0
Friday 10 May 2013 17:54

کراچی میں دہشتگردی اور خوف و ہراس کے سائے میں جاری انتخابی مہم اختتام پذیر

کراچی میں دہشتگردی اور خوف و ہراس کے سائے میں جاری انتخابی مہم اختتام پذیر
رپورٹ: ایس زیڈ حیدر

عام انتخابات کے حوالے سے کراچی شہر میں انتخابی مہم کے آخری روز انتخابی سرگرمیاں جاری رہیں اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے علاقائی سطح پر کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا۔ شہر کے تمام علاقوں میں امیدواروں کی جانب سے مختلف شاہراہوں اور مقامات پر اپنی اپنی جماعتوں کے انتخابی جھنڈے لگائے گئے ہیں جبکہ مختلف بلڈنگوں اور سائن بورڈز پر انتخابی مہم کے حوالے سے پینا فلیکس ہزاروں کی تعداد میں آویزاں کئے گئے ہیں، جن پر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کی تصاویر اور منشور نمایاں طور پر تحریر ہے۔ کراچی میں دہشتگردی اور خوف و ہراس کے سائے میں جاری انتخابی مہم کے آخری روز تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے اپنے حلقوں میں قدرے بہتر حالات سے استفادہ کرتے ہوئے بھرپور طریقے سے انتخابی مہم جاری رکھیں۔
 
شہر میں متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، مجلس وحدت مسلمین، مسلم لیگ (فنکشنل)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جمعیت علماء پاکستان، پاکستان سنی تحریک، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں میں کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا اور ان امیدواروں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 11 مئی کو بلاخوف و خطر گھروں سے نکلیں اور دہشت گردوں اور ان کے حامیوں اور سرپرستوں کے خلاف اپنا حق رائے دہی استعمال کریں اور دہشتگرد عناصر کو تنہا کر دیں۔ انتخابی مہم کے آخری روز مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے گھر گھر جا کر پولنگ کارڈز تقسیم کئے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کراچی میں پولنگ کارڈز کی تقسیم کا عمل تقریباً مکمل کر لیا ہے۔ ان پولنگ کارڈز میں ووٹرز کو انتخابی فہرستوں میں ان کے ووٹ کی سیریل نمبر اور پولنگ اسٹیشن کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
 
انتخابی مہم کے آخری روز شہر کے مختلف علاقوں میں گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ مختلف علاقوں میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے امیدواروں نے علاقائی سطح پر ریلیاں نکالیں، جن میں کار اور موٹر سائیکل ریلیاں بھی شامل تھیں، جبکہ کئی علاقوں میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کی جانب سے گاڑیوں پر ساونڈ سسٹم لگا کر عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔ ان گاڑیوں پر سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اپنے جھنڈے، انتخابی نشان، امیدواروں اور قائدین کی تصاویر لگائی ہوئی تھیں۔ یہ گاڑیاں شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتی رہیں۔ انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کی جانب سے ووٹرز کو ان کے موبائل فونز پر ایس ایم ایس بھی بھیجے گئے، جس میں عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کی گئی، جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ جبکہ کیبل ٹی وی اور سوشل میڈیا پر بھی امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھیں۔

شہر میں رات گئے تک مختلف علاقوں میں امیدواروں کے الیکشن دفاتر پر گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ واضح رہے کہ کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے سبب عام انتخابات کیلئے سیاسی و مذہبی جماعتیں بھرپور انداز اپنی انتخابی مہم نہیں چلا سکیں اور ماضی کے برعکس اس مرتبہ شہر میں بڑی تعداد میں سیاسی جلسوں کا انعقاد بھی ممکن نہیں ہوسکا اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے محدود انداز میں انتخابی مہم چلائی۔ شہر میں گذشتہ پندرہ بیس روز میں آٹھ سے زائد بم دھماکوں میں تقریباً تین درجن شہری جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ جبکہ ٹارگٹ کلنگ و پرتشدد واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور دہشت گرد عناصر کھلے عام معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، جس کے باعث شہر میں پولیس، رینجرز اور پاک فوج کی موجودگی کے باوجود پرامن انتخابات کے انعقاد پر ابتک سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔
خبر کا کوڈ : 262558
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب