0
Sunday 28 Apr 2013 16:58

تاجر و صنعتکار برادری کا کراچی کو انتخابات سے قبل 3 ہفتوں کیلئے فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ

تاجر و صنعتکار برادری کا کراچی کو انتخابات سے قبل 3 ہفتوں کیلئے فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ
اسلام ٹائمز۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان کے صدر زبیر ملک نے متفقہ طور پر قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کو انتخابات سے قبل تین ہفتوں کے لئے فوج کے حوالے کر دیا جائے۔ کراچی کو فوج کی نگرانی میں اسلحے سے پاک اور پولیس کی سیاسی وابستگی ختم کی جائے۔ یہ بات انہوں نے ایف پی سی سی آئی میں منعقدہ تاجر کنونشن کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر تاجر رہنماء ایس ایم منیر، سابق صدر کراچی چیمبر حاجی شفیق الرحمن، سینیٹر عبدالحسیب خان، نائب صدور ایف پی سی سی آئی گلزار فیروز، رخسانہ جہانگیر، نگراں صوبائی وزیر برائے خوراک اقبال داود پاک والا، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، داود عثمان جھکورا، بیگم سلمیٰ احمد، آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر، ناصر الدین شیخ سمیت دیگر تاجر و صنعتکاروں نے متفقہ طور پر قرارداد کو منظور کیا۔
 
ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر ملک نے کہا کہ تاجر کنونشن میں متفقہ طور پر یہ قرارداد پیش کی ہے کہ نگراں حکومت ہنگامی بنیادوں پر کراچی اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو سیاست سے دور کیا جائے اور پورے ملک سے بجلی کے بحران کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت اپنی ذمہ داری کا دائرہ کار صرف صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد تک نہ رکھے بلکہ دیگر مسائل پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ تاجر رہنماء ایس ایم منیر نے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرے اور توانائی کے شعبے میں موثر سرمایہ کاری کو ممکن بنائے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کے مسئلے سے نجات کا حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چند خفیہ طاقتیں قومی اور صوبائی انتخابات کو ملتوی کرانا چاہتی ہیں لیکن تاجر و صنعتکار برادری ملک میں آئندہ انتخابات کا عمل چاہتی ہے۔ لہذا حکومت انتخابات کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے۔
 
سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ نگراں حکومت کو آئی ایم ایف نے قرضہ دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ ملک کا خزانہ خالی ہو چکا ہے اور ملک میں انتخاباتی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب کراچی میں لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ نائب صدر گلزار فیروز نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی سرپرستی میں ایک پریشر گروپ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں تاجر و صنعتکار شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں پولیس کی تعیناتی تاجر و صنعتکار برادری اور ایف پی سی سی آئی کی مشاورت سے کی جائے۔ حاجی شفیق الرحمن نے کہا کہ ملک میں موجود بڑی کمپنیاں دیوالیہ ہو رہی ہیں اور مقامی مارکیٹوں میں رقم کی ادائیگیاں خطرات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کراچی میں رینجرز اور پولیس کی کاروائیوں پر کہا کہ کراچی میں کب تک پولیس اور رینجرز دھوکہ بازی کرتے رہیں گی۔ پورے کراچی میں آپریشن کے باوجود دھماکے ہو رہے ہیں اور کراچی کی عوام کو دہشت گردوں کے رحم  و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ پاور سیکٹر کی نجکاری کر دی جائے اور لگژری مصنوعات کی درآمدات پر پابندی عائد کر دی جائے۔
خبر کا کوڈ : 258809
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب