میں 158 افراد قتل ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ روڈ / ہائی وے ڈکیتیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 205263
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب