0
Friday 5 Aug 2016 01:05

امریکی اور اسرائیلی جاسوس ترک حکام کو فریب دینے کیلئے سرگرم ہو گئے، باخبر ذرائع

امریکی اور اسرائیلی جاسوس ترک حکام کو فریب دینے کیلئے سرگرم ہو گئے، باخبر ذرائع
اسلام ٹائمز – بعض آگاہ ذرائع کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں نے ترکی حکومت کو فریب دینے کیلئے وسیع منصوبے پر عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سی آئی اے اور موساد نے اپنے جاسوسوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ترک حکام کی توجہ امریکی اور اسرائیلی جاسوسوں سے ہٹانے کیلئے سرگرم عمل ہو جائیں۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد اور امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کے نفسیاتی آپریشن سیکشن کی نظارت میں انجام پانا ہے۔ نیوز ویب سائٹ "اخبار استنبول" اس بارے میں لکھتی ہے: "موساد اور سی آئی اے کے جاسوسوں کو سونپی گئی ذمہ داریوں میں سے ایک عرب اور ترکی زبان کے اخبارات میں ایسی خبریں اور مقالات شائع کرنا ہیں جن کے نتیجے میں ترکی کے انٹیلی جنس اداروں اور ججز کی توجہ اسرائیلی اور امریکی جاسوسوں سے ہٹ جائے۔

لیکن اس منصوبے کو کیسے جامہ عمل پہنایا جائے گا؟
آگاہ ذرائع نے اس منصوبے کے تحت انجام پانے والے اقدامات کے چند نمونے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسی ویب سائٹ ہے جو خود کو نام نہاد شامی انقلابی تحریک کی حامی قرار دیتی ہے لیکن درحقیقت اس ویب سائٹ کا مالک شام کی سابق بعث پارٹی کا ممبر رہ چکا ہے اور اس وقت اسرائیلی صیہونی رژیم کے اشاروں پر صدر بشار اسد کی مخالفت میں سیاسی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے اور اس نے ایک عیسائی صیہونی رجحانات رکھنے والی تنظیم بھی بنا رکھی ہے جس کا نام "بیت الحریہ" تنظیم رکھا گیا ہے اور یہ تنظیم عالمی سطح پر فتح اللہ گولن گروپ کے ساتھ تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ اسے مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔ اس ویب سائٹ کا نام "کلنا شرکاء" ہے اور اس کا مالک کینیڈا کا شہری ہے جو اب تک کئی بار اسرائیل کا سفر بھی کر چکا ہے۔ اسی طرح وہ صدر بشار اسد حکومت کے مخالفین کو اسرائیل لے کر جاتا رہتا ہے۔ شام حکومت کا ایک مخالف جسے یہ شخص اسرائیل لے کر گیا تھا "کمال اللبوانی" ہے۔ کمال اللبوانی ایک قومی اتحاد کا رکن ہے۔ جب کمال اللبوانی اسرائیل سے واپس آیا تو قومی اتحاد میں شامل دیگر اراکین نے اس سے دوری کا اظہار کیا۔ کمال اللبوانی بعد میں بھی کئی بار "ایمن عبدالنور" کے ساتھ اسرائیل جا چکا ہے۔ ایمن عبدالنور عیسائی صیہونی نظریات کا حامل شخص ہے جو ماضی میں سابق بعث پارٹی کا رکن رہ چکا ہے اور اس کا شمار موساد کے مشہور جاسوسوں میں ہوتا ہے۔

انجام پانے والی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ایمن عبدالنور نے غلط طور پر خود کو ایک معروف ترک لکھاری کے طور پر متعارف کروا رکھا ہے اور جھوٹے نام "کمال اتاسی اوگلو" کے تحت مطالب شائع کرتا رہتا ہے۔ اس نے "کلنا شرکاء" وہب سائٹ پر بھی ایک مقالہ شائع کیا ہے۔ اس مقالے میں دعوی کیا گیا ہے کہ گولن گروپ نے ایک ایسے تاجر سے تعلقات بنا رکھے ہیں جو شام حکومت اور شام کے انٹیلی جنس اداروں سے منسلک ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایمن عبدالنور کا ایک دوست تاجر مذکورہ بالا تاجر کا مقروض ہے۔ لہذا ایمن عبدالنور جو ایک کینیڈین شہری اور موساد کا جاسوس ہے، نے یہ مقالہ شائع کر کے ایک تیر سے دو نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف تو اس نے غلط مطالب شائع کر کے اسرائیل کی چاکری کی ہے اور دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے سابق شریک نے "راشد الیوسف" کو ٹیلی فون کر کے یہ پیغام پہنچایا کہ وہ متحدہ عرب امارات کا قرضہ معاف کر دے جس کے بدلے اس کا نام بدل دیا جائے گا۔ اسی طرح اس سے کہا گیا کہ وہ اعلانیہ طور پر ویب سائٹ کلنا شرکاء جس کا مالک ایمن عبدالنور ہے سے معافی مانگے۔

ایمن النور اس وقت امریکہ کے سفارتی دفتر سے ضروری مشورہ کرنے دبئی گیا ہوا ہے۔ اس دفتر نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے خلاف میڈیا میں پروپیگنڈہ مہم چلا رکھی ہے جس کے دوران رجب طیب اردگان پر شدید حملے اور تنقید کی جا رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 558077
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے