0
Friday 3 Oct 2014 18:45
ولی امر مسلمین جہان کا حج کی مناسبت سے اہم پیغام

عالمی استعمار کیجانب سے تکفیری دہشتگرد گروہوں کی تشکیل کا مقصد اسرائیل کی حفاظت ہے، سید علی خامنہ ای

اسلامک جہاد اور حماس کے مجاہدین اپنے عزم اور ہمت کو بڑھائیں
عالمی استعمار کیجانب سے تکفیری دہشتگرد گروہوں کی تشکیل کا مقصد اسرائیل کی حفاظت ہے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے حج کے عظیم روحانی اجتماع کی مناسبت سے حجاج کرام کے نام اپنے پیغام میں عالم اسلام کی مشکلات پر توجہ اور امت مسلمہ سے متعلق اہم ترین امور کے بارے میں گہری اور وسیع نظر کو حاجیوں کے شرعی وظائف اور آداب میں سرفہرست قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین، مسئلہ فلسطین، حقیقی محمدی اسلام اور امریکی اسلام میں فرق کو سمجھنا عالم اسلام کی پہلی ترجیح ہے۔ امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ قلبی بصیرت اور عمیق نگاہ کے ذریعے ان مسائل سے متعلق اپنے شرعی وظائف پر عمل کریں۔ حجاج کرام کے نام ولی امر مسلمین جہان کے پیغام کا ترجمہ اسلام ٹائمز اردو کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
والحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی محمد و آله الطاھرین
شوق اور احترام کے ساتھ آپ سعادت مند حضرات پر درود اور سلام بھیجتا ہوں، جنہوں نے قرآن کریم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے خانہ خدا کی ضیافت اختیار کی۔ سب سے پہلے یہ کہوں گا کہ اس عظیم نعمت کی قدر و قیمت جانیں اور اس بے مثال شرعی وظیفے کے انفرادی، اجتماعی، روحانی اور بین الاقوامی پہلووں پر غور و فکر کرتے ہوئے اس کے اہداف سے قریب ہونے کی کوشش کریں اور اس کام میں اپنے رحیم اور قدیر میزبان سے مدد کی درخواست کریں۔ میں آپ کے ساتھ ہم دل اور ہم صدا ہوتے ہوئے خداوند غفور و منان سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ پر اپنی بھرپور نعمتیں نازل فرمائے اور جس طرح اس نے آپ کو حج پر آنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اسی طرح حج کو مکمل کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے اور پھر اپنے فضل و کرم سے آپ کا حج قبول فرما کر آپ کو بھرے ہاتھوں صحیح و سلامت اپنے وطن واپس پہنچائے، انشاءاللہ۔

حج جیسے بامعنی اور بے مثال فریضے میں روحانی پاکیزگی اور ترقی کے علاوہ، جو حج کا بہترین اور بنیادی ترین ثمرہ ہے، عالم اسلام کے مسائل پر توجہ اور امت مسلمہ سے مربوط اہم ترین موضوعات پر گہری اور وسیع نگاہ ڈالنا بھی حجاج کرام کے اہم شرعی وظائف میں شمار ہوتا ہے۔ آج انہیں اہم اور پہلی ترجیح کے حامل موضوعات میں سے ایک اتحاد بین المسلمین اور امت مسلمہ میں تفرقہ اور جدائی ڈالنے والی مشکلات کو حل کرنے کا مسئلہ ہے۔ حج، وحدت اور اتحاد کا مظہر اور بھائی چارے اور تعاون کا مرکز ہے۔ سب کو چاہئے کہ وہ حج کے موقع پر مشترکہ امور پر توجہ دینے اور اختلافات کو دور کرنے کا سبق سیکھیں۔ استعماری پالیسیوں کے پلید ہاتھ ایک عرصے سے اپنے منحوس اہداف کے حصول کیلئے فرقہ واریت کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں۔ لیکن آج جب اسلامی بیداری کی برکت سے مسلمان اقوام استعماری قوتوں اور صہیونیزم کی دشمنی کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے ان کے مقابلے میں صف آرائی ہو چکی ہیں، مسلمانوں میں فرقہ وارانہ اختلافات ڈالنے کی پالیسیاں بھی مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔ مکار دشمن اس کوشش میں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان لڑائی ڈال کر ان میں موجود مزاحمت اور جہاد کے جذبے کو غلط سمت میں موڑ دے اور اس طرح مسلمانوں کے حقیقی دشمنوں یعنی اسرائیل کی صہیونی رژیم اور استعماری طاقتوں کے پٹھووں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ مغربی ایشیا کے خطے میں تکفیری اور مشابہ دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اسی غدارانہ سیاست کا نتیجہ ہے۔ یہ ہم سب کیلئے ایک وارننگ ہے کہ ہم آج اتحاد بین المسلمین کو اپنے قومی اور بین الاقوامی فرائض میں سرفہرست قرار دیں۔

ایک اور اہم موضوع، مسئلہ فلسطین ہے۔ غاصب صہیونی رژیم کی تشکیل کو 65 برس گزر جانے اور اس اہم اور حساس مسئلے میں متعدد نشیب و فراز آنے، خاص طور پر گذشتہ چند سالوں کی قتل و غارت اور خونریزی کے بعد دو حقیقتیں سب کیلئے عیاں ہوچکی ہیں: ایک یہ کہ صہیونی رژیم اور اس کے مجرم پیشہ حامی سنگدلی، درندگی اور تمام انسانی و اخلاقی اقدار کو پامال کرنے میں کسی حد کے قائل نہیں۔ مجرمانہ اقدامات، نسل کشی، نابودی، بے آسرا بچوں اور خواتین کا قتل عام اور ہر ممکنہ جرم کو اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ غزہ پر تھونپی گئی حالیہ 50 روزہ جنگ کے رلا دینے والے مناظر ان تاریخی جرائم کی تازہ ترین مثال ہے جو گذشتہ نیم صدی میں بارہا انجام پا چکے ہیں۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ غاصب صہیونی حکام اور ان کے حامی اپنے ان سفاکانہ اور تباہ کن اقدامات کے باوجود مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ صہیونی رژیم کے خبیث سیاستدانوں کی جانب سے اپنے دل میں طاقت اور استحکام کی احمقانہ آرزوئیں پالنے کے باوجود یہ رژیم روز بروز زوال اور نابودی کی جانب گامزن ہے۔ صہیونی رژیم کی تمام تر طاقت کے مقابلے میں محاصرے کا شکار بے آسرا غزہ کی بھرپور ثابت قدمی اور آخرکار اس رژیم کی ناکامی، عقب نشینی اور اسلامی مزاحمت کی پیش کردہ شرائط کو قبول کرنے پر مجبور ہو جانے نے اس کے ضعف اور ناتوانی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملت فلسطین کو ہر وقت سے زیادہ امیدوار ہونا چاہئے، اسلامک جہاد اور حماس کے مجاہدوں کو اپنے عزم و ہمت میں اضافہ کرنا چاہئے، مغربی کنارہ اپنے ہمیشگی افتخار آمیز راستے کو مزید طاقت اور استحکام کے ساتھ آگے بڑھائے، مسلمان اقوام اپنی حکومتوں سے مطالبہ کریں کہ وہ حقیقی طور پر سنجیدگی سے فلسطین کی حمایت کریں اور مسلمان حکومتیں اس راستے پر صداقت اور خلوص نیت سے گامزن ہوجائیں۔

تیسرا اہم اور ترجیح کا حامل موضوع عالم اسلام کے مخلص سرگرم عمل اشخاص کی جانب سے حقیقی محمدی اسلام اور امریکی اسلام کے درمیان فرق کو سمجھنے کیلئے ذہانت آمیز نگاہ کا ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ خود بھی ان دو قسم کے اسلام کو آپس میں خلط کرنے سے بچیں اور دوسروں کو بھی اس سے بچائیں۔ سب سے پہلی بار ہمارے عظیم مرحوم امام (امام خمینی رہ) نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا اور اسلامی دنیا کی سیاسی ڈکشنری میں اس کا اضافہ کیا۔ حقیقی اسلام دوستی اور روحانیت والا اسلام، پرہیزگاری اور جمہوریت والا اسلام، "اَشِدّاءُ عَلَى الکُفّار رُحَماءُ بَینَهُم" (سورہ فتح، آیہ 29) والا اسلام ہے۔ امریکی اسلام اغیار کی غلامی پر اسلام کا لبادہ اوڑھانے اور امت مسلمہ سے دشمنی والا اسلام ہے۔ ایسا اسلام جو مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کی آگ بھڑکاتا ہو، الہی وعدے پر تکیہ کرنے کی بجائے خدا کے دشمنوں پر بھروسہ کرتا ہو، صہیونیزم اور استعمار سے مقابلہ کرنے کی بجائے مسلمان بھائی سے جنگ پر اکساتا ہو، مستکبر امریکہ کے ساتھ اپنی ہی قوم یا دوسری قوموں کے خلاف متحد ہونے کا درس دیتا ہو، اسلام نہیں بلکہ ایسی خطرناک اور مہلک منافقت ہے، جس کے خلاف ہر سچے مسلمان کو ڈٹ جانا چاہئے۔

حق کا ہر متلاشی عمیق تفکر اور بصیرت کے ہمراہ نگاہ کے ذریعے عالم اسلام کے ان اہم حقائق اور مسائل کو درک کرتے ہوئے کسی شک و شبہ کے بغیر اپنے وظیفے کی تشخیص دے سکتا ہے۔ حج کے مناسک اور شعائر اس بصیرت کے حصول کا سنہری موقع ہے۔ امید ہے آپ حجاج کرام اس الہی فیض سے بھرپور انداز میں بہرہ مند ہوسکیں گے۔ آپ سب کو خداوند متعال کے سپرد کرتا ہوں اور خدا سے دعاگو ہوں کہ آپ کی عبادت کو قبول فرمائے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
سید علی خامنہ ای
خبر کا کوڈ : 413060
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب