0
Thursday 29 Aug 2013 17:54

اسامہ کی تلاش میں امریکہ کو مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کالعدم

اسامہ کی تلاش میں امریکہ کو مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کالعدم
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پشاور ڈویژن کے کمشنر نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کو مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ساتھ روابط اور تنظیم کو فنڈز دینے کے الزام میں دی گئی 33 برس قید اور جرمانے کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت کے فیصلے کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے اور وہ تنظیم کو فنڈز فراہم کرتے تھے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے جعلی ویکسینیشن مہم چلائی تھی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس سزا کے خلاف اپیل کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی اور قبائلی علاقوں کے خصوصی قوانین ایف سی آر کے مطابق کمشنر پشاور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے اپیل کورٹ کے جج کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو تیئس مئی کو تینیس سال کی سزا سنائی گئی تھی اور ابتدا میں یہی کہا جاتا رہا کہ انھیں امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے لیکن ایک ہفتے کے بعد پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے اور وہ تنظیم کو فنڈز فراہم کرتے تھے۔

آج( جمعرات) کمشنر پشاور صاحبزادہ انیس نے اپیل کی سماعت کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آفریدی پر عائد الزامات پر اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ سزا نہیں دے سکتے تھے۔ انھوں نے پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کو ہدایت دی کہ وہ اس کیس کی دوبارہ سے سماعت کریں۔ گزشتہ سال جون میں امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے تحت سنائی گئی 33 سال کی سزا کے خلاف کمشنر پشاور ڈویڑن کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس وقت شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ انھوں نے کمشنر پشاور ڈویڑن کی عدالت میں شکیل آفریدی کی جانب سے ان کے بھائی جمیل آفریدی کے توسط سے اپیل دائر کی ہے جس میں انھوں نے مختلف نکات اٹھائے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ 7 سال سے زیادہ کی سزا کا اختیار نہیں رکھتا جبکہ شکیل آفریدی کو تینتیس سال کی سزا سنائی گئی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔سمیع اللہ آفریدی کے مطابق اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت میں شکیل آفریدی کو دفاع کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی انھیں یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کوئی وکیل مقرر کر سکتے اس لیے یہ سزا آئین کے خلاف ہے۔
خبر کا کوڈ : 296765
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب