0
Thursday 31 Jul 2014 23:33
دنیا بھر میں صہیونیت مخالف عوامی غیض و غضب کا سلسلہ اسرائیل کی جلد نابودی کیطرف جا رہا ہے

ملکی سلامتی کیلئے دہشتگردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب کا دائرہ ملک گیر کیا جائے، علامہ مختار امامی

داعش ہو یا طالبان، اہلسنت بھائیوں نے ہمیشہ ان دہشتگرد عناصر سے اظہار برأت کیا ہے
ملکی سلامتی کیلئے دہشتگردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب کا دائرہ ملک گیر کیا جائے، علامہ مختار امامی
علامہ مختار احمد امامی کا تعلق سندھ کے تاریخی شہر نواب شاہ سے ہے، ابتدائی دینی و دنیاوی تعلیم نواب شاہ سے حاصل کرنے کے بعد اعلٰی دینی تعلیم کے حصول کیلئے حوزہ علمیہ قم، اسلامی جمہوری ایران کا رخ کیا، قم المقدسہ میں طویل قیام اور حصول علم کے بعد واپس پاکستان تشریف لائے اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ساتھ تبلیغی امور کی انجام دہی میں مصروف ہوگئے، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی تشکیل کے سلسلے میں علامہ ناصر عباس جعفری و دیگر علماء کرام کے ہمراہ سندھ بھر میں ہنگامی دورہ جات کرکے پیغام وحدت کو صوبہ بھر میں پہنچایا۔ علامہ مختار احمد امامی کا شمار ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے، آپ اس وقت مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے صوبائی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ عید الفطر کے موقع پر اپنی انتہائی مصروفیات کے باوجود علامہ صاحب نے اسلام ٹائمز کیلئے اپنا قیمتی وقت نکالا، جس پر ادارہ انکا مشکور ہے۔ اسلام ٹائمز نے علامہ مختار امامی کے ساتھ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں ایک انٹرویو کیا جو کہ قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: حضرت امام خمینی (رہ) کے فرمان کی مناسبت سے عالمی یوم القدس کے موقع پر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مظلوم فلسطینیوں سے بھرپور انداز میں اظہار یکجہتی کرنے کیلئے اور امریکا و اسرائیل کیخلاف عوام سڑکوں پر نکلی، کیا تاثرات ہیں آپ کے اس حوالے سے۔؟
علامہ مختار امامی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ الحمد اللہ، گذشتہ پچیس سالوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں حضرت امام خمینی (رہ) کے فرمان پر عالمی یوم القدس کے موقع پر مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور شیطان بزرگ امریکا اور اسکی ناجائز اولاد اسرائیل کیخلاف بھرپور احتجاج ہوتے رہے ہیں، اس بار عالمی یوم القدس کے موقع پر لاکھوں سنی شیعہ، عیسائی، ہندو غرض تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد کا مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل مخالفت میں سڑکوں پر نکلنا صہیونی اسرائیل کے خلاف ایک عظیم الشان ریفرنڈم ثابت ہوا ہے، دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف شدت اختیار کرتا ہوا عوامی غصہ اور غیض و غضب کا سلسلہ اسرائیل کی جلد نابودی کی طرف جا رہا ہے، پیش خیمہ بن رہا ہے، امریکا اور مغرب کی تمام تر مدد کے باوجود امام خمینی (رہ) سمیت دنیا بھر کے مستضعفین کی اسرائیل کی نابودی کی آرزو جلد پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تاحال جاری ہے، پاکستانی حکمرانوں کی اس حوالے سے کیا ذمہ داری بنتی ہے۔؟
علامہ مختار امامی:
اگرچہ ہمیں نالائق، نااہل، کٹھ پتلی پاکستانی حکمرانوں سے کوئی امید نہیں ہے لیکن بہرحال پاکستان ایٹمی صلاحیت کی حامل ایک نہایت اہمیت کی حامل مسلم ریاست ہے، لہٰذا اسے ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کیلئے قدامات کرنے چاہیے، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، او آئی سی سمیت تمام عالمی اداروں میں بھرپور آواز ٹھائیں، اقدامات کیلئے زور دیں، پاکستانی عوام تو مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے لیکن نااہل اور جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والے پاکستانی حکمران عوامی خواہشات کے برعکس مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: غزہ پر وحشیانہ اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، کیا اسرائیل مخالف احتجاج کا سلسلہ پاکستان میں بھی عالمی یوم القدس کی طرح جاری رہے گا۔؟
علامہ مختار امامی:
انشاءاللہ پورے پاکستان میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل مخالف احتجاج کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا، مجلس وحدت مسلمین مظلوم فلسطینیوں کی حمایت سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوگی، صہیونی اسرائیل کی نابودی تک ہم مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اسرائیل مخالف احتجاجی سلسلے کو جاری رکھیں گے، اس حوالے سے سنی شیعہ مسلمانوں سمیت دیگر تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو ساتھ ملا کر اپنا وظیفہ و کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: ایک طرف تو غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا نیا سلسلہ شروع ہوا اور عین اسی دوران فرقہ واریت کے ذریعے اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچانے کیلئے داعش جیسے فتنے کو بھی پروان چڑھایا گیا، اس حوالے سے آپ کی نگاہ کیا کہتی ہے۔؟
علامہ مختار امامی:
مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ صہیونی اسرائیلی غاضب حکومت کے آغاز سے چلا آ رہا ہے، اسی دوران امریکا و مغرب اور انکے ایجنٹ نااہل عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کی کوشش رہی ہے کہ مسلمان ممالک میں تفرقہ ایجاد کرتے ہوئے امت مسلمہ کو کمزور اور غیر مستحکم کیا جائے اور نیل سے فرات تک کے گریٹر اسرائیل کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جاسکے، صہیونی اسرائیل کا تحفظ کیا جاسکے، مگر حضرت امام خمینی (رہ) اور رہبر عظیم الشان آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ، خدا ان کا سایہ ہمارے سروں پر تاظہور امام مہدی (عج) قائم و دائم رکھے، کی عظیم الشان پالیسیوں اور اسٹراٹیجی کے باعث اسرائیل اپنے چاروں طرف حفاظتی دیوار کھینچنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ حزب اللہ، حماس، جہاد اسلامی جیسی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ لہٰذا صہیونی اسرائیل کو تحفظ چاہیے، اس کیلئے انہوں نے نااہل عرب حکمرانوں کے ذریعے شام، عراق سمیت مسلم ممالک میں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کیلئے داعش اور اس جیسے دیگر فرقہ وارانہ گروہوں کی تشکیل کی، لیکن الحمد اللہ فرقہ واریت کی سازش کامیاب نہیں ہوسکی۔ داعش ہو یا پاکستان میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، طالبان ہوں ان کا اہلسنت سے کوئی تعلق نہیں، اہلسنت بھائیوں نے ہمیشہ ان کے اظہار برأت کیا ہے، امت مسلمہ ان مٹھی بھر سازشی عناصر کو سمجھتی ہے، انہیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دے گی، عراقی شہر موصل میں خود اہلسنت علماء کرام نے داعش کے خلاف فتوی دیا ہے، وہاں پر داعش کے خلاف ایک عوامی انتفاضہ شروع ہونے جا رہا ہے جو تکفیری دہشتگر گروہ داعش کو وہاں سے ذلیل و رسوا کرکے نکالے گا۔

اسلام ٹائمز: کراچی میں بڑھتی ہوئی شیعہ ٹارگٹ کلنگ و نسل کشی کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ مختار امامی:
کراچی سمیت پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشتگردی امریکی اسرائیلی سازش ہے، جس میں مقامی طور پر نادان لوگ استعمال ہوتے رہے ہیں، مگر الحمد اللہ پاکستان کی سنی شیعہ باشعور عوام نے فرقہ واریت پھیلانے کی تمام تر امریکی سازشوں کو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ناکام بنایا، مگر بہرحال امریکی اسرائیلی سازشیں جاری ہیں، شیعہ قوم کو ٹارگٹ کلنگ اور نسل کشی کرکے ڈرایا جا رہا ہے، دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر شیعہ دشمن عناصر یہ بھول جاتے ہیں کہ شیعہ ایک عاشورائی کربلائی قوم ہے جسے ڈرا دھمکا کر الٰہی راہ سے ہٹایا نہیں جاسکتا، لہٰذا امریکا کو ہمارا واضح پیغام ہے کہ وہ عالمی تشیع کے خلاف اپنے سازشی حربوں اور سلسلوں کو ختم کر دے اور سازشوں کی تکمیل پر ہونے والے اربوں کھربوں ڈالرز کو امریکا اپنی غریب عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے، ورنہ نہ امریکا رہے گا اور نہ ہی اس کے سازشی سلسلے، جبکہ تشیع تمام تر مصائب، سختیوں اور مشکلات کے باوجود لبیک یامہدی (عج) اور لبیک یاحسین (ع) جیسے الٰہی نعروں کے ساتھ منظم ہے اور منظم رہے گی، قائم و دائم رہے گی۔

اسلام ٹائمز: اندرون سندھ دہشتگرد عناصر کی سرگرمیوں کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟
علامہ مختار امامی:
اندرون سندھ بھی کالعدم دہشتگردگروہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی جڑوں کو مضبوط کرسکیں لیکن ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں یہ سلسلہ کم ہے، خیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب، بلوچستان کی طرح بہت بڑے پیمانے پر یہ اپنی جڑوں کو مضبوط نہیں کرسکے ہیں لیکن اندروں سندھ دہشتگرد عناصر نے اپنی بنیاد رکھ دی ہیں، گاﺅں، شہروں، ہائی ویز پر بڑے بڑے قلعہ نما نام نہاد مدارس بنا رکھے ہیں، ان گنت ادارے اور مدارس کام کر رہے ہیں، انکے جھنڈے اور غلیظ وال چاکنگ جگہ جگہ نظر آتی ہیں، جلسوں میں غلیظ تقاریر کا سلسلہ جاری ہے، علم غازی عباس علمدار (ع) کو جلانے، اہل تشیع کو پریشان کرنے، ماتمی جلوسوں پر حملے کرنے اور پتھراﺅ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ان دہشتگرد عناصر کا کام بہت بڑے پیمانے پر نظر آ رہا ہے، انکے جلسے جلوس، ریلیاں، دھرنے ہو رہے ہوتے ہیں، ان میں غلیظ تقاریر، کافر کافر کے نعرے عام لگائے جاتے ہیں، مگر چونکہ عوام ان کے ساتھ نہیں ہے، انکے مخالف ہے، لہٰذا یہ بہت بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں، سندھ میں اکثر حکومت پیپلز پارٹی کی رہی ہے، ہم انہیں بے شمار بار اس حوالے سے ثبوتوں کے ساتھ آگاہ بھی کرتے رہے ہیں، متوجہ بھی کرتے ہیں کہ دہشتگردوں عناصر کا بڑھتا ہوا سلسلہ نہ صرف شیعہ، نہ صرف اہلسنت بلکہ خود پیپلز پارٹی کیلئے بھی خطرناک ہے، کیونکہ ان تکفیری دہشتگردوں کا جو نظریہ ہے وہ کسی کے ساتھ بھی رعایت نہیں کرینگے، یہ اپنے سوا سب کو کافر مشرک سمجھتے ہیں، پیپلز پارٹی جس سیکولر سوچ کا دعویٰ کرتی ہے اس کے تحت بھی چلے تو اسے ان تکفیری دہشتگرد عناصر کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حالات میں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے دائرے کو ملک گیر سطح پر پھیلایا جائے گا۔؟
علامہ مختار امامی:
محب وطن شیعہ قوم نے ہمیشہ قومی اداروں کو پاکستان کو درپیش خطرات کی طرف متوجہ و متنبہ کیا ہے، لہٰذا دہشتگردی سمیت تمام تر خطرات سے نمٹنے کیلئے، ملکی بقاء و سالمیت کیلئے قومی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، خصوصاً وطن عزیز پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام دہشتگرد عناصر کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا، دہشتگردوں کے مذہبی و سیاسی سرپرستوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنا ہوگا، جو دہشتگردوں کے سرغنہ حکیم اللہ محسود کو تو شہید کہتے ہیں جبکہ ہماری پاک فوج کے جوانوں کو ہلاک کہتے ہیں۔ دہشتگردوں کے ایسے تمام سیاسی مذہبی سرپرستوں کو بھی لگام دینا ضروری ہے۔ قومی اداروں کو پاکستان کی سالمیت عزیر ہے تو ناصرف وزیرستان کہ جہاں آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے بلکہ کراچی، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے جائیں، انہیں تہہ تیغ کیا جائے، یہ عوامی مطالبہ بھی ہے اور عوام کے دل کی آواز بھی ہے اور اسی میں ملکی بقاء و سلامتی بھی ہے۔
خبر کا کوڈ : 402344
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب