0
Thursday 17 Jul 2014 23:28

سیاسی مداخلت کے باعث محکمہ صحت کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے، میر رحمت صالح بلوچ

سیاسی مداخلت کے باعث محکمہ صحت کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے، میر رحمت صالح بلوچ
اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہیلتھ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے صحت کے حوالے سے عوام کو مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی مداخلت کی وجہ سے محکمہ صحت کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔ سیاسی مداخلت کو ختم کرتے ہوئے محکمہ صحت کو بحال بنائیں گے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر تاج رئیسانی و دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد ہر صوبہ کو اپنی ہیلتھ پالیسی بنانی ہے۔ میڈیا کیساتھ نشست کا مقصد یہی ہے کہ میڈیا کی گرفت بہت زیادہ ہوتی ہے جو ہماری خامیوں کی نشاندہی کرتا رہتا ہے۔ ان کیساتھ مشاورت کرکے ہی ہم موثر اور بہتر پالیسی تشکیل دینا چاہتے ہیں، تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات میسر آسکیں، کوئٹہ کے 6 بڑے سرکاری ہسپتال ہیں۔ جن میں مریضوں کا رش بہت زیادہ رہتا ہے اور اس بوجھ کی بنیادی وجہ اندرون بلوچستان ضلعی سطح پر ڈی ایچ کیو یا ڈسٹرکٹ ہسپتال کی عدم فعالیت ہے۔ ہیلتھ پالیسی کے نہ ہونے کی وجہ سے صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم ہیلتھ پالیسی کی تشکیل پر کام کر رہے ہیں۔ جہاں ہمارا ٹیکنیکل اسٹاف محکمہ صحت میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے حوالے سے کوشاں ہے، وہاں ہم میڈیا و دیگر افراد سے بھی تجویز لے رہے ہیں، تاکہ بہتر سے بہتر اور موثر پالیسی بناکر محکموں کو مکمل طور پر فعال بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے ہم نے متعدد بار اسمبلی فلور پر بھی بات کی ہے کہ سیاسی مداخلت کے خاتمہ کے بغیر محکمہ صحت کی صورتحال میں بہتری نہیں آسکی۔

تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر ہی اس حوالے سے اقدامات کئے جائیں گے، جہاں تک میڈیا کی جانب سے محکمہ صحت کی کارکردگی پر تنقید کی جاتی ہے، اس حوالے سے بھی صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اگر مشینری کی خرابی کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ تو یہ وہ مشینری ہے جو سابقہ دور حکومت میں خریدی گئی اور آج وہ خراب پڑی ہے۔ ہم نے ایسی کوئی خریداری نہیں کی، ماضی میں ادویات کی لوکل پرچیزنگ سے وزراء کے گھر چلتے تھے، لیکن ہم نے کسی قسم کی لوکل پرچیزنگ نہیں کی اور ادویات بھی ملٹی نیشنل کمپنی سے خریدی گئی ہیں اور اس میں تمام ہسپتال کی انتظامیہ اور ڈاکٹرز سے مشاورت کے بعد ہی خریداری کی گئی ہے۔ میڈیا تنقید ضرور کرے، لیکن مثبت تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے ہم اپنی خامیوں کو دور کریں گے، لیکن ایک شکوہ میڈیا سے بھی ہے میڈیا منفی انداز میں تو تنقید کر رہا ہے۔ لیکن جو موجودہ دور حکومت میں محکمہ صحت کے حوالے سے بہتری آئی ہے۔ انجیوگرافی اور انجیو پلاسٹری مشین فعال بنا دی گئی ہے اور اس سے کئی مریض استفادہ کرچکے ہیں۔ لیکن ہماری ایک چھوٹی سی کاوش میڈیا کی خبر نہ بن سکی، مردہ خانہ کے حوالے سے بار بار خبریں آتی ہیں۔ ہم اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ بلوچستان کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں کوئی مردہ خانہ نہیں۔ البتہ سول ہسپتال میں جس جگہ کو مردہ خانہ کے طور پر دکھایا جا رہا ہے، وہ پوسٹ مارٹم کی جگہ ہے، جہاں کوئٹہ سمیت مختلف حصوں سے ملنے والی لاشوں کو لایا جاتا ہے، وہاں صفائی کی صورتحال ابتر ضرور ہے اور متعدد بار متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ وہاں صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ قبل ازیں میڈیا سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد نے اپنی تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ مسائل بے تحاشہ ہیں، بلوچستان میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، دوران زچگی ماں اور بچے کی شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، اس پر قابو پانے کیلئے صحت کی سہولیات کی بہتر فراہمی کے حوالے سے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

غیر حاضر ڈاکٹرز کو ان کی ڈیوٹی پر لانے کیلئے وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پہلے سال تو اچھا آغاز کیا، لیکن پھر اس سلسلہ میں کمی آنا سوالیہ نشان ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی اساتذہ اور ڈاکٹرز کی زیادہ حامی رہی ہے اور ان دونوں جماعتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹرز اور اساتذہ کو ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا پابند بنائیں۔ اس موقع پر تجویز دی گئی کہ پرائیویٹ ہسپتال کے حوالے سے قانون سازی کی جائے اور کسی بھی سرکاری ڈاکٹر کو پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت نہ دی جائے اور سرکاری ہسپتال میں ادویات کمپنی کے نمائندوں کے داخلہ پر پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں، او پی ڈی میں کھلی کچہری لگائیں، تاکہ انہیں ہسپتال میں مریضوں کو درپیش مشکلات سے آگاہی مل سکے، محکمہ صحت میں ڈاکٹرز کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس وقت جو صورتحال ہے اس سے یہ محکمہ صرف تنخواہیں ادا کرنے والا محکمہ ہی بن کر رہ گیا ہے، عوام کو صحت کی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی۔ اس موقع پر یہ تجاویز بھی دی گئی کہ محکمہ صحت کی کارکردگی اور موثر اور بہتر بنانے کیساتھ ساتھ تمام سرکاری ہسپتال اور شہر میں موجود میڈیکل اسٹور مالکان کو اس کا پابند بنایا جائے، آئندہ ان سے کوئی بھی ادویات خریدی جائیں گی تو وہ اس کی رسید بنا کر دے گا۔
خبر کا کوڈ : 400072
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب