0
Thursday 6 Feb 2014 19:21

بھارت کے ماتھے کا سیاہ داغ

بھارت کے ماتھے کا سیاہ داغ
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

آج ساری بین الاقوامی برادری دُنیا کے کسی نہ کسی خطے میں آزادی کیلئے لڑنے والوں کی عملی، عسکری، سفارتی یا اخلاقی مدد کر رہی ہے۔ اسی مدد کا نتیجہ ہے کہ وہ سوڈان جو صدیوں سے افریقہ کا دل سمجھا جاتا تھا، اُس میں مٹھی بھر عیسائی آبادی نے طاقتور عیسائی ریاستوں کی مداخلت سے خودمختار ملک بنا لیے۔ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کے ایک جزیرے میں ایشیاء کا پہلا عیسائی ملک ’’ ایسٹ تیمور‘‘ بھی خودمختاری لینے میں کامیاب ہو گیا۔ ان دونوں خطوں میں نہ کوئی آزادی کی تحریک چلی۔ نہ تو لاکھوں شہیدوں کے نئے قبرستان بنے اور نہ ہی سرزمینِ وطن کی کسی بیٹی کی آبرو کا آنچل تار تار ہوا۔ اس کے باوجود حقِ خودارادیت کے نام پر عالمی طور پر تسلیم شدہ ریاستوں کا پیٹ چاک کر کے دو نئے مُلک بنا دیئے گئے۔

نمبر1۔ 16 مارچ 1846ء سے ِ جموں و کشمیر لداخ سمیت ایک خود مختار ریاست تھی۔ ریاست پر برِصغیر کی تقسیم کے اصول پائمال کرتے ہوئے ہندوستان نے اُس وقت فوجی چڑھائی کی جب 24 اکتوبر 1947ء کے دن کشمیری عوام نے اپنی آزادی کا اعلان کیا تب مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے فرار ہوا۔
نمبر 2۔ یہ بھی ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ برِصغیر کی تقسیم کے پلان کے قانون Indian Independence Act 1947 کے مطابق برِصغیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی رات تقسیم ہو چکا تھا۔
نمبر 3۔ بھارت نے جونا گڑھ اور حیدرآباد کی مسلم ریاستوں کے مہاراجوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ الحاق کو اس بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ انہوں نے اپنی ریاستوں کے عوام سے الحاق کے بارے میں نہیں پوچھا۔ جبکہ ریاستِ لداخ، جموں، کشمیر کو بھارت کے ساتھ زبردستی شامل کرنے کے لئے بھارتی افواج نے کون سا ریفرنڈم یا استصوابِ رائے کروایا تھا...؟
نمبر 4۔ پی این بزاز نے اپنی کتاب The History of Struggle for Freedom in Kashmir کے صفحہ نمبر 341 اور آگے تحریر کیا ہے کہ’’ انڈیا کو مائونٹ بیٹن پلان کے تحت مذہبی بنیادوں پر جون 1947ء میں تقسیم کیا گیا۔ اس پلان نے کشمیر کا مستقبل واضح کر دیا کہ یہ پاکستان کے ساتھ ہی وابستہ ہو گا‘‘۔
نمبر 5۔ یکم جنوری 1948ء کے دن انڈیا گورنمنٹ نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے صدر کو ٹیلی گرام بھجوایا جس کی بنیاد پر قرارداد نمبر 38 مورخہ 17 جنوری 1948ء پاس ہوئی۔ جس میں پاک و ہند حکومتوں کو مسئلہ کشمیر پر اقدامات کرنے کے لئے کہا گیا۔
نمبر6۔ یو این سیکورٹی کونسل نے 20جنوری 1948ء کے دن قرارداد نمبر 39 منظور کی اور مسئلہ کے حل کے لئے تین رکنی کمیشن تشکیل دیا۔
نمبر7۔ 21 اپریل 1948ء کو قرارداد نمبر 47 منظور ہوئی جہاں پاکستان اور ہندوستان نے جمہوری طریقے سے کشمیر کے مستقبل کو آزاد اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے (Plebiscite) کے ذریعے طے کرنے پر اتفاقِ رائے کر لیا۔
نمبر8۔ اسی تسلسل میں 3 جون 1948ء کے روز یو این سکیورٹی کونسل نے قرارداد نمبر 51 منظور کی جس کے ذریعے پچھلی تینوں قراردادوں کو مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد پر طے کرکے اقوامِ متحدہ کے Commission of Mediation کو متنازعہ علاقے کا دورہ کرنے اور کشمیر کے مقدمے پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری ہوا۔
نمبر 9۔ ان اقدامات کے تحت یو این کمیشن برائے انڈو پاکستان" "UNCIP نے 13 اگست 1948ء کو پہلی قرارداد نمبر S/1100، پیرا نمبر 75 کے تحت پاس کی اور فوجی آبزرور تعینات کئے۔
نمبر10۔ UNCIP نے دوسری قرارداد 5 جنوری 1949ء نمبرS/1196، پیرا نمبر 15 پاس کی۔ چنانچہ 29 جولائی 1949ء کے دن پاک بھارت عسکری نمائندوں نے سیز فائر لائن ایگریمنٹ پر دستخط کر دیئے۔
نمبر 11۔ 22 دسمبر 1949ء کو سکیورٹی کونسل کے صدر جنرل اے جی ایل، میک ناٹن نے کشمیر کے مقدمے کا آخری حل سکیورٹی کونسل کو پیش کیا جسے پاکستان نے قبول کیا اور بھارت بین الاقوامی برادری سے بھاگ نکلا۔
نمبر12۔ 14 مارچ 1950 کے روز قرارداد نمبر 80 پاس ہوئی اور کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت منظور کرنے پر زور دیا، بھارت نے پھر بین الاقوامی بےایمانی کی۔ ایک اور قرارداد نمبر 91، 30 مارچ 1951 کو پاس ہوئی جبکہ 23 دسمبر 1952ء کو پھر قرارداد منظور ہوئی۔
نمبر 13۔ 24جنوری 1957ء کے دن سیکورٹی کونسل نے پچھلی تمام قراردادوں کو زندہ کرتے ہوئے ایک اور قرارداد منظور کی۔
نمبر 14۔ 1965ء میں پانچ مسلسل قراردادیں پھر منظور ہوئیں۔4 ستمبر1965ء قرارداد نمبر 209، 6 ستمبر قرارداد نمبر 210، 20 ستمبر قرارداد نمبر 211، 27 ستمبر، قرارداد نمبر 214 اور 5 نومبر کے روز قرارداد نمبر 215 پاس ہوئی۔
یہ ساری قراردادیں بھارت کے ماتھے کا بین الاقوامی سیاہ داغ بن چکی ہیں۔ کشمیر کا مقدمہ پاکستانی اور کشمیری حکمرانوں کا منتظر ہے کہ کب وہ اسے عالمی عدالت میں پیش کرتے ہیں...؟
خبر کا کوڈ : 348778
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب