0
Tuesday 20 Jul 2010 14:48

افغان ٹریڈ کے نئے معاہدے سے پاکستانی معیشت بھارتی قبضے میں چلی جائے گی

افغان ٹریڈ کے نئے معاہدے سے پاکستانی معیشت بھارتی قبضے میں چلی جائے گی
اقتصادی ماہرین اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کو ملک دشمن دستاویز قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔گڈز ٹرانسپورٹرز نے مزاحمتی لائحہ عمل تشکیل دینے کے لئے اجلاس بلا لیا ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی اس معاملہ پر احتجاج کریں گی،جب کہ حکومت کی اپنی صفوں میں بھی یکسوئی کا فقدان نظر آ رہا ہے۔وزارت تجارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط امریکہ کے دبائو پر ہوئے ہیں۔ 
ہیلری کلنٹن ہر حال میں اپنے دورہ افغانستان سے قبل بھارت کو راہداری دلوانا چاہتی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیلری کی آمد سے ایک روز قبل افغان وزیر تجارت ڈاکٹر انوار کی پاکستانی ہم منصب مخدوم امین فہیم سے ملاقات بری طرح سے ناکام رہی تھی،کیونکہ پاکستان کسی قیمت پر بھارت کو راہداری دینے پر آمادہ نہ تھا۔کابل میں موجود بھارتی ٹرانسپورٹ کمپنیوں پر بھی پاکستان کے اداروں کو اعتراضات تھے۔مزید یہ کہ سیکورٹی کے ادارے اس کمزور حکومت سے ایسا بڑا معاہدہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔جس کے سبب پاکستان نے ایک واضح مؤقف اختیار کیا اور تقریباً یہ طے ہو چکا تھا کہ معاہدہ پر دستخط فوری طور پر نہیں ہوں گے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت کو ہیلری کی یہ خواہش امریکی حکام نے ان کی آمد سے قبل ہی پہنچا دی تھی کہ وہ معاہدہ پر دستخط چاہتی ہیں۔مذاکرات کے دوران بھی اعلیٰ حکومتی شخصیت کے حکم پر ہیلری کلنٹن کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کی موجودگی میں دستخط کر دیئے گئے،جس پر بعض اداروں کا اعتراض اب بھی قائم ہے۔
پاکستان کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کے اس معاہدہ پر جس کی ماضی میں مالیت 2 ارب ڈالر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،اقتصادی ماہرین نے اسے پاکستان کے مفاد کیخلاف اور بھارت کے مفاد میں قرار دیا ہے۔سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے امت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ معاہدے دو طرفہ ہوں تو فائدہ مند ہو سکتے ہیں،یہ معاہدہ سو فیصد امریکی دبائو پر کیا جا رہا ہے۔اس سے افغانستان کو بہت کچھ مل گیا۔بھارت بھی فائدہ میں رہا،مگر پاکستان کا اس میں سراسر خسارہ ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کے مفاد کا کسی نے اس میں خیال بھی رکھا ہے۔اس سوال پر کہ پاکستان سینٹرل ایشیا کیا بھیجے گا،انہوں نے کہا کہ بہت کچھ ہو سکتا ہے،مگر اس کے لئے انڈسٹری کا چلنا اور افغانستان میں امن دونوں لازم ہیں۔ 
لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو وعدہ فردا کے سوا کچھ نہیں ملا۔افغانستان اور بھارت کا کتنا فائدہ ہے؟سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ نے اس سوال پر کہا کہ یہ تو بہت کھلی حقیقت ہے کہ فائدہ بھارت کو حاصل ہوا۔افغانستان بھی نہیں،اصل میں بھارت فائدے میں رہا۔ہم نے اسے راہداری دے کر اپنے نقصان کا سودا کیا ہے۔پاکستان کو اس سے کیا نقصان ہو گا؟ اس پر ان کا جواب تھا کہ نقصان کوئی ایک نہیں آپ کی پوری معیشت بھارتی رحم و کرم ہو گی اور بیٹھ جائے گی۔صنعت تباہ ہو جائے گی،کیونکہ جب بھارتی مال اسمگل ہو کر مارکیٹ میں آئے گا تو یقینی سی بات ہے کہ سستا ہوگا اور پھر بھارت سے یہ توقع بھی رکھنی چاہئے کہ وہ جان بوجھ کر اسمگلنگ کرائے گا۔ 
میں تو کہتا ہوں کہ یہ معاہدہ پاکستان کو بھارت کے سامنے بیچ دینے کا معاہدہ ہے،سودا کر لیا گیا ہے۔ اگر اس کا تدارک نہ ہوا تو میں ڈر رہا ہوں کہ حالات خراب نہ ہو جائیں،کیونکہ جب یہ عملی صورت اختیار کرے گا،تو لوگ مشتعل ہوں گے۔اس کا سدباب کیا ہو گا؟اس پر ان کا جواب تھا کہ پارلیمنٹ کو چاہئے کہ اس کی راہ روکے اور ایکشن لے،کابینہ کو بھی اسے اس حالت میں تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔پاکستان کو چاہئے کہ اپنی تجارت بڑھائے۔پاکستان کو سینٹرل ایشیا تک راہداری ملنے کے سوال پر سلمان شاہ نے کہا کہ یہ کوئی بات نہیں،جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوتا ایسا ممکن ہی نہیں،اور جب وہاں امن ہو گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا۔یہ کوئی ایسا احسان نہیں جس کے بدلے ہم خود کو گروی رکھ دیں۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ سپریم کونسل کے چیئرمین چوہدری مختار نے امت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تباہ کرنے کی سازش ہے۔ہم پاکستان کی سڑکوں پر بھارتی ٹرانسپورٹ برداشت نہیں کریں گے۔انڈسٹری بند ہے،لے دے کر ہمارا گزارا اسی افغان ٹریڈ اور نیٹو سپلائی پر تھا،اب وہ بھی بھارتی کمپنیوں کو مل جائے گا،تو ہم کیا کریں گے۔ہم نے اس سلسلے میں پورے پاکستان سے اپنے نمائندوں کو لاہور بلا لیا ہے۔اس فیصلے کی مزاحمت کے لئے جلد لائحہ عمل دیں گے۔اس سوال پر کہ بھارتی نہیں افغان ٹرانسپورٹ آئے گی،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے پاس کیا ہے،کابل میں بھارتی ٹرانسپورٹ کمپنیاں بیٹھی ہیں،جو افغان ڈرائیوروں کو بھیجیں گی۔ان کی مرضی وہ اپنی گاڑیوں میں چھپا کر اسلحہ بھیجیں یا جو مرضی بھیجیں،ہم یہ تباہی برداشت نہیں کریں گے۔چوہدری مختار نے کہا کہ حکومت ایک منظم طریقہ سے ہمیں تباہ کررہی ہے۔آج ہی اطلاع ملی ہے کہ ٹرکوں سے فی کلو ایک روپیہ ٹوکن ٹیکس لینے کا فیصلہ ہوا ہے۔اب ایک ٹرک جو 30 ٹن کا رجسٹرڈ ہے اسے 30 ہزار دینا پڑے گا اور پھر مزید کئی ٹیکسز ہیں،جبکہ کابل سے جو بھارتی کمپنیاں آئیں گی ان پر کوئی ٹیکس نہیں، کاروبار تو وہ کریں گے،جن کو یہ اجازت بھی ہے کہ واپسی پر وہ سامان اٹھائیں۔میں بحیثیت پاکستانی اس معاہدے کی مخالفت کرتا ہوں۔ 
آل پاکستان ٹرک یونین کے سیکریٹری جنرل حاجی جاوید بٹ نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا،پاکستانی حکمرانوں کو بھارت کی اتنی فکر کیوں ہے۔پاکستان جن حالات کا شکار ہے،ان حالات میں کابل میں بیٹھی بھارتی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو یہاں مسلط کر دینا ظلم ہے،ہم اس کیخلاف احتجاج کریں گے،ہم اپنا معاشی قتل نہیں ہونے دیں گے،کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے،کہ وہ ہمارے منہ کا نوالہ چھین لے۔اس کے لئے تمام تنظیموں کی مشاورت ہو رہی ہے،جلد لائحہ عمل دیا جائے گا۔
ادھر ملک بھر کی تاجر برادری نے بھی مذکورہ ترمیم شدہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی دی گئی ہے،معاہدے کے اس حصے سے پاکستانی تاجروں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔افغانستان میں جاری خانہ جنگی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے،پاکستانی تاجروں کو وسط ایشیائی ممالک تک رسائی کی سہولت مضحکہ خیز ہے،تاجروں نے معاہدے کی مکمل تفصیلات اور اس کے نتیجے میں مرتب ہونے والے بالواسطہ و بلا واسطہ اثرات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے،جبکہ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت نے اس سلسلے میں رواں ماہ کی 22 تاریخ کو اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔
افغانستان کو بندرگاہ کی سہولت دینے کیلئے 1965ء میں پاک افغان ٹریڈ ٹرانزٹ کا معاہدہ ہوا تھا،جس کے تحت افغانستان پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے اپنی اشیائے ضرورت ٹیکسوں،ڈیوٹیوں اور چارجز کی رعایت کے ساتھ درآمد کر رہا ہے،اگرچہ ٹیکسوں میں چھوٹ کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے افغانستان کے لئے درآمد ہونے والی اشیا اسمگل ہو کر پاکستانی مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر فروخت ہو رہی ہیں،جس سے پاکستانی صنعتوں اور درآمد کنندگان کو شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،لیکن اس معاہدے کے تحت ٹرانسپورٹ کے شعبے کو فروغ ملا اور ملک بھر میں سینکڑوں ٹرک، ٹرالرز اس معاہدے کے تحت درآمدی اشیا کراچی کی بندرگاہ سے افغانستان پہنچا رہے ہیں اور ان گاڑیوں سے ڈرائیورز،کنڈیکٹرز و کلینرز کے طور پر ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہو گیا ہے،جبکہ ان گاڑیوں کے مختلف شہروں میں اڈے بھی قائم ہو گئے ہیں،جس میں ان گاڑیوں کے ڈرائیورز و دیگر افراد کے طعام کیلئے ہوٹلز کھل گئے ہیں،یوں اس معاہدے سے ملکی معیشت کو تو نقصان پہنچ رہا ہے،لیکن دوسری جانب ٹرانسپورٹ کے شعبے کو فروغ ملا،تاہم اتوار کو ہیلری کلنٹن کی موجودگی میں طے پانے والے اس ترمیمی معاہدے سے ٹرانسپورٹ برادری کا پتہ بھی صاف کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس حوالے سے سپریم کونسل آف گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عاشق حسین نیازی نے امت کو بتایا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو دائو پر لگا کر حکومت نے بھارت،افغانستان اور امریکہ کو خوش کرنے کیلئے معاہدہ کیا ہے۔افغان ٹرکوں کی پاکستان میں آمدورفت ملکی سیکورٹی کیلئے چیلنج ہے جبکہ اس کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز بھی نہیں ہے۔پاکستان ٹرانسپورٹ آنرز ایسوسی ایشن کے صدر اسلم خان نیازی نے بتایا کہ اس معاہدے سے پاکستانی ٹرانسپورٹرز خودکشیوں پر مجبور ہوں گے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے،جبکہ گاڑیوں کی قیمتیں انتہائی تیزی سے گریں گی،جس سے سینکڑوں ٹرانسپورٹرز کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔ 
دوسری جانب صنعتکاروں نے ترمیمی پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے مندرجات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت پہلے ہی اسمگلنگ کی وجہ سے دبائو کا شکار ہے،اس ترمیمی معاہدے میں اسمگلنگ کی روک تھام کے بجائے ایسے اقدامات کئے گئے ہیں،جس سے اسمگلنگ میں اضافہ ہو گا،اس ضمن میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے صدر سلطان جاوید نے امت کو بتایاکہ اتوار کو طے پانے والے ترمیمی معاہدے کی اصل شکل ابھی واضح نہیں ہے،جبکہ وفاقی وزیر تجارت امین فہیم کے بیان نے اس حوالے سے صورتحال مشکوک کر دی ہے۔بھارت سے افغانستان کیلئے سمندری و فضائی راستوں سے تجارت کی اجازت تو دے دی گئی ہے،لیکن کیا زمینی راستے سے بھارت سے اشیا درآمد ہوں گی؟اس حوالے سے امین فہیم کی تصدیق اور تردید کے دو الگ بیانات سے لگ رہا ہے کہ اگر فی الوقت اجازت نہیں دی گئی ہے،تو آئندہ چل کر دی جا سکتی ہے۔ 
سلطان چائولہ نے بتایا کہ ملک بھر کے صنعتکار معاہدے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ایف بی سی سی آئی نے 22 جولائی کو ایک اجلاس طلب کیا ہے،جس میں اس معاہدے پر کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں،اس کے مطابق یہ معاہدہ ملکی معیشت کیلئے مہلک ثابت ہو گا،اور اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
صدر کراچی چیمبر آف کامرس عبدالمجید حاجی محمد نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تاجر برادری کو اعتماد میں لئے بغیر متنازعہ معاہدے پر دستخط کر دیئے،جس پر تاجر برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔کراچی چیمبر آف کامرس کے تاجروں نے اس صورتحال پر مشاورت شروع کر دی ہے اور ہم حکومت پر دبائو ڈالیں گے کہ وہ تاجروں کو مشاورت کا حصہ بنائے اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔سابق صدور کراچی چیمبر آف کامرس انجم نثار اور اے کیو خلیل نے بتایا کہ یہ معاہدہ امریکی دبائو کے تحت کیا گیا ہے،جس سے ملکی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ملکی وقار و تحفظ بھی دائو پر لگ سکتا ہے۔اسی حوالے سے ’’امت‘‘ نے سابق مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن سے گفتگو کی۔ڈاکٹر اشفاق آج کل نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد کے شعبہ اقتصادیات کے سربراہ ہیں۔ان سے ہونے والی گفتگو کچھ اس طرح رہی:
س:افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے میں پاکستان کو اقتصادی اعتبار سے کیا فائدہ پہنچے گا؟
ج:سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ حکومت پاکستان نے اس معاہدے پر صرف سیاسی ضرورت یا مجبوری کے تحت دستخط کئے ہیں۔کسی اقتصادی جواز کی وجہ سے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے گئے۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہماری کسی قسم کی اقتصادی ضروریات افغانستان سے نہیں پوری ہو رہی تھیں۔صرف سیاسی مجبوری کی وجہ سے اس پر دستخط کئے گئے ہیں۔افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ میں پاکستان کو کبھی فائدہ نہیں ہوا ہے،بلکہ نقصان ہی ہوا ہے،کیونکہ اس تجارت نے پاکستان میں اسمگلنگ کو فروغ دیا ہے اور پاکستان کی صنعتیں اس سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ نہ صرف صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے،بلکہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں پاکستان کا بڑا نقصان ہوا ہے۔
اس کی مثال میں اس طرح سے دے سکتا ہوں۔جیسے چائے ہے،کالی چائے۔افغانستان میں قہوہ کا رواج عام ہے،لیکن کینیا اور دوسرے ممالک سے وہاں چائے آتی ہے،جو افغانستان کیلئے ہوتی ہے اور وہ چائے افغانستان میں استعمال نہیں ہوتی،بلکہ اسمگل ہو کر پاکستان آ جاتی ہے۔پاکستان کو ان اشیا پر ڈیوٹی کی شرح کم کرنی پڑ رہی ہے،تاکہ اس اسمگلنگ کو روکا جاسکے اور وہ اسمگلروں کیلئے زیادہ منافع بخش نہ ہوسکے،مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی نقصان اٹھانا پڑا کہ اگر ہم نے ڈیوٹی کم کی ہے،تو اس کی وجہ سے ہم نے آمدنی کو بھی کھویا،کیونکہ اس مد میں پاکستان کو اپنی کسٹم ڈیوٹی کو بہت حد تک کم کرنا پڑا ہے۔ماضی کے تمام تجربات بتاتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ میں پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے اور یہ باتیں ہم افغانستان کے ساتھ بات چیت کے فورم پر اٹھاتے رہتے تھے۔ہم نے ان کو یہ بھی تجویز دی تھی کہ دنیا سے آپ کا جو بھی سامان پاکستان آتا ہے اور کراچی پورٹ پر اس کی کلیئرنس ہوتی ہے،ہمیں افغان حکومت اجازت دے کہ ہم اس کی جانب سے کسٹم ڈیوٹی چارج کر لیں اور یہ رقم جمع کر کے ہم افغان حکومت کے حوالے کر دیتے ہیں،تاکہ اس سامان کی ڈیوٹی پاکستان میں ادا ہو جائے،لیکن افغان حکومت کبھی اس کیلئے رضامند نہیں ہوئی۔ اب اگرچہ ہماری حکومت نے یہ کہا ہے کہ بھارت کی کوئی ایکسپورٹ واہگہ کے ذریعے نہیں ہو گی۔ 
کیا کسی کی عقل میں یہ بات آتی ہے کہ افغانستان کے کسی شہر سے ایک ٹرک چلتا ہے،چاہے کابل سے یا جلال آباد سے،وہ کئی ہزار میل کا سفر طے کر کے واہگہ پہنچتا ہے اور سامان اتار کر خالی ٹرک واپس چلا جائے گا،کسی کی عقل اس بات کو مانتی ہے کہ وہاں سے خالی ٹرک جائے گا اور تجارت میں اس طرح کے معاملات کو کوئی نہیں مانتا۔یہ ممکن نہیں ہے،افغانستان خالی ٹرک بھارت کی برآمدات لیکر آئے گا،بھارت اپنی سرحد تک افغانستان تک پہنچانے والی اشیا لائے گا،وہی مزدور اپنے کاندھوں پر بھارتی سامان اٹھا کر افغانستان کے ٹرک پر لادیں گے اور وہ ٹرک افغانستان چلا جائے گا اور اس طرح ایک زمینی راستے سے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت ہو گی۔پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو گا؟پاکستان کا مفاد کہاں گیا؟ کسی نے اس کے مفاد کا تحفظ نہیں کیا۔پاکستان کو ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارت سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔یہ ایک ایسا معاہدہ ہے،جس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔اس کا فائدہ صرف بھارت اور افغانستان اٹھا رہے ہیں۔ 
اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ افغانستان کو کسی قسم کی بھی بھارتی ایکسپورٹ کی اجازت واہگہ کے راستے نہیں ہو گی،لیکن اس کے ساتھ یہ جملہ بھی شامل ہے کہ اس مرحلے پر یعنی آئندہ کوئی اور مرحلہ آسکتا ہے۔اس معاہدے میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا ہے کہ کب سے وہ مرحلہ آئے گا۔ حکومت پاکستان اس پر بات چیت کریگی،لیکن حکومت پابند ہو گئی ہے کہ وہ بھارت کو بھی افغانستان کیلئے واہگہ کی تجارتی راہداری دے۔یہ باب بند نہیں ہوا ہے۔یہ باب کھلا ہوا ہے کہ جب بھی کہیں سے دبائو پڑے گا تو حکومت،بھارت کیلئے بھی راستہ کھول دیگی۔مجھے تو یہ نظر آ رہا ہے کہ حکومت قدم بہ قدم اسی راستہ پر چل رہی ہے کہ واہگہ کے راستے بھارت اور افغانستان کی تجارت کو جاری کر دیا جائے۔
س:لیکن حکومت نے کہا ہے کہ افغانستان کے ٹرک کو دیکھا جائے گا کہ وہ اسمگلنگ کیلئے تو استعمال نہیں ہو رہا ہے؟ حکومت نے کہا ہے کہ ہم اس پر ٹریکنگ ڈیوائس لگائیں گے؟
ج:حکومت نے یہ ضرور کہا ہے کہ وہ ٹرک پر ٹریکنگ ڈیوائس لگائیں گے،تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ٹرک کس راستے پر چل رہا ہے۔لیکن ٹریکنگ ڈیوائس کس قدر قابل اعتماد ہے،اس کی مثال یہ ہے کہ میرے ایک ساتھی ہیں،جو راولپنڈی میں رہتے ہیں،وہاں سے چند دن پہلے ان کی کار چوری ہو گئی اور گھر سے چوری ہوئی،اس گاڑی میں ٹریکنگ ڈیوائس بھی لگی ہوئی تھی،لیکن آج تک ان کی گاڑی نہیں ملی اور نہ ہی یہ پتہ چلا کہ وہ گاڑی کہاں گئی۔آپ جانتے ہیں کہ اس نظام کو چلانے کیلئے اس محکمے کا دیانت دار ہونا کتنا ضروری ہے،جو عام گاڑیاں چوری ہو جاتی ہیں،تو ایک ایسے ٹرک کو چوری کرنے میں کیا مشکلات پیش آئیں گی،چاہے اس میں ٹریکنگ ڈیوائس ہو یا نہ ہو،اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ یکطرفہ تجارت ہے،اس مرحلے پر صرف افغانستان کا مال بھارت پہنچے گا اور ٹرک وہاں سے خالی واپس آئے گا،اب تک تو یہی معلوم ہوتا ہے۔
س:افغانستان میں کون سی اشیا ہیں جو تیار ہوتی ہیں یا ان کی کون سی پیداوار ہے جو ایکسپورٹ کے قابل ہے؟
ج:یہی تو سوال ہے کہ افغانستان میں کیا چیزیں بن رہی ہیں،جو اتنی معیاری ہیں کہ بھارت ان کے ساتھ تجارت کیلئے بے چین ہے۔سوائے خشک میوہ جات کے۔کہیں سے بھی اور کسی طرح سے بھی یہ اقتصادی طور پر مفید نظر نہیں آتا۔یہ مجھے اقتصادی طور پر تو دانشمندانہ فیصلہ نظر نہیں آتا۔محض یہ ایک سیاسی دبائو کا نتیجہ ہے کہ آئندہ کیلئے ایک راستہ تلاش کر لیا گیا ہے،تاکہ آئندہ پاکستان اعتراض نہ کر سکے۔
س:لیکن پاکستان کی رسائی تو وسطی ایشیا تک ہو گئی ہے اور پاکستان کو ایک بڑی مارکیٹ مل گئی ہے؟
ج:ہاں اس معاہدے میں یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ہم نے پاکستان کو وسطی ایشیا تک رسائی دیدی ہے۔ اب آپ غور کریں کہ جن لوگوں نے یہ راہداری دلوائی ہے،وہ خود اسے استعمال نہیں کرتے۔اگر وسطی ایشیا کی راہداری اتنی ہی محفوظ ہے،تو پھر نیٹو والے سینٹرل ایشیا سے اپنا سامان کیوں نہیں منگواتے۔انہیں کیوں کراچی کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے،اگر وہ راستہ اس قدر محفوظ ہے۔ افغانستان جو کہ خود ایک جنگی کیفیت میں ہے،وہاں سے ہمارے سامان کے بھرے ٹرک آسانی سے جا سکیں یا آسکیں۔عملاً تو نیٹو کی افواج خود بھی اپنے سامان کی حفاظت نہیں کر سکتیں۔ پاکستان میں جب نیٹو کے کنٹینرز پر حملے شروع ہوئے تو نیٹو نے کہا کہ ہم وسطی ایشیا سے اپنا سامان لیکر افغانستان لاتے ہیں،لیکن نہیں لاسکے،اگر وہ راستہ اتنا ہی محفوظ ہے تو وہاں سے وہ کیوں نہیں اپنا سامان لے آتے۔

"روزنامہ امت"
خبر کا کوڈ : 31629
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب