0
Monday 15 Dec 2014 16:34

پاکستان نے ایران سے خام تیل کی درآمد دوبارہ شروع کر دی

پاکستان نے ایران سے خام تیل کی درآمد دوبارہ شروع کر دی
اسلام ٹائمز۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان نے ایران سے خام تیل کی درآمد دوبارہ شروع کر دی۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر اور فنانشل ٹریبیون کے مطابق ایران کے وزیر اقتصادیات اور پاکستانی وزیر پٹرولیم نے تین سالہ معطلی کے بعد پاکستان کو ایران سے تیل کی برآمد دوبارہ شروع کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ واضح رہے کہ  تین سال قبل ایران اور پاکستان کے درمیان 12ہزار بیرل یومیہ تیل کی درآمد کا معاہد ہ کیا گیا تھا، جو اس وقت سے تعطل کا شکار ہے، پاکستان کو ایرانی خام تیل کی برآمدات تین سال قبل کراچی ریفائنری روک دی گئی تھی، تین سال قبل نیشنل ایرانی آئل ریفائنری اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی اور پاکستان آئل ریفائنری کمپنی نے ایک طویل مدتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق ایران خام تیل کی تقریباً 12 ہزار بیرل یومیہ پاکستان کو فروخت کرنا تھی۔ نومبر 2011ء کے بعد سے ایران کے تیل کے شعبے پر عائد غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیوں کے بعد پاکستان نے لیٹرز آف کریڈٹ سے متعلقہ کے کئی مسائل سے ایرانی تیل کی درآمد روک دی تھی۔ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ ایران سے تیل کی درآمد میں رکاوٹ کی وجہ، کراچی ریفائنری میں تیکنیکی مسائل تھی کیونکہ پاکستان میں صرف یہی ایک ریفائنری تھی جو ایرانی تیل کو ریفائن کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے 19 ویں مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کے اجلاس کے بعد ایرانی وزیر اقتصادیات علی طییب نیا اور پاکستان کے وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل خاقان عباسی کی پاکستان کو ایران کے تیل کی برآمد دوبارہ شروع کرنے کے ایک نئے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ ایرانی اخبار کے مطابق پاکستان کی طرف سے 2011ء سے ادائیگیاں نہیں کی جا سکی تھی، کیونکہ کوئی بینک بھی خدمات پیش کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ حکومت پاکستان بارٹر تجارت کے ذریعے بھی ادائیگیاں کرنے میں ناکام رہی، کیونکہ بینکوں اور شپنگ کمپنیوں کی ہچکچاہٹ آڑے آتی رہی۔ پاکستان نے ایران کو واضح کر دیا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کی طرف عائد پابندیوں کی وجہ سے انہیں توانائی کی تجارت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک کے خام تیل کی برآمدات کے لئے بینکاری کے انتظامات کو کس طرح حل کیا جائے یہ ابھی واضح نہیں۔ پاکستان اپنے واجبات کی ادائیگی کے لئے مبینہ طور پر ترکی اور بھارت کا ماڈل اپنانے پر غور کر رہا ہے۔ ترکی ایران سے گیس کی فراہمی کے بدلے سونے جیسی قیمتی دھاتیں ایران کوفراہم کرتا ہے، بھارت ایران کو پٹرولیم مصنوعات کی ادائیگیاں مقامی بینکوں کے ذریعے کرتا ہے جن کی دنیا بھر میں شاخیں نہیں۔
خبر کا کوڈ : 425813
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب