1
1
Tuesday 15 Aug 2017 20:27

جنوبی ایشیاء کیلئے امریکی حکمت عملی

جنوبی ایشیاء کیلئے امریکی حکمت عملی
تحریر: سینیٹر (ر) محمد اکرم ذکی

سولہ برس تک ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود امریکہ بہادر افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ سپر پاور ہونے کے دعویدار کیلئے اعتراف شکست نہایت مشکل کام ہے، اس لئے اپنی ناکامی کا الزام پاکستان کے سر تھونپ رہا ہے اور ہندوستان کے انتہاپسند اور ماضی میں تسلیم شدہ دہشت گرد وزیراعظم مودی کو گلے لگانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کیخلاف سخت رویہ اپنانے کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ کی قائم مقام نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کا حالیہ دورہ پاکستان بھی پاکستان کو ناراضگی اور سخت پالیسی کا پیغام دینے کیلئے تھا۔ پاکستان پر افغانستان میں عدم استحکام کی ذمہ داری ڈالنا حقیقت پسندی سے نظریں چرانے کے مترادف ہے، کیونکہ افغانستان کا امن و استحکام پاکستان کے قومی مفاد میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار قیام امن کا نہ صرف متمنی ہے بلکہ اس کیلئے اپنے تمام تر سفارتی و اخلاقی ذرائع بھی بروئے کار لا رہا ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہیئے کیونکہ پاکستان کی ترقی، داخلی استحکام اور امن و امان کیلئے افغانستان میں پائیدار امن ناگزیر ہے۔ پڑوسی ملک بھارت کو پاکستان کی اس ضرورت کا بخوبی ادراک ہے، جبھی وہ افغانستان میں قیام امن کی ہر کاوش کو نہ صرف سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کرتا ہے بلکہ پاکستان کی مغربی سرحد کو بھی مصروف رکھنے کیلئے ریاستی و غیر ریاستی عناصر کے ذریعے وطن عزیز میں اندرونی مداخلت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ امریکی تائید و حمایت سے بھارت پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے، جس کے ناقابل تردید شواہد پاکستان میں برپا ہونے والے دہشتگردی کے کئی سانحات میں میسر آئے، تاہم اس کے باجود امریکہ افغانستان سمیت خطے میں بھارتی کردار اور اثر و رسوخ بڑھانے کا تو حامی ہے جبکہ اس میں کمی پہ بالکل آمادہ نہیں۔ یہ امریکی تعاون اور آشیرباد کا ہی شاخسانہ ہے کہ بھارت بیک وقت کئی جگہوں پہ جارحانہ حکمت عملی کا مرتکب ہوکر پورے خطے کو بدامنی کی آگ میں جھونکنے پہ کمربستہ ہے۔

بھارت ایک طرف چین کے ساتھ سرحدی تناعات کو بڑھاوا دے رہا ہے تو دوسری جانب لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی، مشرقی سرحد پہ جنگی نقل و حمل اور پاکستان کی مغربی سرحد پہ دہشت گردوں کی سرپرستی، یہی نہیں بلکہ خطے کے معاشی و انرجی کوریڈور سمجھے جانے والے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی بدامنی اور انتشار کو ہوا دینے کیلئے درجنوں تنظیموں اور تحریکوں کی باقاعدہ سرپرستی کر رہا ہے۔ اسی صوبے سے بھارتی فوجی افسر کلبھوشن کی باقاعدہ گرفتاری بھی عمل میں آچکی ہے اور اس کے زیرنگرانی دہشت گردی کا پورا منصوبہ بھی بے نقاب ہوچکا ہے۔ ان سب کے باوجود بھارت اور امریکہ کے تعاون میں اضافہ ہوا نہ کہ کوئی کمی واقع ہوئی، جو کہ پاکستان کیلئے باعث تشویش ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ اسی جنگ میں جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوا، جس نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور جو ملک تاحال اسی جنگ کو ہر قیمت پہ جیتنے کی بنیاد پر لڑ رہا ہے، وہ پاکستان ہی ہے جبکہ دوران جنگ اسی پہ دباؤ بھی بڑھایا جا رہا ہے اور اسی کے کردار پہ شک کرکے اس کی حمایت و مدد سے بھی اجتناب کی پالیسی برتنے کی کوشش کی جاری ہے، جو کہ دشمنی کے مترادف ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے فروغ یا پھیلاؤ کا موجب نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہے۔ ایسی دہشت گردی کہ جس میں وہ اب تک ساٹھ ہزار سے زائد انسانی زندگیاں قربان اور سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ اس کی مسلح افواج بیک وقت ضرب عضب، ردالفساد، خیبر فور جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ سرحدوں کی حفاظت بھی یقینی بنائے ہوئی ہیں۔

چنانچہ ایک ایسے موقع پر جب دہشتگردوں کے خلاف جاری فیصلہ کن آپریشن میں پاکستان کو تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے تو امریکہ تعاون میں کمی اور دباؤ میں اضافہ کئے ہوئے ہے۔ یہ بعین وہی پالیسی ہے جو نیٹو نے پاک افغان سرحد پہ پاکستان کے خلاف اپنائی تھی۔ ایک جانب پاک افغان سرحد کو عبور کرکے دہشت گرد آکر پاکستانی فوجی چیک پوسٹو ں پر حملے کرتے اور اگلے دن افغان ادارے دراندازی کا شور مچاتے جبکہ پاکستان اسی سرحد پہ غیر قانونی آمدورفت روکنے کیلئے جب باڑ کی تنصیب کی کوشش کرتا تو اس باڑ کی تعمیر کیخلاف بھی نیٹو اور افغان حکومت مشترکہ موقف اپناتیں۔ نتیجے میں پاکستان کو دوطرفہ مسائل کا سامنا رہتا، وہی پالیسی تاحال جاری ہے۔ امریکی کانگریس نے حال ہی میں ایک بل کی منظوری دی ہے کہ جس کے تحت پاکستان کی فوجی امداد میں کمی اور پاکستان کے ساتھ جاری تعاون کو ماضی کی طرح ڈومور پالیسی سے مشروط کیا گیا ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ کو اپنے پہلے دورہ پینٹاگان کے دوران جو بریفنگ دی گئی، اس میں نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا بلکہ اس بریفنگ میں افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے باقاعدہ سفارش کی گئی کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے پاکستان کیخلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ اسی طرح وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں جب افغانستان کے اندر امریکی فوج کی تعداد بڑھانے کے معاملے پہ مشاورت جاری تھی تو اس وقت بھی پاکستان کے تعاون اور حمایت کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے اسے مورد الزام ٹھہرایا گیا۔

امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اسی اجلاس میں امریکی صدر نے افغانستان کے معدنی ذخائر میں سے ایک بڑا حصہ حاصل کرنے کی بھی بات کی، جس کے جواب میں امریکی صدر کو بتایا گیا کہ افغانستان کے معدنی وسائل پر مکمل دسترس حاصل کرنے کیلئے افغان حکومت کا ملک پہ کنٹرول ضروری ہے، جس کی راہ میں پاکستان حائل ہے۔ اسی اجلاس میں امریکی صدر نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ پھر چینی کمپنیاں افغانستان میں کیسے کان کنی کے شعبے میں مسلسل فوائد حاصل کر رہی ہیں۔؟ علاوہ ازیں امریکی صدر کہ جنہوں نے پہلے روس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، اب روس، ایران اور شمالی کوریا پہ متعدد پابندیوں کے بل پر دستخط بھی کرچکے ہیں۔ پاکستان پہ بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ کا اندازہ ایلس ویلز کے حالیہ دورہ پاکستان سے بھی بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ قائم مقام امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور اور قائم مقام خصوصی ایلچی برائے افغانستان و پاکستان، ایلس ویلز جب اپنے پہلے دورے پر پاکستان آئیں تو انہوں نے بھی پاکستان کو تنبہیہ کی کہ پاکستان کی زمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف ہرگز استعمال نہیں ہونی چاہیئے، جو کہ بالواسطہ پاکستان پہ دہشتگردی کا الزام تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیش بہا قربانیاں دینے کے باوجود امریکی و مغربی قوتیں اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے کی بجائے الزام و دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور ایک جانب امریکہ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پہ ڈال رہا ہے اور دوسری جانب بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اور افغان ’’این ڈی ایس‘‘ پاکستان کے خلاف داخلی عدم استحکام کا محاذ کھولے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ حکومت کے بعد پاکستان پہ امریکہ کے دباؤ میں بتدریج اضافہ اور بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں قربت بڑھ رہی ہے۔ اس دوران جتنے بھی امریکی عہدیداران پاکستان کے دورے پہ آئے تو انہوں نے کسی نہ کسی طور پاکستانی خدمات کو نظرانداز اور بھارتی خواہشات کو مقدم رکھا۔ یہاں تک کہ کثیر الملکی سعودی فوجی اتحاد کی پہلی سمٹ کے دوران کہ جس کی صدارت امریکی صدر نے کی۔ اس میں بھی بھارت کو دہشت گردی کا شکار ملک ڈکلیئر کیا گیا اور نام لئے بناء پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ امریکہ و بھارت کا یہ بڑھتا ہوا تعاون جنوبی ایشیا میں خطرناک حالات کے اشارے دے رہا ہے۔ گاہے بگاہے ماہرین کی جانب سے پاکستان کو لاحق جن شدید خطرات کی پیش گوئی کی جاتی ہے، وہ حقیقت سے قریب تر ہیں۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی پاکستان کو لاحق انہی خطرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف چند لوگوں کو ان خطرات کا ادراک ہے، یعنی باقی امریکی سحر میں ان خطرات سے بے خبر ہیں۔ وہی داعش اب افغانستان میں مسلسل زور پکڑ رہی ہے کہ جس نے مشرق وسطٰی کے کئی ممالک کے امن کو تہہ و بالا کیا اور جس کے متعلق دنیا کے سینکڑوں اداروں نے اپنی رپورٹس میں اسے امریکی پراڈکٹ قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی ایشیا میں اس تنظیم کا میزبان بھارت ہے اور بھارتی ریاست کیرالہ سے اسے باقاعدہ آپریٹ کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کا مسئلہ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر و رسوخ کے سامنے بند باندھنا اور روس کے بڑھتے کردار کو محدود کرنا ہے، جبکہ وطن عزیز کا ازلی دشمن بھارت ہر قیمت پر پاکستان پہ ترقی و خوشحالی کے دروازے بند رکھ کے اس کی سلامتی پہ گھات لگائے بیٹھا ہے۔

سی پیک جو کہ خطے کی معاشی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے، اسے سبوتاژ کرنے کیلئے امریکہ اور بھارت ہم خیال ہیں، جس کیلئے داخلی انتشار اور بدامنی کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے جو اندوہناک خونی واقعات ہوئے، ان کی ذمہ داری داعش نے قبول کی، جبکہ ماضی قریب میں ان دہشت گردوں نے داعش میں شمولیت کا اعلان کیا تھا کہ جو بھارت کے زیراثر تھے۔ اسی طرح نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال کے دورہ مشرق وسطٰی کا کچا چٹھا بھی کئی خبر رساں اداروں نے اپنی رپورٹس میں بیان کیا۔ اس دورے کا مقصد دہشت گردوں کے الگ الگ متعدد گروہ تشکیل دیکر انہیں داعش کے ساتھ منسلک کرکے ایک لڑی میں پرونا تھا۔ اس کا اقرار افغانستان میں نیٹو فوج کے سربراہ جنرل نکلسن نے بھی بجا طور پر کیا اور اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ داعش، ایسٹ ترکمانستان موومنٹ، ازبک موومنٹ اور ٹی ٹی پی کے درمیان غیر رسمی اتحاد وجود پاچکا ہے۔ یہ تمام وہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں کہ جنہوں نے کبھی اور کہیں بھی نیٹو، امریکہ یا بھارتی مفادات کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ ہی چین، پاکستان اور ان کے مشترکہ مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔ دہشتگرد گروہوں کے مابین اس اتحاد سے امریکہ و بھارت کا کردار مکمل طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ خطے کے امن میں کتنے مخلص ہیں۔؟

عالمی سطح پر ان خطرات کے پس منظر میں روس، ایران اور ترکی امن و سلامتی کیلئے آپسی تعاون بڑھا رہے ہیں، تاکہ امن عالم کو ہولناک جنگ سے بچایا جاسکے۔ ان حالات میں پاکستان کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ خطے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دیکر امن و اعتماد کی بحالی کیلئے جاری کوششوں کو مزید فروغ دے۔ داعش کی صورت میں خطے میں ابھرنے والے نئے فتنے سے نمٹنے کیلئے روس، چین ، ایران اور ترکی کے ساتھ ہم آہنگی، تعاون اور ہم کاری کی پالیسی اپنائے۔ سی پیک کے ثمرات سے فقط پاکستان یا چین ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک مستفید ہوں گے، چنانچہ اس کے خلاف جاری سازشوں سے نمٹنے کیلئے جامع اور مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ سیاسی انتشار یا عدم استحکام کسی طور پاکستان کے مفاد میں نہیں، حکومت اور اپوزیشن قوتیں قومی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھیں اور ذاتی یا فی الوقتی مفاد پر پاکستان کے روشن مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ امریکہ یا بھارت سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ پاکستان تصادم ہرگز نہیں چاہتا، مگر اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ بھی ہرگز قابل قبول نہیں۔ عالمی سطح پر ابھرتی نئی قوتوں یعنی روس، چین، ایران اور ترکی کیساتھ ہمارے مستحکم تعلقات امریکی و بھارتی رعونت کے خاتمے کا بھی باعث بنیں گے اور ان کے ساتھ ہم اپنے معاملات باعزت طریقے اور بات چیت کے ذریعے بہتر بھی بناسکیں گے، چنانچہ مقتدر سیاسی قوتیں حالات کا ادراک کرتے ہوئے امریکہ کے سامنے عاجزانہ پالیسی ترک کرکے برابری کی سطح پہ بات کریں اور موثر سفارتکاری کے ذریعے خطے کو درپیش مسائل اور ان مسائل کی پشت پناہ قوتوں کو عالمی سطح پہ بے نقاب کریں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان ان مشکلات سے سرخرو ہوکر ترقی و خوشحالی کا سفر بطریق احسن طے کرے۔ ان شاء اللہ
خبر کا کوڈ : 661546
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Excellent
منتخب