8
7
Sunday 10 Mar 2019 18:09

پاکستان ایران تعلقات کی تاریخ، چند اہم نکات

پاکستان ایران تعلقات کی تاریخ، چند اہم نکات
تحریر: عرفان علی

دنیا میں اس وقت درجنوں ممالک موجود تھے، لیکن جس نے پاکستان کو دنیا بھر میں سب سے پہلے ایک علیحدہ آزاد و خود مختار مملکت قبول کیا، اس ملک کا نام ایران ہے۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کو ستمبر 1947ء میں رکنیت دی تو اس کے پیچھے بھی ایران کی حمایت کارفرما تھی۔ ایران ہی وہ پہلا ملک تھا، جس نے شروع سے کشمیر ایشو پر پاکستان کے موقف کی تائید کی، جو ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد بھی بلا تعطل جاری ہے۔ ایران نے باقاعدہ رسمی معاہدوں کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو منظم قانونی خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا، لیکن بعض وجوہات کی بناء پر پہلے ٹریٹی سطح کے معاہدے پر دستخط ہونے میں کچھ تاخیر ہوئی۔ جس وقت دنیا کے کسی بھی ملک کا کوئی بھی حکمران اس نئی مملکت آنے پر تیار نہیں تھا، تب مارچ 1950ء میں جس ملک کے سربراہ مملکت نے سب سے پہلے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا، وہ بھی صرف اور صرف ایران کا حکمران تھا! دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کا قومی ترانہ بھی ایران کی قومی فارسی زبان میں ہی ہے اور انٹر اسٹیٹ تعلقات کی تاریخ کے تناظر میں کہیں تو ایرانی سربراہ مملکت کی آمد پر یہ ترانہ پہلی مرتبہ بجایا گیا تھا۔

1950ء میں ایران اور پاکستان کے مابین ٹریٹی آف فرینڈ شپ یعنی دوستی کے اعلیٰ ترین سطح کے رسمی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ 1956ء میں ایران و پاکستان کے درمیان ثقافتی معاہدے اور 1957ء میں فضائی سفر کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ دو سال کے مذاکراتی عمل کے بعد 6 فروری 1958ء وہ تاریخی دن تھا جب پاکستان اور ایران نے مشترکہ سرحدوں پر اتفاق کر لیا۔ مشترکہ سرحدوں پر اتفاق پا جانا خود ایک بہت ہی اہم پیش رفت تھی کیونکہ پاکستان کی زمینی سرحدوں پر تینوں پڑوسی ممالک کی سرحدوں کا تعین نہیں کیا گیا تھا، نہ صرف جموں و کشمیر یا شمالی علاقہ جات کی طرف بھارت اور چین اور فاٹا قبائلی علاقہ جات کی طرف افغانستان کے ساتھ سرحدیں متنازعہ تھیں بلکہ رن آف کچھ کی طرف ایک وسیع علاقے میں پاکستان اور بھارت کی سرحدوں کا تعین کرنا ابھی باقی تھا۔ اس طرح ایران وہ پہلا ملک تھا، جس سے سرحدی معاملات سب سے پہلے طے ہوئے۔

1965ء میں رن آف کچھ والی پاک بھارت سرحدوں پر تنازعہ کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے تحت جنیوا میں ثالثی ہو رہی تھی، جہاں پاکستان نے اپنی نمائندگی کے لئے ایرانی سفارتکار نصراللہ انتظام کو منتخب کیا، وہاں بھارت کی نمائندگی یوگوسلاویہ نے کی، جبکہ ثالثی فورم کا سربراہ سوئیڈن سے تعلق رکھتا تھا۔ ایرانی سفارتکار نے پاکستان کا مقدمہ لڑا اور مسئلہ پاکستان کی خواہش کے مطابق حل ہوا۔ ظاہر شاہ کے دور حکومت میں افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے، سبب یہ تھا کہ افغانستان پاکستان میں پشتونستان (پختونستان) کا حامی اور مددگار تھا، لیکن ایران نے افغان حکمران ظاہر شاہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہیں مذکورہ ایشو پر نرم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں کامیاب کردار ادا کیا۔ یہ بھی 1960ء کے عشرے ہی کی بات ہے۔

پاکستان اور ایران دونوں 1955ء کے معاہدہ بغداد یا سینٹو کے تحت اتحادی تھے۔ دونوں ملکوں کے حکمرانوں میں قربتیں اور دوستی ہوا کرتی تھی اور دونوں ملکوں کی اندرونی سیاست اور تبدیلیوں سے پاکستان کی ایران سے دوستی متاثر نہیں ہوا کرتی تھی۔ اس ضمن میں ایک مثال جنرل ایوب خان کی دی جاسکتی ہے، جنہوں نے پاکستان کے پہلے صدر ریٹائرڈ میجر جنرل اسکندر مرزا کو زبردستی صدارت سے ہٹاکر فوجی آمریت قائم کر دی تھی۔ اسکندر مرزا بھی شاہ ایران کے دوست تھے، لیکن ان کو استعفیٰ پر مجبور کرکے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بھی ایران کے ساتھ تعلقات خراب نہیں ہوئے بلکہ پاکستان کا کلیدی اتحادی ایران ہی رہا۔ 9 تا 18 نومبر 1959ء جنرل ایوب خان نے ایران کا ریاستی سطح کا دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے فوجی مشقوں اور کھیلوں کے میلے میں شرکت کی، تہران یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈگری جاری کی۔

مشہد میں جنرل ایوب خان نے امام رضا (ع) کے حرم مطہر میں حاضری بھی دی اور ضریح مقدس کی زیارت بھی کی اور اصفہان و شیراز سمیت مختلف شہر بھی گھومے۔ ایوب خان نے اپنے میزبان ایرانی سربراہ مملکت سے کہا کہ ہم یعنی پاکستان اور ایران دینی لحاظ سے بھی ایک ہیں اور ثقافتی ورثہ بھی مشترکہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے ایران کی زبان (فارسی) اور ادب نے ہم پر اثرانداز رہا ہے۔ جنرل ایوب نے شاہ ایران سے کہا کہ ایران کا ادب ہمارا ادب ہے، ایران کے ہیرو ہمارے ہیرو ہیں، ایران کے دوست پاکستان کے دوست، ایران کے دشمن پاکستان کے دشمن اور پاکستان و ایران دو بدن ہیں مگر ان میں روح ایک ہی ہے۔

حیرت انگیز ضرور ہے لیکن دلچسپ حقیقت یہی ہے کہ امریکا اور دیگر بڑی طاقتوں کے بھارت کی طرف جھکاؤ اور پاکستان کی مدد نہ کرنے کی ڈکٹیشن کے باوجود ایران پاکستان ہی کی مدد کرتا رہا۔ پاکستان، کمیونزم کے خلاف امریکا و برطانیہ کا اتحادی تھا، لیکن یہ دونوں ملک پاکستان کو مشروط معاونت فراہم کرتے تھے اور ان کی شرط یہ تھی کہ انکا فراہم کردہ اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے جبکہ پاکستان کے ساتھ جنگیں لڑتا ہی بھارت تھا۔ چین سے قربت کی وجہ سے امریکی حکومت ذوالفقار علی بھٹو کو ناپسند کرتی تھی۔ پاکستان، ایران اور ترکی تینوں سینٹو اتحاد کے رکن ممالک تھے، لیکن امریکی و برطانوی حکومتوں نے 1965ء کی جنگ کے وقت ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ پاکستان کی مدد نہ کریں۔ ان کی مخالفت کے باوجود ایران نے پاکستان کی فوجی و سفارتی مدد کی، بھارتی حملے کو جارحیت کہہ کر بھارت کو جارح قرار دیا، ایران کی اس حمایت کی وجہ سے بھارت پاکستان کو بین الاقوامی سفارتکاری کے محاذ پر تنہا کرنے میں ناکام رہا۔
 
8 ستمبر 1965ء کو انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائمز نے خبر شائع کی کہ ریڈیو تہران کے مطابق ایرانی حکومت نے کہا کہ ایران خود کو پاکستان کی مدد کرنے کا پابند سمجھتا ہے۔ اس جنگ کے لئے حکومت ایران کی طرف سے پاکستان کو کسی حد تک ملٹری بیک اپ فراہم کیا، جس میں چھوٹا اسلحہ و ایمونیشن، پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کو ایندھن اور گیسولین کی فراہمی اور بھارت کے ممکنہ حملوں سے بچانے کی نیت سے پاکستانی فضائیہ کے کئی طیارے جو ایران بھیجے جاتے رہے، ان کو وہاں اترنے اور رہنے کی اجازت۔ نیو یارک ٹائمز کی خبر مورخہ 14 ستمبر 1965ء کے مطابق بڑی تعداد میں ایرانی جوان گروہ در گروہ تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے جمع ہوئے اور انہوں نے پاکستان کی طرف سے جنگ میں رضاکارانہ شرکت کی پیشکش کی۔ 1967ء میں ایران نے پاکستان کو پچاس ایف 86 سیبر طیارے فراہم کئے، جو کینیڈا کے لائسنس کے تحت تیار کرکے جرمنی کو فروخت کئے گئے تھے اور وہاں سے ایران نے خریدے تھے۔
 
1971ء کی جنگ میں بھی ایران ہی تھا، جس نے پاکستان کی مدد کی تھی۔ بقول جنرل جہانداد خان جب وہ کرنل رینک کے افسر کی حیثیت سے جی ایچ کیو میں ماتحت افسر کی حیثیت سے تعینات تھے، تب بھارتی حملے کے پیش نظر اسلحہ اور فوجوں کی نقل و حرکت کی منصوبہ بندی کی خاطر انہیں کئی مرتبہ ایران جانا پڑا۔ پاکستانی تاریخ کے مشہور سفارتکار جمشید مارکر کے مطابق (اکتوبر 1971ء میں جب ایران میں اڑھائی ہزار سالہ جشن شہنشاہیت کی تقریبات میں دنیا بھر کی حکمران شخصیات جمع تھیں) تب شاہ ایران نے سوویت یونین کے دو بڑے مدبرین پوڈ گورنی اور کوسائیجین کی جنرل یحیٰ ٰخان سے ملاقات کروائی تھی، تاکہ پاکستان اور سوویت یونین کے حکام غلط فہمیاں دور کرکے تعلقات کو بہتر کریں، لیکن دونوں طرف نشے میں دھت فریقین نے ایک دوسرے کو دھمکی آمیز اور نازیبا فقرے اور جوابی فقرے کسے۔

اس کے بعد سوویت یونین نے اگست 1971ء کے بھارت کے ساتھ ٹریٹی آف فرینڈشپ یعنی دوستی کے اعلیٰ ترین سطح کے معاہدے کے تحت بھارت کی بھرپور مدد کرنا شروع کر دی۔ جس دن جمشید مارکر اسلام آباد سے ماسکو کے لئے روانہ ہوئے، جنگ کا پہلا دن تھا اور اس طرح پاکستان کو دولخت کر دیا گیا۔ اگر ایران کی اس کوشش کا فائدہ اٹھا کر سوویت یونین سے تعلقات بہتر کر لئے جاتے تو سقوط مشرقی پاکستان سے بچا جا سکتا تھا۔ ایران نے کوشش کی تھی کہ پاکستان و سوویت حکام کی ملاقات کے ذریعے مشرقی پاکستان کے معاملات میں سوویت حکومت کی جانب سے بھارت کی طرفداری کو ختم کیا جاسکے۔ اسی طرح ایران کا مشورہ تھا کہ مشرقی پاکستان میں طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔
 
1971ء ہی میں پاکستان کو جب صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مسلح تحریکوں کا سامنا تھا، تب بھی ایران نے پاکستان کو فوجی ہیلی کاپٹر فراہم کئے تھے۔ یہ وہ سال تھا جب پاکستان نے امریکا کے لئے اتنی بڑی خدمت انجام دی تھی کہ چین کے ساتھ اس کے انتہائی خفیہ رکھے گئے مذاکرات کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا، اسکے ہوتے ہوئے امریکا نے پاکستان کی مدد نہیں کی، تب پاکستان کے حکمران جنرل یحییٰ خان صدر نکسن کے سامنے گڑگڑائے کہ کم از کم ایران کے ذریعے مدد کو نہ روکیں۔ یہ وہ ایام تھے کہ جب پیسے سے زیادہ سلحے کی اہمیت تھی، کیونکہ رقم کے ہوتے ہوئے آپ اسلحہ نہیں خرید سکتے تھے کہ امریکا اور دیگر بڑی طاقتوں کی طرف سے پابندیوں کا سامنا تھا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر سمندری اور فضائی حملے کئے جا رہے تھے، پاکستان کو کہیں سے بھی کوئی مدد مل نہیں سکتی تھی۔ تب پاکستان کو 60 ہزار بیرل یومیہ تیل کی ضرورت تھی اور ایران اس وقت پاکستان کو 50 ہزار بیرل یومیہ تیل فراہم کر رہا تھا۔

ایران ایف فور فینٹم فائٹر بمبار طیارے فراہم کرنے پر آمادہ تھا، لیکن پاکستان میں ناکافی لاجسٹک سہولیات کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ یاد رہے کہ 1970ء کے عشرے میں بھارت کے ساتھ ایران کے تعلقات بھی 1965ء کی نسبت زیادہ بہتر تھے۔ اس کے باوجود 26 دسمبر 1971ء کو روزنامہ سن میں بھارتی فوجی کمان کا یہ موقف شائع ہوا کہ ایران نے پاکستان کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔ 1971ء میں بھارت کا ارادہ صرف مشرقی پاکستان نہیں تھا بلکہ وہ بیک وقت کشمیر، بلوچستان اور پشتونستان کی سازش پر عمل پیرا تھا، اگر ایران کی مدد نہ ہوتی تو 1971ء کے بعد نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ جس نوعیت کی مدد اور حمایت طول تاریخ میں ایران نے کی ہے، اس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ ایران جیسا پاکستان کا کوئی بھی دوسرا دوست اور مددگار ملک دنیا میں کہیں وجود ہی نہیں رکھتا۔

(یہ پاکستان ایران تعلقات کی تاریخ کے چند اہم نکات ہیں، جنہیں اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان ایران فوجی تعلقات میں بہتری کی امید کے عنوان سے ایک تحریر پیش کی گئی تھی، یہ تحریر اسی کا تسلسل ہے۔ آئندہ بھی دیگر اہم نکات پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس تحریر میں بعض ممالک کے حکومتی اداروں کی دستاویزات جو اسکالرز نے اپنی تصانیف میں ریفرنس کے طور پیش کی ہیں، ان سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جبکہ بعض حوالہ جات یہاں تحریر کئے گئے ہیں۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریفرنس: 
Pakistan and Iran: A Study in Neighbourly Diplomacy by Khalida Qureshi published in Pakistan Horizon in 
third quarter 1968
Pakistan's Foreign Policy: A Historical Analysis by S.M. Burke (OUPP 1973)
ٖForeign Policy of New Pakistan by Shirin Tahir Kheli published in Orbits (Fall 1976)
Pakistan: Leadership Challenges by Lt.Gen. Jahandad Khan 1999
Cover Point: Impressions of Leadership by Jamsheed Markar (OUP 2016)
خبر کا کوڈ : 782517
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
عرفان علی صاحب
سلام علیکم و آداب
آپ نے اسکندر مرزا کے ساتھ میجر جنرل ریٹائرڈ کی دم لگائی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسکندر مرزا کب میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔
امید ہے آپ سنی سنائی اور لکھی لکھائی باتوں کے بجائے سیدھا اور تحقیقی جواب حوالے کے ساتھ دیں گے۔
والسلام
آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔
عرفان
سلام۔ بصد احترام و ادب، سب سے پہلے شکریہ کہ اس حقیر کی تحریر کو اس قابل سمجھا کہ اس پر سوال اٹھایا۔
جواباً عرض ہے کہ آپ نے دو باتیں لکھی ہیں سنی سنائی اور لکھی لکھائی۔ پہلے بھی احباب سے عرض کرچکا ہوں کہ ماضی کی جو تاریخ ہے، اس دور میں بندہ تاریخ سے ہی رجوع کرسکتا ہے، میری براہ راست اسکندر مرزا سے کوئی ملاقات نہیں تھی اور نہ ہی میرے پاس ہر معلومات ایسی ہوتی ہے، جو براہ راست کوئی بھی شخصیت مجھے بتاتی ہے یا میں ان سے براہ راست حاصل کر لیتا ہوں، شاید اسلام ٹائمز کے دیگر لکھاریوں کی براہ راست ان تک رسائی ہو، مگر میری نہیں ہے۔ اس لئے لکھی لکھائی پر ہی اکتفا کریں۔ یوں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ لکھنے والے ہر مورخ نے اسکندر مرزا کے دور کے بارے میں لکھا ہے، لیکن آپ کی تسلی کے لئے بیان کئے دیتا ہوں کہ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے پاکستان پولیٹیکل روٹس اینڈ ڈیولپمنٹ کے باب دوم چیزنگ دی کانسٹی ٹیوشن میں لکھا ہے۔ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے دی ملٹری اینڈ پولیٹکس ان پاکستان کے چوتھے باب دی ملٹری اینڈ پولیٹکس: دی فرسٹ فیز میں بھی لکھا ہے۔ اور اسکے علاوہ بھی ریفرنسز ہیں، البتہ آپکے سوال کے بعد اسے دیکھ کر بتا رہا ہوں، ورنہ یادداشت کی بنیاد پر ہی لکھا تھا۔ اگر آپ کے پاس کوئی اور سورس یا ریفرنس ہے تو میرے علم میں اضافہ فرمائیں۔ شکریہ۔
البتہ ایک اور نکتے کی وضاحت کر دوں کہ وہ غیر منقسم ہند جسے برٹش انڈیا کہا جاتا تھا، اس دور میں جو افراد سب سے پہلے سینڈھرسٹ جیسے مشہور برطانوی فوجی ادارے سے گریجویٹ تھے، ان میں سے ایک اور سرفہرست تھے۔ کمیشنڈ فوجی افسر تھے اور بعد ازا انڈین پولیٹیکل سروس چلے گئے تھے، جہاں سویلین اور فوجی افسران کا کوٹہ ہوا کرتا تھا۔ اس بنیاد پر ہوسکتا ہے کہ کسی نے انکی سیاسی سروس میں تبادلے تک انہیں فوجی افسر سمجھا ہو اور بعد میں سویلین بیوروکریسی کا افسر سمجھا ہو۔ پہلے جوائنٹ سیکریٹری دفاع اور پھر شاید سیکرٹری دفاع بھی رہے، نچلے انتظامی عہدوں سے بالا سیاسی عہدوں پر بھی فائز رہے۔ البتہ جو پاکستانی اسکالرز یا مورخین سے معلوم ہوا ہے، اس کی بنیاد پر یہ لکھا تھا۔
ایئر مارشل اصغر خان مرحوم کی کتاب وی ہیو لرنٹ نتھنگ فرام ہسٹری ...پاکستان: پولیٹکس اینڈ ملٹری پاور کے باب دوم دی آرمی انٹرس پولیٹکس میں لکھا ہے جنرل اسکندر مرزا جبکہ سابق آرمی چیف کی میموائرس آف لیفٹنٹ جنرل گل حسن خان کے انڈیکس میں مرزا میجر جنرل اسکندر لکھا ہے. صفدر محمود اور ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا ریفرنس پہلے دیا جاچکا ہے. کیا اتنے ریفرنسز کافی ہیں؟؟؟
Iran, Islamic Republic of
میں نے پوچھا تھا کہ کب اس عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے؟ آپ کے علم سے استفادہ کرنا چاہتا تھا۔ آپ کی اطلاع کے لئے تھوڑا سا عرض کر دوں کہ وہ کیپٹن کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ پھر انہیں میجر جنرل کیوں لکھا جاتا ہے۔ اس پر تحلیل گر صاحب آپ خود تحقیق کریں، چونکہ تحلیل ہوا میں نہیں کی جاتی بلکہ ٹھوس تحقیق کے بعد کی جاتی ہے۔
عرفان
آپ کا پہلا سوال بھی طنزیہ تھا اور جواب ملنے کے بعد بھی آپ نے ایک اور جہالت بھرا دعویٰ کرکے طنز کیا ہے، جبکہ آپکو یہاں تین حصوں میں ریفرنس کے ساتھ جواب دیا گیا ہے اور یہ تو آپ نے بھی نہیں لکھا کہ وہ کب ریٹائرڈ ہوئے تھے.
آپکا اگر مجھ سے مسئلہ ہے تو مشق سخن جاری رکھیں، ورنہ آپکی جہالت کے لئے اتنا کافی ہے کہ آپ نے بغیر کسی ریفرنس کے دعویٰ کر دیا ہے کہ وہ کیپٹن کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے تھے جبکہ میں نے دانستہ اس پہلو کو نہیں لکھا تھا کہ وہ کب انڈین پولیٹیکل سروس میں آئے۔ جاہل اگر سوال کے ذریعے اپنی کم علمی دور کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، لیکن وہ جاہل جسے اپنی جہالت پر ناز ہو، اس کا علاج کوئی نفسیاتی معالج ہی کرسکتا ہے۔
میں نے اسکندر مرزا کا پروفائل نہیں لکھا تھا کہ اس میں ان کی جائے پیدائش، تاریخ وفات اور انکے حالات زندگی لکھتا۔ اصغر خان پاکستان کی فضائی افواج کے سربراہ تھے اور ڈاکٹر صفدر محمود خود ایک نامور بیوروکریٹ، آئینی و سیاسی تاریخ کے مورخ جبکہ حسن عسکری رضوی بھی ایک مشہور اسکالر ہیں اور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں۔ اگر وہ انہیں جنرل اور میجر جنرل لکھ چکے ہیں تو میں نے آپکی طرح ان کو چیلنج نہیں کیا کیونکہ میں یہ دعویٰ کیسے کرسکتا ہوں کہ مجھے ان سے زیادہ معلوم ہے۔
آپکے پہلے سوال میں چھپے طنز کے باوجود حسن ظن سے کام لیا تھا اور مقصد یہ تھا کہ اسی بہانے دیگر قارئین کے ذہنوں میں آنے والا ممکنہ شک و شبہ دور کر دوں۔ اگر انڈین پولیٹیکل سروس کے وقت بھی اسکندر مرزا کو ریٹائرڈ قرار سمجھا جائے جیسا کہ انکے بیٹے ہمایوں مرزا نے لکھا ہے، تب بھی وہ کرنل تھے نہ کہ کیپٹن۔ تو تحلیل ہوا میں ہو، زمین کے اوپر یا اندر، آپکا علاج تحلیل گر کے پاس نہیں ہے اور سوال پڑھ کر اور دوسری بار اسکی تکرار کرکے آپ نے سنی سنائی لکھی لکھائی کو جس منفی انداز میں بیان کیا تھا، اس کا اطلاق آپ پر ہی ہو رہا ہے کہ جب آپکے پاس کوئی معلومات تھی بھی تو اسکو بھی ریفرنس کے ساتھ پیش کرتے۔ لیکن آپ پھر آپ ہیں۔ میرا تو کوئی نام ہے پہچان ہے، آپکو تو اپنے اصلی نام اور عہدے کے ساتھ ببانگ دہل چیلنج کرنا چاہئے تھا، تاکہ آپکی علمیت بھی دنیا کے سامنے ظاہر ہوتی کہ آپ جناب عزت مآب ہیں کون۔
انڈین پولیٹیکل سروس میں اس وقت آدھے افسر فوج سے اور آدھے سول بیوروکریسی سے لئے جاتے تھے۔ اگست 1926ء میں انہوں نے جب انڈین پولیٹیکل سروس جوائن کی تب بھی انکا عہدہ کرنل کا تھا۔ کیپٹن کے بعد میجر ہوتا ہے اور اسکے بعد لیفٹننٹ کرنل اور پھر کرنل کا عہدہ جو بریگیڈیئر سے ایک عہدہ جونیئر ہوتا ہے۔ آپ تو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ کرنل سے بھی تین عہدے کم یعنی جونیئر تھے جبکہ میجر جنرل اور کرنل کے درمیان صرف ایک بریگیڈیئر کا عہدہ ہوتا ہے اور وہ اگر میجر جنرل نہیں بھی تھے تو بھی یہ مورخین اور نامور شخصیات کی بیان کردہ غلط معلومات کہلائی جائیں گی، لیکن جب ریفرنس پیش کر دیئے گئے تو اسکے بعد مجھ پر طنز پھر بھی بنتا نہیں تھا جبکہ مجھے اس وقت بھی معلوم تھا کہ انکے بیٹے ہمایوں مرزا نے کس جگہ انکے کرنل عہدے کی بات لکھی تھی۔ اگر یہ بات ہوا میں ہے، تب بھی پاک فضائیہ کے سابق سربراہ مرحوم اصغر خان، پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل حسن گل خان کی یادداشتوں کے انڈیکس میں، اور ڈاکٹر صفدر محمود اور ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی کتب میں موجود ہے۔ آپ ان سے مناظرہ و مباحثہ کرسکتے ہیں، لیکن جو دو دعوے ہیں اس میں کیپٹن پہلی مرتبہ سنا ہے۔ کرنل تھے یہ اسکندر مرزا کے بیٹے نے لکھا تھا، میجر جنرل یا جنرل جنہوں نے لکھا انکا ریفرنس بھی دیا جاچکا ہے۔
Ahsan
United States
محترم عرفان علی صاحب، آپ ان حضرات کے سامنے کتنے ہی ریفرنس پیش کر دیں، یہ قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ ایئر مارشل اصغر خان، ڈاکٹر صفدر محمود یا جنرل گل حسن خان کی کتاب کا انڈیکس، یہ سب تو جھوٹے ہوسکتے ہیں، یہ حضرات جن بزرگان کے تربیت یافتہ ہیں، یہ سب ایک نمبر کے سچے ہیں، اسکندر مرزا کا بیٹا بھی اگر اپنے باپ کے بارے میں یہ لکھ دے کہ جب انہوں نے انڈین پولیٹیکل سروس جوائن کی تو اس وقت وہ کرنل تھے، تب بھی انکا بیٹا جھوٹ بول رہا ہے، لیکن یہ ایک نمبر کے سچے ہیں۔ محترم وقت ضایع نہ کریں، مان لیں اسکندر مرزا کیپٹن ہی تھا۔ اسلام ٹائمز کی اتنظامیہ کے آپ لاڈلے بن نہیں سکتے اور چاپلوسوں کی مانند بلیک میلر اور دھمکیاں دینے والے آپ ہیں نہیں، اس لئے آپکی تحریروں پر جو چاہے جھوٹا طنزیہ تبصرہ کرسکتا ہے، آخر کو اظہار رائے کی آزادی بھی کوئی چیز ہے۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ یہ تحریر اسکندر مرزا سے متعلق تو تھی ہی نہیں، لیکن اب اسکو متنازعہ بنانے کے لئے نان ایشو کو ایشو بنایا جا رہا ہے۔ بھائی اگر مشہور و معروف مورخین نے مرزا کو میجر جنرل لکھ دیا ہے اور یہاں اس کے نام کے ساتھ بقول آپکے دم لگاہی دی گئی ہے، تب بھی یہ ایسا اضافہ ہے، جس سے انکی علمیت جھلکتی ہے، کیونکہ جن افراد نے ایسا لکھا ہے، انہیں پاکستانی معاشرے میں اچھی شہرت بھی حاصل ہے تو وہ خود اس دور کے یا اس سے نزدیک کے اعلیٰ عہدیدار رہ چکے ہیں۔ فیس بک، یوٹیوب کے سیلف میڈ اسکالرز نے اسکندر مرزا سے متعلق یہ ایشو پھیلا دیا اور اب یہ صاحب بھی وہی حرکت کر رہے ہیں۔ کیا کتب کے ریفرنسز کے بعد اعتراض بنتا ہے؟؟؟
Canada
خوشامد اور چاپلوسی اور بلیک میلنگ بھی ایک فن ہے، جو تم لوگوں سے کوئی سیکھے۔ میاں مٹھو حضرات اپنی سستی شہرت کے لئے اسلام ٹائمز کی انتظامیہ کو بھی نہیں بخشتے۔
ایک قاری کا حق بنتا ہے کہ وہ سوال پوچھے جواب دینے کے بجائے مختلف طریقوں سے اپنی خوشامد کے دریا بہا دینا ایک بھونڈی حرکت ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والے طوطوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ جو کالم پڑتا ہے اس کا حق ہے کہ ناقص سطر پر سوال اٹھائے۔ ایشو اور نان ایشو کا حلوہ یہاں چپڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سوال کرنے والے نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر جواب ہے تو دو ورنہ فلاں نے یہ لکھا اور فلاں نے یہ لکھا یہ تو جواب نہیں۔
سائل نے سوال یہ کیا تھا کہ وہ کس سال میں میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔
امید ہے جواب میں سستی شہرت حاصل کرنے کے طریقوں اور خوشامد و چاپلوسی کے ڈونگرے برسانے نیز اسلام ٹائمز کی انتظامیہ پر اپنا رعب جمانے کے بجائے میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے کی تاریخ کا ہی جواب ہی دیا جائے گا۔
والسلام علیکم و رحمہ اللہ وبرکاتہ
محمد جواد