0
Thursday 26 May 2011 15:45

اسرائیل کا مقابلہ صرف مسلح جدوجہد سے ہی ممکن ہے، سید حسن نصراللہ

اسرائیل کا مقابلہ صرف مسلح جدوجہد سے ہی ممکن ہے، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز- فارس نیوز ایجنسی کے مطابق لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل جناب سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس اور اسرائیلی لابی آیپک (AIPAC) کے اجلاس میں امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی تقریروں سے واضح ہو گیا ہے کہ ہم نے مسلح جدوجہد کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ صحیح، حقیقی اور عاقلانہ راستہ ہے۔ وہ گذشتہ رات جنوب لبنان سے اسرائیل کی عقب نشینی کی 11 ویں سالگرہ کے موقع پر لبنان کے شہر نبی شیت میں عظیم اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اگر ہم اس وقت لبنان میں قومی اتفاق رائے یا عرب ممالک کی جانب سے امن کی کوششوں کی انتظار میں بیٹھ جاتے تو اب تک اسرائیل پورے لبنان پر قابض ہو چکا ہوتا اور اسرائیل لبنان کو دوسرا فلسطین بنا دیتا اور یہاں سے لاکھوں لبنانی شہریوں کو نکال باہر کرتا۔ لیکن حزب اللہ لبنان کی مسلح جدوجہد نے اسرائیل کو جنوبی لبنان چھوڑ کر یہاں سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔
عرب امن منصوبہ ختم ہو جانا چاہئے:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ براک اوباما اور نیتن یاہو نے اپنی تقریروں میں عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے کو تہس نہس کر دیا ہے اور اب اس منصوبے کے ختم ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے سعودی عرب کے بادشاہ ملک عبداللہ کے اس بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عرب امن منصوبہ اب مزید شکست کو برداشت نہیں کر سکتا، عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ اب اس منصوبے پر عملدرآمد کی کوششوں کو ترک کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر کیا اب بھی فلسطینی امریکہ سے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ انکی حمایت میں کوئی قدم اٹھائے گا؟۔ وہ امریکہ جس نے فلسطینیوں کو دھمکی دی ہے اور سلامتی کونسل میں مخالفت کا ووٹ ڈال کر انکے مطالبات کو پورا ہونے سے روک دیا ہے۔
فلسطینی اور عرب باشندے اسلامی مزاحمت کے پرچم تلے جمع ہو جائیں:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل جناب سید حسن نصراللہ نے فلسطینی شہریوں
اور عرب باشندوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی مزاحمت کے پرچم تلے جمع ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آج یوم آزادی اور جشن آزادی کے موقع پر ایک بار پھر اس بات کو دہراتا ہوں کہ فلسطینییوں کے پاس اپنی آزادی کے حصول کیلئے صرف اور صرف مسلح جدوجہد کا راستہ ہے اور میں ان سے چاہتا ہوں کہ وہ مزاحمت اور مسلح جدوجہد کے پرچم تلے جمع ہو جائیں۔
سید حسن نصراللہ نے عرب ممالک اور عالم اسلام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مزاحمت کے علاوہ کسی اور راستے کے بارے میں نہ سوچیں۔
مصر اور تیونس کے انقلاب ابھی اپنے اصلی مقصد تک نہیں پہنچے:
سید حسن نصراللہ نے اپنی تقریر میں مصر اور تیونس میں رونما ہونے والے عوامی انقلابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں پیدا ہونے والی عوامی تحریکیں ابھی تک اپنے اصلی مقصد تک نہیں پہنچی ہیں۔ انہوں نے اسی طرح کہا کہ یمن، لیبیا اور بحرین میں عوامی انقلابات شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خطے میں رونما ہونے والے ان انقلابات کے بارے میں ہمار موقف انتہائی واضح ہے اور دو بنیادی عناصر پر مبنی ہے، ایک یہ کہ اس ملک پر حکمفرما نظام کا اسرائیل کے بارے میں کیا موقف ہے اور دوسرا یہ کہ آیا وہاں پر اصلاحات کا اجراء ممکن ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان تمام عرب اور اسلامی ممالک میں حکومت اور عوام کے درمیان وحدت اور اتحاد کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ عوام کی مشکلات اور انکی پریشانیوں سے آگاہی حاصل کریں اور اپنی اقوام کی حمایت کریں۔
امریکہ اور اسرائیل خطے کی تحریکوں کو اپنے اھداف کیلئے استعمال کرنے کے درپے ہیں:
سید حسن نصراللہ نے براک اوباما اور بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے خطے کی تحریکوں سے متعلق تازہ ترین اظہار نظر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ان عوامی تحریکوں کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے مصر اور تیونس کو مالی امداد دینے جیسے مشکوک اقدامات کی جانب
اشارہ کیا اور کہا کہ اوباما کی تازہ ترین تقریر کا مقصد عرب دنیا میں رونما ہونے والی عربی اسلامی تحریکوں کو اغوا کرنا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے مشرق وسطی میں موجود قدرتی ذخائر کو امریکی پالیسیوں کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ امریکہ نے ان قدرتی وسائل کے ذخائر کیلئے لمبے منصوبے بنا رکھے ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اسی دولت کو ہمارے اور عرب ممالک کے خلاف استعمال کرے۔
انہوں نے خطے کی انقلابی اقوام کو خبردار کیا کہ امریکی پالیسیوں اور منصوبوں سے ہوشیار رہیں اور اسے اجازت نہ دیں کہ وہ انکی جدوجہد کو اپنی آغوش میں لے لے۔
امریکہ عراقی عوام کے مطالبات کا احترام کرے:
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر اوباما اپنے دعووں میں سچے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ عراقی قوم کے اس مطالبے پر توجہ دیں کہ امریکی فوج وہاں سے نکل جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس جائز مطالبے کا احترام کرے اور اپنی فوج کو عراق میں مزید رکھنے کیلئے وہاں کے سیاسی گروہوں پر دباو نہ ڈالے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اب بھی امریکہ اپنے 50 ہزار فوجی سفارتخانے اور قونصلیٹس کی حفاظت کے بہانے عراق میں ہی رکھنا چاہتا ہے۔
امریکہ دنیا بھر میں سیاسی قتل کروا رہا ہے:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سب دنیا والے جانتے ہیں کہ وہ امریکہ جو سیاسی قتل کی بات کرتا ہے خود دنیا میں سب سے زیادہ سیاسی قتل کروانے میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نمونے کے طور پر صرف ایک واقعے کی جانب اشارہ کروں گا اور وہ یہ کہ امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے نے "بئر العبد" میں علامہ فضل اللہ کو قتل کروانے کیلئے بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا جسکے نتیجے میں تقریبا 100 عام لبنانی شہری شہید ہو گئے جن میں سے اکثر تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ لہذا میں کہوں گا کہ جب ایک قاتل ہم پر کوئی الزام لگاتا ہے تو اسکی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ امریکہ سینکڑوں عراقی اور افغانی شہریوں کا قاتل ہے اور یہ دعوا کوئی افسانہ نہیں بلکہ ایسی حقیقت ہے جسے تمام دنیا والے قبول کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 74768
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب