0
Thursday 19 Sep 2013 14:16

این پی ٹی معاہدے میں موجود حقوق سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے، ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا، حسن روحانی

این پی ٹی معاہدے میں موجود حقوق سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے، ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا، حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور نہ ہی اس نے اس سمت آج تک کوئی قدم بڑھایا ہے۔ ایک امریکی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ انہیں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے اور کسی بھی معاہدے تک پہچنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ایرانی صدر نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ان کا ملک این پی ٹی معاہدے کا رکن ہونے کی حیثیت سے اس معاہدے میں رکن ممالک کے لئے ذکر شدہ حقوق سے زیادہ کچھ نہیں چاہتا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے حال ہی میں صدر اوباما کی جانب سے انہیں بھیجے گئے خط کو "تعمیری اور مثبت" قرار دیا۔

 دیگر ذرائع کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ انکا ملک ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا، صدر براک اوباما کے انکے نام خط میں مثبت اشارے ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا کہ کسی بھی حالات میں وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔ صدر حسن روحانی نے کہا صدر اوباما نے انہیں انتخابات میں کامیابی کی مبارکباد کے خط میں کچھ تحفظات کا اظہار کیا، جسکا انہوں نے جواب بھی دیا۔ انہوں نے کہا صدر اوباما کا خط مثبت اور تعمیری تھا۔ صدر روحانی کا انٹرویو آج رات نشر کیا جائے گا۔

ادھر گذشتہ روز وائٹ ہاوٴس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ صدر اوباما اور ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا ہے۔ وائٹ ہاوٴس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا تھا کہ صدر اوباما نے خط میں ایرانی صدر سے کہا ہے کہ امریکہ جوہری تنازع کو اس طرح حل کرنے کو تیار ہے جس کے تحت ایران کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ ثابت کرے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ صدر اوباما نے خط میں کہا کہ ہمیں اس معاملے کو جلد حل کرنا ہوگا کیونکہ اگرچہ ہم بہت عرصے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ان معاملات کو سفارتی طریقوں سے حل کرنے کا امکان ہے، تاہم یہ راستہ ہمیشہ موجود نہیں ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 303297
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب