0
Sunday 2 Nov 2014 14:25

کراچی، عاشورا کے حوالے سے سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دیدی گئی، فوجی دستے تعینات

کراچی، عاشورا کے حوالے سے سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دیدی گئی، فوجی دستے تعینات
ترتیب و تزئین: ایس زیڈ ایچ جعفری

محکمہ داخلہ سندھ نے 9 اور 10 محرم کے سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے، سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، پاک فوج کے دستے پولیس اور رینجرز کی مدد کیلئے تعینات کر دیئے گئے ہیں، مرکزی جلوسوں کی سکیورٹی کیلئے 20 ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے افسران و اہلکار تعینات کئے جائیں گے، 8 سے 10 محرم الحرام تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، لائسنس یافتہ اسلحہ لے کر چلنے، اس کی نمائش کرنے اور ہیلی کیم (ڈرون) کیمرے سے میڈیا کوریج کرنے پر بھی پابندی ہوگی، جلوسوں کی نگرانی 1250 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کی جائے گی جبکہ جلوس کے راستوں میں بلند عمارتوں پر دوربینوں سے لیس 100 سے زائد شارپ شوٹرز کو تعینات کیا جائے گا۔ یوم عاشور کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کے تحت جلوس کے مرکزی راستے ایم اے جناح روڈ پر دکانوں کو سیل کرنے کا عمل ہفتے کو رات گئے تک مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ صدر ریگل چوک، ایم اے جناح روڈ، نمائش، کھارادر اور دیگر اہم مقامات پر 150 سے زائد کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔ اس موقع پر سیل کی جانے والی دکانوں کے مالکان بھی موجود تھے۔

ایم اے جناح روڈ 9 اور 10 محرم کو عام ٹریفک کے لئے بھی بند کر دیا جائے گا، پولیس نے جلوس کے ذیلی راستوں کو سیل کرنے کیلئے کنٹینرز رکھنا شروع کر دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق محرم الحرام کے جلوسوں کے راستوں میں آنے والی تمام رہائشی عمارتوں کے مکینوں کی معلومات پولیس نے گذشتہ ماہ ہی حاصل کرلی تھی، مکینوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 8 سے 10 محرم تک کسی رشتہ دار یا غیر متعلقہ شخص کو اپنے گھر میں قیام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ایم اے جناح روڈ کی طرف کھلنے والی کھڑی، روشن دان یا گیلری کے دروازے کو بھی بند رکھیں گے، جلوس کے دوران فلیٹوں کی بالکونیوں پر بھی کھڑے نہ ہونے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ کراچی میں 9 اور 10 محرم کے جلوسوں کی سکیورٹی کیلئے 20 ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے افسران و اہلکار تعینات کئے جائیں گے، جلوسوں کی نگرانی 1250 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کی جائے گی جبکہ جلوس کے راستوں میں بلند عمارتوں پر دوربینوں سے لیس 100 سے زائد شارپ شوٹرز کو تعینات کیا جائے گا، اس کے علاوہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پولیس اور رینجرز کے 500 کمانڈوز پر مشتمل کوئیک رسپانس فورس بھی تعینات کی جائے گی، یہ فورس مرکزی جلوس اور حساس علاقوں میں تعینات کی جائے گی۔ 

شہر بھر میں 8 سے 10 محرم الحرام تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، لائسنس یافتہ اسلحہ لے کر چلنے، اس کی نمائش کرنے اور ہیلی کیم (ڈرون) کیمرے سے میڈیا کوریج کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کے دستے شہر میں تعینات کر دیئے گئے ہیں، تاہم حالات خراب ہونے پر فوجی دستوں کو صورت حال پر قابو پانے کے لئے طلب کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے 9 اور 10 محرم کے سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے، 9 اور 10 محرم کے جلوسوں کے آغاز سے قبل تمام راستوں کو سراغ رساں کتوں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیموں کی مدد سے کلیئر کرایا جائے گا۔ جلوس کے اطراف میں 100 سے زائد پولیس موبائلیں، 10 بکتر بند گاڑیاں اور 80 سے زائد موٹر سائیکلوں پر مشتمل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا دستہ ہوگا۔ جلوس کی مانیٹرنگ 350 سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کے ایم سی اور پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے کی جائے گی جبکہ جلوس کے اطراف پولیس کی خصوصی کیمروں والی موبائلیں بھی چلیں گی۔ جلوس کے شرکاء کو صرف مخصوص راستوں سے داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔ جلوس میں صرف اسٹیکرز والی گاڑیوں کو چیکنگ کے بعد داخلے کی اجازت ہوگی۔
 
پولیس نے جلوس کے اختتامی پوائنٹ حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر بھی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے ہیں جبکہ نیٹی جیٹی پل کو 10 محرم الحرام کے دن مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا اور صرف تعزیے لیکر آنے والوں کو پل پر آنے کی اجازت دی جائے گی۔ جلوس کی فضائی نگرانی ہیلی کاپٹر سے کی جائے گی جبکہ جلوس کی مانیٹرنگ کیلئے مرکزی کنٹرول روم محکمہ داخلہ میں قائم کر دیا گیا ہے۔ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ جلوس کے راستوں میں آنے والی تمام تجاوزات کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔ جلوس کے ہمراہ فائر بریگیڈ، ریسکیو کی گاڑیاں اور الیکٹرک کا خصوصی عملہ تعینات ہوگا۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے محرم الحرام میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 8 محرم الحرام بروز اتوار تا 10 محرم الحرام بروز منگل تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی تھی، جس کا نافذ ہفتے کی شب 12 بجتے ہی شروع ہوگیا، پابندی کا اطلاق خواتین، بوڑھوں، بارہ سال سے کم عمر بچوں، صحافی حضرات اور قانون نافذکرنے والے اداروں پر نہیں ہوگا۔ 

موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کا اطلاق ہوتے ہی پولیس کی چاندی ہوئی اور ایسے شہری جنھیں یہ یاد نہیں رہا کہ پابندی کا اطلاق ہفتے کی شب بارہ بجے سے ہوجائے گا، پولیس نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور مبینہ طور پر بھاری نذرانے کے عوض انھیں یہ پابند کرکے چھوڑ دیا کہ وہ پابندی کا احترام کریں جبکہ موٹر سائیکل پر سوار دوسرے شخص کو بس یا رکشے میں جانے کا مشورہ دیا کہ آگے کوئی اور نہ پکڑ لے، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی لگتے ہی پولیس ایسی حرکت میں کہ اپنا شکار ڈھونڈنے کے لئے سڑکوں سے گلیوں میں آگئی، اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ پابندی کو لوٹ مار اور کمائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہے۔ علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری پولیس اور رینجرز کی ہے جبکہ پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیس اور رینجرز کی معاونت کیلئے کوئیک ری ایکشن فورس کی صورت میں موجود رہیں گے۔ 

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکھر، حیدرآباد، خیرپور اور دیگر اضلاع میں بھی پاک فوج کے دستے تعینات کئے گئے ہیں جبکہ کراچی کے علاوہ اندرون سندھ کے اضلاع میں پاک فوج کے دستے پنو عاقل چھاؤنی سے تعینات کئے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آرمی کے جوانوں کی تعداد متعلقہ اضلاع کی حساسیت کے تناسب سے ہوگی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری طور پر مدد کیلیے موجود ہوں گے، پاک فوج کے دستوں کی تعیناتی حکومت سندھ کی درخواست پر عمل میں لائی گئی ہے۔ دریں اثناء محکمہ داخلہ سندھ نے 8 سے 10 محرم تک جلوس کے اوقات میں موبائل فون سروس بند رکھنے کی درخواست بھی کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 417727
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے