0
Saturday 15 Nov 2014 22:46

اردو شاعری میں کربلا کا تاثر (2)

اردو شاعری میں کربلا کا تاثر (2)
تحریر: حسن رضا نقوی

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترقی پسند شاعری کے مرکزی حوالے بھی سنت منصور اور ذکرِ دار و رسن ہے اگر ترقی پسند شعراء میں سے فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی کو لیا جائے تو انکی غزلوں اور نظموں میں کربلا کے استعارے برابر ملتے ہیں۔ اِن استعاروں میں " مقتل، حساب چکانا، بےگناہی، شان سلامت رہنا، پرسشِ دربار، دریدہ دامنی، چراغ بجھنا اور فیض کی دستِ تہِ سنگ کی ایک نظم، آج بازار میں پا بجولاں چلو" بھی کربلا کے استعاروں کی جھلک ہے۔ علی سردار جعفری نے اپنے مجموعوں کے ناموں تک میں خون اور لہو کا استعمال کیا ہے، مخدوم محی الدین نے بھی اپنی شاعری میں تشنہ لبی، شام غریباں، قتلِ حسین ؑ، طوق، آبلہ پائی صبحِ دم ماتم ارباب کی طرز کے استعارے اِن کی شاعری میں تاریخی نوعیت کے ہیں۔ مجید امجد کا یہ شعر دیکھئے۔
سلام ان پہ تہہ تیغ بھی جنہوں نے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا جو تو چاہے
مجید امجد اس اعتبار سے بےمثل ہیں کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی دنیا کے ہنگاموں سے دور ایک قصبے میں گزار دی۔ مجید امجد کی بہت سی نظموں کے عنوان سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کربلا کے کرداروں کا کتنا اثر ہے مثلاً انکی نظم "حسین" ، "چہرہ مسعود" جس میں جگہ جگہ بکھری ہوئی نورانی قبروں اور مرنے والوں کا سوگ بھی ایک عبادت ہے اور ماﺅں اور بہنوں کی یاد اور آنسوﺅں کا ذکر ملتا ہے۔ ایک اور نظم "حضرت زینب" ۔۔ جسکا پہلا شعر یہ ہے
وہ قتل گاہ وہ لاشے وہ بے کسوں کے نام
وہ شب وہ سینہ کونین میں غموں کے نام

منیر نیازی کی شاعری میں بھی کربلا کا یہ طلسماتی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثلا ً گلی کوچے شہروں کا جلنا، مصیبت زدہ نگر، در و دےوار، پھیلتی ہوئی شام، صدائیں، آفت زدہ شہروں کی دہشت وغیرہ۔ منیر نیازی نے اپنے مجموعے " دشمنوں کے درمیان شام " کا انتساب ہی اِمام حُسین ؑ کے نام کیا ہے۔ ماہ ِ منیر میں بھی ایک نظم لکھی ہے جس کا عنوان ہے"شہید ِ کربلا کی یاد" ۔ مصطفٰی زیدی کا ایک نامکمل مرثیہ "کربلا اے کربلا" بہت مشہور ہے۔ شہرت بخاری نے بھی سے اسی اور کو فی تصور کا ذکر کیا ہے۔ اِن کا ایک مشہور شعر یہ ہے
                          لاہور کہ اہل دِل کی جاں تھا       
کوفے کی مثال ہو گیا ہے
اِن کی کربلا سے متعلق شاعری رسمی اظہار سے ہٹ کر حقیقت کے اظہار کے قریب ہے۔

احمد فراز، کِشور ناہید، افتخار عارف اور پروین شاکر اِن سب کے ہاں زیر بحث موضوع کے رجحان کی واضح نشاندہی موجود ہے۔ احمد فراز کا ایک حوالہ دے کر آگے بڑھتا ہوں۔ اِن کی ایک غزل جس میں "شہر ِ نا پرساں" کی منظر کشی کی گئی ہے، اس میں بھی اس تاریخی حوالے کی یاد کے اثر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

چاند رُکتا ہے نہ آتی ہے صبا زنداں کے پاس
کون لے جائے میرے نامے میرے جاناں کے پاس
چند یادیں نوحہ گر ہیں خیمہ ِ دِل کے قریب
چند تصویریں جھلکتی ہیں صف ِ شرگاں کے پاس
شہر والے سب امیر ِ شہر کی مجلس میں ہیں
کون آئے گا غریب ِ شہر نا پرساں کے پاس

اب میں اس شاعر کا ذکر کرتا ہوں جس کا کربلا سے متعلق رجحان اس کے شعری شناخت کا حصہ بن گیا ہے۔ میری مراد ہے، افتخار عارف۔ افتخار کی شاعری میں کربلا کے استعاروں کا گہرا اثر ملتا ہے اور یہ کردار بڑی مہارت سے نبھائے گئے ہیں۔ مثلاً گھمسان کا رن، قافلہ بے سرو ساماں، دشت، شام ِ غریباں، سپاہ ِ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر، مدح قاتل میں مقالے بھی تیرے شہر سے آئیں، یا شہر تذبذب، خیمہ عافیت جاں کی طنابیں، خون بہا، منافقوں میں گھِرا ہوا، جاہ پرستی اور رزق کی مصلحت وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارے کردار مل کر شعر کو اس طرح بنا دیتے ہیں کہ جس کے بغیر شعر میں تاثیر پیدا نہیں ہو سکتی اور افتخار عارف کے شعور میں دربدری، قید خانوں، اپنی آنکھوں میں پیاروں کا خون کے طرح کے استعارے ان پر کربلا کے اثر کو اور نمایاں کرتے ہیں۔ افتخار عارف کا شعر دیکھئے۔
جس کی کوئی آواز نہ پہچان نہ منزل
وہ قافلہ بے سرو ساماں بھی میرا ہے
ویرانہ ِمقتل پہ حجاب آیا تو اس بار
خود چیخ پڑا میں کہ یہ عنواں بھی میرا ہے
وارفتگی صبح بشارت کو خبر کیا
اندیشہ صد شام ِ غریباں بھی میرا ہے

پروین شاکر کے ہاں زیر بحث موضوع کے نسوانی احساس کو بڑے درد و کرب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس کی اصل ساخت شام ِ غریباں ہے۔ پروین شاکر کی ایک نظم " ادرکنی" میں حضرت زینبؑ کے کردار اور ان کی مصیبت کا احساس ملتا ہے۔ پروین کی غزلوں میں بھی کربلا کے استعاروں کا اثر ملتا ہے۔
خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے
زخمی تھا بہت پاﺅں مسافت بھی بہت تھی
خوش آئے تجھے شہرِ منافق کی امیری
ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی

موضوع کو سمیٹتے ہیں۔ غرض یہ کہ اردو ادب میں 400 سے زائد ایسے استعارے موجود ہیں جو ہم چاہے عشقیہ اشعار میں استعمال کریں یا مزاحمتی یا دار و ر سن کی بات ہو تو کربلا کے واقعے کی یاد دلاتے ہیں اور اُن اشعار میں سے جو اُردو شاعری پر اثر پذیر ہیں کچھ کا ذکر آج کی بحث میں کیا ہے۔ اِس باب میں مطلب بہت زیادہ اور اُردو ادب کے جِن شاعروں کا تذکرہ کربلا کر اثر پذیر ہونے کے حوالے سے کیا ہے یہ تذکرہ تعارف کے طور پر ہے، البتہ ان سب شاعروں کی کربلا سے اثر پذیری اور اِس کے اظہار پر علیحدہ علیحدہ ہر شاعر پر کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 419401
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب