0
Saturday 9 Jul 2016 17:23

دنیا دوسری سرد جنگ کے دہانے پر

دنیا دوسری سرد جنگ کے دہانے پر
تحریر: عباس زارعی

امریکہ، روس اور چین اس وقت ایسے نئی نسل کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں جو ایٹم بم سے کم تباہی کے حامل ہوں۔ یہ امر اسلحہ کی نئی دوڑ یا سرد جنگ کے نئے دور کے آغاز کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح یہ مسئلہ ایسے ممالک میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کا بھی باعث بن سکتا ہے جو گذشتہ نصف صدی سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے مالک ہیں۔ بڑے پیمانے پر دیکھا جائے تو یہ اقدام ایک پرانا کھیل ہے جو نئے انداز میں کھیلا جا رہا ہے کیونکہ روس اقتصادی اعتبار سے زوال کا شکار ہے جبکہ چین روز بروز اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہے اور امریکہ کی معیشت ایک مبہم مستقبل کی حامل ہے۔ امریکی حکام روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے سخت رویے کے باعث 2010ء میں ہتھیاروں پر کنٹرول کا معاہدہ تشکیل نہ پا سکا جس کے نتیجے میں بڑی طاقتوں کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی واقع نہ ہو سکی۔ بعض امریکہ کو اس قصوروار ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ نے سیکورٹی بہتر بنانے کے بہانے جوہری جدیدییت کے تحت نئی نسل کے جوہری ہتھیار بنانے کی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں جس کے نتیجے میں ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کا معاہدہ بے اثر ہو چکا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اسی ماہ کے آغاز پر واشنگٹن میں منعقدہ جوہری سیکورٹی سے متعلق ایک اجلاس کے اختتام پر اس خطرے کی جانب اشارہ کیا ہے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا کہ جدید، مہلک اور موثر ہتھیاروں کی ساخت اور انہیں بہتر بنانے کا نتیجہ بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی نئی دوڑ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ایسے شخص کی جانب سے اس بات کے اظہار جس نے 7 برس قبل منصب صدارت سنبھالتے وقت دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عزم کیا تھا، کا مطلب اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ممکن ہے جوہری ہتھیاروں میں کمی پر مبنی امریکی پالیسی کا نتیجہ جوہری ہتھیاروں کے دوسرے دور کی صورت میں نکلے۔ اوباما حکومت میں گذشتہ سرد جنگ کی باقیات تصور کئے جانے والے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمس آر کلیپر (James R. Clapper) سالانہ عالمی خطرات کے بارے میں سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو رپورٹ دیتے ہوئے کہتے ہیں: "اس بات کا امکان ہے کہ ہمیں سرد جنگ سے ملتی جلتی صورتحال میں داخل ہونا پڑے"۔ البتہ یہ سرد جنگ اس سرد جنگ سے مختلف ہو گی جس کا تجربہ کلیپر نے اپنی جوانی میں کیا تھا۔ وہ اس وقت امریکی ایئرفورس کے انٹیلی جنس افسر تھے اور جوہری بم حملوں کے خطرات سے آگاہ تھے جن کے ذریعے شہروں کو شدید انداز میں نابود کیا جا سکتا تھا۔

جوہری ہتھیاروں کی تجدید پر مبنی امریکی حکومتی پالیسی کے مخالفین کا موقف ہے کہ اس پراجیکٹ کے اخراجات انتہائی زیادہ ہیں۔ جیسا کہ گذشتہ تین عشروں کے دوران ہونے والے اخراجات کا اندازہ ایک کھرب ڈالر لگایا گیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ مخالف ممالک اس ایشو کو بہانہ بناتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کو مزید جدید اور پیچیدہ بنانے میں مصروف ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ماسکو ایسے لانگ رینج میزائل بنانے کی تیاریاں کر رہا ہے جن پر چھوٹے اٹم بم نصب کئے جا سکیں۔ روس کے خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق روسی نیوی اپنی آبدوزوں میں ایسی تبدیلیاں لا رہی ہے جن کے نتیجے میں یہ میزائل براہ راست ان آبدوزوں سے ہی فائر کئے جا سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایٹم بم فضا میں پھٹنے کی بجائے سمندروں میں پھٹیں گے جس کے باعث پانی میں شدید تابکاری اثرات پیدا ہو جائیں گے اور نتیجتا اس کے قریب پائے جانے والے شہروں میں زندگی بسر کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ دوسری طرف چین کی مسلح افواج نے ایک نئی قسم کے جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا ہے۔ یہ جوہری ہتھیار روایتی میزائلوں پر نصب ہو سکتا ہے اور فضا میں میزائل سے الگ ہونے کے بعد ایک میل فی سیکنڈ کی رفتار سے اپنے نشانے پر جا لگتا ہے۔ اس نئے جوہری ہتھیار کا مقابلہ میزائل ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ غیرموثر ہو جاتا ہے۔

اوباما حکومت مدعی کی حیثیت سے کسی کے خلاف اعتراض نہیں کر سکتی۔ امریکہ بھی سپرسونک میزائلوں کے تجربات میں مصروف ہے لیکن یہ تجربات 2014ء میں اختتام پذیر ہو چکے ہیں۔ اگلے سال ان تجربات کو دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح ہتھیاروں کی تجدید کی پالیسی کے تحت امریکہ 5 قسم کے مختلف میزائل سسٹم اور جدید جنگی گاڑیاں تیار کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس طرح امریکہ اپنے ہتھیاروں کو ہلکا، ریڈار میں نہ آنے والے اور انتہائی اطمینان بخش بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذا روس اور چین کے پاس موجود ہتھیاروں سے امریکی ہتھیاروں کا فرق اس بات میں ہے کہ امریکی ہتھیار غیرمعمولی طور پر اطمینان بخش ہیں اور ان میں خطا کا احتمال بہت کم پایا جاتا ہے۔ کارنیگی امن فاونڈیشن کے اعلی سطحی محقق جیمز ایم ایکٹن نے گذشتہ سال امریکی کانگریس کے کمیشن جس کے پاس چین کی طاقت کا اندازہ لگانے کی ذمہ داری ہے، کو رپورٹ دیتے ہوئے کہا: "ہم ہتھیاروں کی دوڑ کے آغاز کا مشاہدہ کر رہے ہیں"۔ جدید ہتھیاروں سے متعلق ایک پریشانی اور خوف یہ پایا جاتا ہے کہ ان کے ذریعے "یقینی دوطرفہ نابودی" پر مبنی منطق دوبارہ اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ یہ منطق اور ڈاکٹرائن سرد جنگ کے زمانے میں حکمفرما تھی جس کے مطابق یہ امر یقینی تھا کہ کسی ملک کی جانب سے دوسرے ملک پر حملے کی صورت میں اس کے جوابی حملے کے طور پر زیادہ شدید اور وسیع حملہ انجام پا سکتا ہے۔ جدید ہتھیاروں کا کم پیمانے پر تباہی پھیلانے اور زیادہ درست انداز میں ہدف کو نشانہ بنانے کے باعث اس پریشانی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان ہتھیاروں کو بروئے کار لانے کا امکان بڑھ جائے گا۔

ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں؟ یا روس اور چین اس امر کو اپنے پاس موجود ہتھیاروں کی تجدید اور اپ گریڈ کا بہانہ بنا سکتے ہیں یا نہیں؟ تجزیہ نگاران کہتے ہیں کہ ماسکو اور بیجنگ فضائی ہتھیاروں کے تجربات کر رہے ہیں اور ان کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جوہری جنگ کے آغاز میں ہی امریکی سیٹلائٹس کو نابود کر ڈالیں گے۔ واشنگٹن اس خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے فضا میں ایسے سیٹلائٹس بھیج رہا ہے جو ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے اپ گریڈ کے منصوبے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ان مسائل کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ہتھیاروں کو سائبر حملوں کے مقابلے میں محفوظ بنانے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا جوہری ہتھیاروں کے اپ گریڈ کا منصوبہ ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے منصوبے کو کمزور بنا سکتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: "یہ مسئلہ پایا جاتا ہے اور میں اس کے بارے میں پریشان ہوں"۔

وائٹ ہاوس کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے اپ گریڈ کے منصوبے پر عمل کرنے کے نتیجے میں دیگر ممالک کے ممکنہ ردعمل کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ہائینز نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا: "جب کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم ایسے اقدامات انجام دیتے ہیں جن سے اس کی شدت میں اضافے کو روکا جا سکے"۔ براک اوباما نے 2009ء میں ماسکو کے ساتھ تعلقات میں بہبودی، امریکہ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں پر انحصار میں کمی اور دنیا سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوشش کا اعلان کیا تھا۔ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے اپنی دفاعی پالیسی میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ روس نے ابتدا میں امریکہ سے تعاون کیا اور 2010ء میں نئے اسٹارٹ معاہدے پر دستخط کر دیے جس کے باعث اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی۔ اسی سال براک اوباما نے ایک اور اقدام بھی انجام دیا۔ انہوں نے امریکی فوج کو حکم دیا کہ وہ اپنے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں پر نصب جوہری ہتھیاروں کو ایک تہائی تک کم کر دے۔ ان کا یہ اقدام اس امر کی علامت تھا کہ امریکی میزائل جارحانہ مقاصد کیلئے نہیں بلکہ دفاعی مقاصد رکھتے ہیں۔ ماسکو نے اس اقدام پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ روس نے اسٹارٹ معاہدے کی پاسداری ظاہر کرتے ہوئے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے اپنے نئی نسل کے میزائلوں پر نصب چار جوہری ہتھیاروں کا وزن کم کر دے۔ آج بھی روس کی یہی پالیسی ہے اور وہ خود کو اسٹارٹ معاہدے میں ذکر کلی امور کا پابند سمجھتا ہے۔

صدر براک اوباما نے 2012ء میں روس میں ولادیمیر پیوٹن کا منصب صدارت پر دوبارہ لوٹ آنے کو اسٹارٹ معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے: "کریملن ترقی سے زیادہ فوجی طاقت پر زور دے رہا ہے"۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن دور کے وزیر دفاع اور ڈیموکریٹس سے وابستہ بااثر ترین جوہری امور کے ماہر ولیم جے پیری کہتے ہیں: "میں اس بات سے پریشان ہوں کہ مستقبل قریب میں ماسکو 1996ء میں منعقد ہونے والے جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر پابندی کے معاہدے سے خارج ہو جائے اور انڈر گراونڈ ایٹمی تجربات کے ذریعے اپنے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی ترقی میں مصروف ہو جائے"۔ (امریکہ نے بھی اس معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں لیکن سینیٹ نے تاحال اس معاہدے کی منظوری نہیں دی ہے)۔ گذشتہ دو عشروں سے دنیا کی ایٹمی طاقتوں نے عالمی سطح پر جوہری تجربات پر پابندی سے متعلق ایک کمزور معاہدہ کر رکھا ہے۔ یہ معاہدہ جوہری ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے منصوبے کا بنیادی رکن تصور کیا جاتا ہے۔ جے پیری نے کہا: "مجھے یقین ہے کہ وہ (روسی حکام) نئی قسم کا ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے ایٹمی تجربات انجام دینا چاہتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا: "اس بارے میں حتمی فیصلے کا اختیار صدر پیوٹن کے پاس ہے"۔

پینٹاگون واضح طور پر کروز میزائل اور اس سے مربوط جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر زور دے چکی ہے۔ وہ اپنے اس اقدام کا مقصد مشرقی یورپ میں روسی جارحیت کا مقابلہ بیان کرتی ہے۔ امریکہ اس وقت ایک ایسے سپرسونک میزائل کی تیاری پر کام کر رہا ہے جس کی رفتار چین کی طرف سے بنائے گئے میزائل سے زیادہ ہو۔ سیاسی تجزیہ نگاران کہتے ہیں کہ وہ ایٹمی طاقت جسے امریکہ کی طرف سے سب سے زیادہ خطرہ درپیش ہے چین ہے۔ ان کی نظر میں امریکہ اپنے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کی مدد سے چین کو پری امپٹیو حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ چینی حکام امریکہ کی طرف سے سپرسونک میزائلوں کی تیاری کے بارے میں کہتے ہیں کہ امریکہ ایٹمی جنگ سے بچتے ہوئے چین کو جارحانہ عزائم کا نشانہ بنانے کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ اسی طرح چینی حکام بحرالکاہل میں امریکی جنگی جہازوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر بھی پریشانی کا اظہار کر چکے ہیں۔ چین امریکہ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے اپ ٹیٹ کے منصوبے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ چین اس وقت زمین سے زمین پر مار کرنے والے اپنے تمام لانگ رینج میزائلوں کو جوہری ہتھیار نصب ہونے کے قابل بنانے کیلئے اپ ڈیٹ کر چکا ہے۔ چین زیادہ تر روس کے نقش قدم پر چلتا دکھائی دیتا ہے۔ بیجنگ ایک عرصے سے ہلکے جوہری ہتھیار بنانے کی ٹیکنولوجی حاصل کر چکا ہے اور اس نے ایک میزائل پر کئی جوہری ہتھیار نصب کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے۔

گذشتہ کئی عشروں سے واشنگٹن اور ماسکو نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو ریڈ الرٹ کر رکھا ہے تاکہ جیسے ہی فوجی حکام اپنے ریڈار، سیٹلائٹ اور کمپیوٹر نظام کے ذریعے حریف ملک کی طرف سے کسی حملے کی تشخیص دیں فورا جوابی کاروائی عمل میں لائی جا سکے۔ اس اسٹریٹجی کے مخالفین کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں ایک حادثاتی جنگ کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ غلط وارننگ کی وجہ سے دنیا جنگ کی آگ میں جھونک دی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 551413
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب