0
Wednesday 28 Apr 2021 19:07

کسی بھی شہری کو جبری لاپتہ کرنا غیر قانونی اور آئین پاکستان کے خلاف ہے، خالد راؤ

کسی بھی شہری کو جبری لاپتہ کرنا غیر قانونی اور آئین پاکستان کے خلاف ہے، خالد راؤ
اسلام ٹائمز۔ سول سوسائٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام کلفٹن تین تلوار پر شیعہ مسنگ پرسن کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سول سوسائٹی کے رہنما خالد راؤ، علی اویس، عباس جعفری، اسد گوکل، نعمان حیدر سمیت مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی جو بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر ملکی حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے سربراہان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ درج تھا۔ اس موقع پر مظاہرین نے اپنے چہروں پر پلاسٹک کے ماسک بھی لگائے ہوئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ مخصوص انداز حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی بے حسی اور لاقانیوت کو ظاہر کرتا ہے جو اب تک ان لاپتہ افرادکے معاملے میں خاموش ہیں۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں سول سوسائٹی کے رہنما خالد راؤ کا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، ملک کے کسی بھی شہری کو جبری لاپتہ کرنا غیر قانونی اور آئین پاکستان کے خلاف ہے، ملک میں دہشتگرد آزاد اور بے گناہ لاپتہ ہورہے ہیں، جبری لاپتہ افراد کے اہل خانہ مزار قائد پر اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو کیا یہ ناانصافی نظر نہیں آتی، پچیس دنوں سے مزار قائد پر شیعہ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ سے کسی وزیر یا مشیر نے ملاقات تک نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے مسئلہ پر پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہو رہی ہے، سول سوسائٹی اپنے شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، حکومت اور ریاستی اداروں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مظاہرے سے خطاب میں رہنما جوائنٹ ایکشن کمیٹی علی اویس کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے رات کی تاریکی میں نوجوانوں کے اغواء کی مذمت کرتے ہیں، جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج کے سلسلے کو بڑھا دیا گیا کہ اس کے ساتھ ہی لاپتہ افرادکے حوالے سے عوامی آگاہی مہم بھی جاری ہے۔
خبر کا کوڈ : 929709
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش