2
0
Sunday 19 May 2019 14:29

امت مسلمہ خصوصاً ملت تشیع 1901ء سے لیکر 2019ء تک تاریخ کے آئینے میں

امت مسلمہ خصوصاً ملت تشیع 1901ء سے لیکر 2019ء تک تاریخ کے آئینے میں
تحریر: ملک محمد اشرف
malikashraf110@gmail.com

تاریخ میں گذشتہ اور ماضی کے واقعات درج ہوتے ہیں، انہی واقعات کو پڑھ کر گذشتہ کے حالات سے آگاہی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک تاریخ ایسی ہوتی ہے، جو ہماری آنکھوں کے سامنے بن رہی ہوتی ہے۔ اس مختصر تحریر کے اندر تاریخ کے جس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، وہ امت مسلمہ کی بالعموم اور ملت تشیع کی بالخصوص 1901ء سے لیکر 2000ء تک اور وہاں سے لیکر اب تک کی صورت حال ہے۔ اسے چار حصوں میں اس طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1901ء سے لیکر 1950ء تک
1950ء سے لیکر 1980ء تک
1980ء سے لیکر 2000ء تک
2000ء سے لیکر 2019ء تک
تاریخ کے ان ادوار کے بارے میں ایک ٹیم کی صورت میں اگر کوئی کام کر رہا ہو تو ہم اس کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہیں یا کوئی ہمارے ساتھ ملنا چاہتا ہے یا ہماری آیندہ کی تحریر پر کوئی تبصرہ یا رہنمائی کرنا چاہے تو میری ای میل یا میرے پرسنل نمبر پر رابطہ کرسکتا ہے۔ یہ صرف ایک خاکہ پیش کیا جا رہا ہے، اس کو آئندہ مختلف اوقات میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔

1) 1901ء سے 1950ء تک کے مہم ترین واقعات
الف) سیاسی طور پر:
 برصغیر کے اندر مسلم لیگ کی تشکیل ہے کہ جس کی کوششوں سے 1947ء میں دو قومی نظریہ کے تحت کرہ ارض پر اسلامی اصولوں کے مطابق آزادانہ طور پر زندگی گزارنے کے لئے اسلامی ملک پاکستان وجود میں آیا۔ بیسویں صدی کے اسی حصہ میں سلطنت عثمانیہ کا خاتم ہونا اور حجاز میں آل سعود کی حکومت کا ختم ہونا ہے۔ 1948ء میں استعمار کا امت مسلمہ کو کنٹرول کرنے کے لئے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ناجائز حکومت کو قائم کرنا ہے۔
ب) خالصتاً دینی اور مذہبی
صدی کے اس حصہ کے خالصتاً دینی اور مذہبی مہم ترین امور میں سے جن کا ذکر کیا جا سکتا ہے، ان میں سے برصغیر کی مہم ترین مذہبی شخصیات، مہم ترین مدارس دینیہ اور مہم ترین مذہبی تحریکیں ہیں۔ انتہائی اختصار کے ساتھ مکتب تسنن اور مکتب تشیع کی دینی حوالے سے مندرجہ بالا امور میں کوششیں ہر دہائی کے حوالے سے الگ طور پر بیان ہوں تو بہتر ہے۔ اسی کے ساتھ انتہائی اختصار کے ساتھ مہم ترین امور کی بعد کی دہایوں پر مثبت یا منفی تاثیر کا ذکر کرنا بھی اہمیت سے خالی نہیں ہے۔

2) 1950ء سے لیکر 1980ء تک کے مہم ترین واقعات
اس حصہ میں بھی پہلے حصہ کی طرح امت مسلمہ کی سیاسی کیفیت اور بعد میں خالصتاً مذہبی اور دینی حوالے سے مکتب تسنن اور مکتب تشیع کی کیفیت ہے۔ اختصار کے ساتھ مہم ترین شخصیات، مہم ترین مدارس دینیہ اور مہم ترین دینی اور مذہبی تحریکیں جو تاریخ کے اس حصہ میں رہی ہیں، ان پر اور ان کے کاموں کے نتائج پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ مکتب تسنن کے اندر اس دور کی مہم ترین شخصیت مولانا مودودی ہیں کہ جن کی فکر نے برصغیر کے ساتھ ساتھ عرب ممالک میں بھی اپنی تاثیر چھوڑی ہے اور خصوصاً پاکستان میں لبرالیزم اور سیکولر قوتوں کے ارادوں کے سامنے آنے والی شخصیت بھی کرہ ارض کے اس خطہ میں تاریخ کے اس دور کے اندر یہ شخصیت نظر آتی ہے۔ مکتب تشیع کے اندر حوزہ علمیہ قم اور حوزہ علمیہ نجف میں آیت اللہ بروجردی، آیت اللہ محسن حکیم، آیت اللہ خوئی اور آیت اللہ شہید باقر جیسی شخصیات نظر آتی ہیں۔ مکتب تشیع میں تاریخ کے اسی حصہ کے اندر ایک عالمی شخصیت جو ابھر کر سامنے آئی اور مکتب تشیع کے علاوہ پورے عالم اسلام پر اپنی بصیرت اور علمیت کا لوہا منوایا، وہ رہبر کبیر مرجع جہان تشیع آیت اللہ امام خمینی تھے۔ اسی شخصیت کی کوششوں سے ایران میں انقلاب اسلامی آیا، جس کی بدولت معصومین (ع) کے بعد مکتب تشیع کا ایک انتہائی روشن، تابناک اور اسلام کی اصل و اساس کو پیش کرتا ہوا چہرہ عالم اسلام کے سامنے نمودار ہوا۔

تاریخ کے اسی حصہ میں پاکستان کی سرزمین پر ایک عظیم علمی درسگاہ جامعۃ المنتظر کی تاسیس شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس نجفی کے دست مبارک اور بابرکت سے ہوتی ہے۔ پاکستان کے کونے کونے میں حتیٰ بیرون ملک بھی مکتب تشیع کی تعلیم، مساجد میں نماز جمعہ اور جماعت ہو یا قرآن مجید کی تعلیم اس میں 80 فی صد سے زیادہ حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر سے زیور علم سے آراستہ علماء کرام موجود تھے اور ہیں۔ تاریخ کے اسی حصہ میں پاکستان کی مکتب تشیع کے اندر انتہائی قد آور شخصیت مرجع عالی قدر، مفسر قرآن، متکلم زمان آیت اللہ محمد حسین نجفی کا 1960ء میں حوزہ علمیہ نجف سے پاکستان تشریف لانا ہے۔ اس شخصیت کی علمی خدمات جو تحریر کی صورت میں اور تقریر کی صورت میں عقائد حقہ کے بیان کے لئے ہیں، اسے صاحبان عقل و فہم اور صاحبان قلب سلیم ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ تاریخ کے اسی حصہ میں بعض زعمائے ملت اور بزرگ علماء کی کوششوں سے منظم طور پر ملت تشیع کی قیادت عالم باعمل علامہ مفتی جعفر حسین کو سونپنا ہے۔

3) 1980ء سے لیکر 2000ء تک کے مہم ترین واقعات
تاریخ کا یہ حصہ امت مسلمہ اور خصوصاً مکتب تشیع کے لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ایک طرف سے اسلامی ملک افغانستان میں اس دوران کی سپر طاقتوں کے آپس کے مفادات ہیں، جن میں روس کا اس ملک پر قبضہ اور اس کا مقابلہ امریکہ کی سرپستی میں ہونا، مختلف اسلامی ممالک سے مجاہدین کی صورت میں  مسلمان نوجوانوں کو تیار کرنا کہ جن کی منظم شکل طالبان کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ روس کا اس خطہ سے انخلاء اور طالبان و مجاہدین کے مختلف رویئے اور ان کے امت مسلمہ پر مثبت یا منفی نتائج اس دور کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں سے ہیں۔ پاکستان کے اندر دیوبند مکتب کی تقویت، ان کے مدارس کی بہت بڑی تعداد کی تاسیس اور لاکھوں کی تعداد میں ان مدارس کی تعلیم۔ مکتب تشیع میں بھی محسن ملت علامہ صفدر حسین نجفی و بعض اور  مخلص علماء کی کوششوں سے کافی تعداد میں مدارس علمیہ کی تاسیس اور ان میں دینی تعلیم و تربیت کا منظم انتظام  اس دور کی تاریخ کے اہم ترین واقعات ہیں۔ اسی دور میں استعمار کی کوششوں سے پوری دنیا میں اور خصوصاً پاکستان کے اندر انقلاب اسلامی ایران کے اثرات کو روکنے کے لئے فرقہ واریت کو عروج پر پہنچایا جاتا ہے۔

تاریخ کے اسی دور کے اندر  جہاں پر فرقہ واریت کو بعض لوگ پوری طاقت سے پھیلا رہے ہوتے ہیں، وہیں پر اہل تسنن کے بعض مخلص علماء جن میں سے علامہ قاضی حسین احمد اور علامہ شاہ احمد نورانی ہیں، ان کی کوششوں سے اور مکتب تشیع کی طرف سے عالم پارسا و مجاہد، ہمدرد امت مسلمہ و ملت تشیع علامہ عارف حسین الحسینی اور موجودہ قیادت ملت تشیع علامہ سید ساجد علی نقوی کی کوششیں ہیں۔ اسی دور کے اندر علماء کی سرپرستی میں کالج اور یونیورسٹیوں میں اور خصوصاً ہر شہر و دیہات کی حد تک لوگوں کو مذہبی اور دینی طور پر باشعور کرنے میں آئی ایس او جیسی منظم تنظیم کا کردار بھی تاریخ کے اس دور کے اہم ترین واقعات میں سے ہے۔ اس تنظیم کی فعالیت کے مثبت یا منفی اثرات بعد کی دہایوں میں ہونے والے واقعات پر ایک حد تک دقت طلب مطالعہ کی احتیاج رکھتے ہیں۔

4) 2000ء سے لیکر 2019ء  تک کے مہم ترین واقعات اور حالات
تاریخ کا یہ حصہ امت مسلمہ کے لئے انتہائی حساس ہے، اسی دور میں تمام استعماری طاقتیں ملکر عراق، افغانستان، لبنان اور شام پر حملہ کرتی ہیں۔ استعمار اسلامی ممالک سے ہی جہادی گروہ منظم کرتا ہے کہ جن کو مسلمانوں کے خلاف ہی لڑاتا ہے، جن میں سے القاعدہ اور داعش جیسی منظم تنظیمیں قابل ذکر ہیں۔ اسلام ناب محمدی کے مقابل میں اسلام امریکائی کو استعمار مضبوط  کرتا ہے، اس  کے لئے مکتب اہل تسنن اور حتی مکتب تشیع میں سے بعض جاہل طبقہ کو اپنے اہداف کے لئے استعمال کرتا ہے۔ تاریخ کے اسی دور میں پاکستان کے اندر مکتب تشیع کے علماء اور مدارس کے خلاف کئی سازشیں منظم طور پر سامنے آتی ہیں۔ جن میں سے ایک اس مکتب کی منظم اور انتہائی طاقتور تنظیم اور قیادت کو اور دہشت گرد تنظیموں کے طرح فعالیت سے روک دیا جاتا ہے اور اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ اسی دور میں مکتب تشیع داخلی خلفشار کا شکار ہوتا ہے اور آئی ایس او دانستہ یا نا دانستہ طور پر ایک بہت بڑی سازش کا شکار ہو کر قیادت سے اور بعد میں بزرگ علماء سے بھی دوری اختیار کرتی ہے۔

کچھ عرصہ کے بعد یہاں پر بھی اور بعض افراد قم میں بھی کہ جن میں سے علامہ سید جواد نقوی اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور ان کے ساتھ بعض اور احباب ملکر مکتب تشیع پاکستان کے مرکزی پلیٹ فارم کی اور خصوصاً موجودہ قیادت کی علانیہ مخالفت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ اقدام ان افراد سے دانستہ یا نا دانستہ جس صورت میں بھی ہوا، ملت تشیع کے اندر افتراق کا ایک بہت بڑا سبب بنا۔ مجلس وحدت مسلمین وجود میں آئی، جس کے وجود میں آنے سے ان افراد نے تو سمجھا کہ اب ملت تشیع ان کے پرچم میں آئے گی، لیکن ایسا نہ ہوا اور ملت کی اکثریت، مدارس دینیہ اور بزرگ علماء نے موجودہ قیادت کا بھرپور ساتھ دیا۔ موجودہ قیادت علامہ سید ساجد علی نقوی نے ملت تشیع پاکستان کے خلاف ہونے والے سازشوں کا بڑی حکمت عملی سے مقابلہ کرتے ہوئے ان کو ناکام کیا اور پاکستان کی سرزمین پر امت مسلمہ کے اتحاد کی ایسی بے نظیر کوشش کی، جس کی مثال کسی اور اسلامی ملک میں نہیں ملتی۔

تاریخ کے اسی دور کا یہ بھی حصہ ہے کہ علامہ سید جواد نقوی موجودہ قیادت کے مخالفین میں سے ہونے کے باوجود مجلس وحدت مسلمین کا حصہ نہیں بنتے اور ایک الگ اپنے استقلال اور ذاتی تشخص کے ساتھ کام کرنا شروع کرتے ہیں۔ ایک بہت بڑا مدرسہ عروۃ الوثقیٰ کی لاہور میں بنیاد رکھتے ہیں اور مختلف گروہوں کی طرف سے مخالفت ہونے کے باوجود پاکستان کی ملت تشیع میں اپنا ایک نام بناتے ہیں۔ تاریخ کے اسی دور میں پاکستان کے شہروں سے لیکر دیہاتوں تک آئی ایس او جیسی منظم تنظیم کے علماء سے دوری کے سبب اور معاشرہ میں پہلے کی طرح جوانوں پر کام نہ کرنے کے سبب، مدارس اور مساجد کے علماء کی اکثریت کا مختلف مسائل اور اختلاف کا شکار ہونے اور بعض معاملات میں ملت کے ذمہ دار افراد کی سستی اور غفلت کے نتیجہ میں ملت کی مرکزیت کو دن بدن نقصان پہنچ رہا ہے۔ نوجوان طبقہ مجلس، ماتم داری اور عزاداری کے نام سے اصل مکتب تشیع سے بہت دور ہوتا جا رہا ہے اور شیخیت، نصیریت اور غلو کا پرچار کرنے والوں کے دام میں پھنس گیا ہے اور پھنس رہا ہے۔ آج ہمارے ممبر سے مکتب تشیع کے بنیادی اصولوں کی اعلانیہ طور پر مخالفت ہو رہی ہوتی ہے، شرک بیان کیا جا رہا ہوتا ہے اور نیچے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ نعرے لگا رہے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال اس کیفیت سے ماضی میں کبھی بھی نہیں تھی۔

ملت تشیع کے داخلی اتحاد نہ ہونے کے سبب دشمن اور استعمار یہ سب کچھ ملت تشیع کے خلاف خود اسی ملت کے افراد کے ہاتھو کروا رہا ہے۔ اسی دور میں ملک پاکستان کے اندر حکومت کی طرف سے مدارس دینیہ پر دہشت گردی کو پروان چڑھانے کا الزام بھی ہے، جو شیعہ کے علاوہ دوسرے مکاتب کے بعض مدارس پر صدق بھی کرتا ہے۔ انہی بعض مدارس کی بنیاد پر آج امت مسلمہ پوری دنیا میں بدنام ہوچکی ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد کے عنوان سے پہچانا چاتا ہے۔ البتہ ان مدارس کو بنانے اور ان کی مالی مدد کرنے اور ان کے لئے آئندہ کی راہ معین کرنے میں اسلام کے دشمنوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ تاریخ کے اس دور میں پاکستان کی ملت تشیع کے مدارس دینیہ کی حالت علمی اور تربیتی حوالے سے ناگفتہ بہ ہے، اکثر مدارس جو کروڑوں کی عمارت اور زمین پر تعمیر ہوئے ہیں، ان کے اندر تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگرچہ بعض ذمہ داران افراد مدارس میں طلاب کی معقول تعداد نہ ہونے کا سبب ملک میں دہشت گردی اور اس طرح کے عوامل بتاتے ہیں، ہوسکتا ہے یہ بھی ہوں، لیکن میری نگاہ میں مدارس کے اندر موجود ناقص نظام ہے، جس کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہے۔ طلاب کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہوتی ہیں اور مدارس کے ذمہ دار حضرات کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

اکثر پرنسپل حضرات جو چند سال پہلے معاشرہ کے انتہائی غریب طبقہ سے تھے، وہ آج معاشرہ کے اچھے کھاتے پیتے افراد سے بھی بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ان کو اپنی تعریف اور واہ واہ کی ضرورت ہوتی ہے، چاہے مدرسہ کی حالت دن بدن خراب ہو رہی ہو۔ ذاکر حضرات اور ان میں فرق یہ ہے کہ مدارس کے پرنسپل اساتذہ اور طلاب سے واہ واہ کے آرزومند ہوتے ہیں اور ذاکر مجمع میں عوام سے واہ واہ کے آرزو مند رہتے ہیں۔ مدارس میں اساتذہ کا انتخاب ان کی اہلیت پر نہیں بلکہ رشتہ داری، خوشامد اور پارٹی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ گذشتہ ادوار میں ایسا نہیں تھا جبکہ اس دور میں مدارس وراثتی جائیداد بنتی جا رہیں ہیں۔ اکثر بڑے بڑے مدارس سے لیکر چھوٹے چھوٹے مدارس تک کے متعلقہ افراد کے بچے دینی تعلیم کیا خود دین، نماز، واجبات حتیٰ اخلاقیات سے بھی دور ہوتے ہیں۔

ان حالات کے بارے میں اگر کوئی بات کرے تو اسے گستاخ اور بد اخلاق کہہ کر ہمیشہ کے لئے اکثر مدارس میں خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مدارس سے حتیٰ علماء سے لوگ دن بدن دور ہو رہے ہیں، یہ اس دور کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے بزرگ علماء، وفاق علماء شیعہ پاکستان، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ سید جواد نقوی اور خصوصاً بالخصوص قائد ملت جعفریہ آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور ان تمام بزرگوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ مدارس کی حالت زار پر رحم کھائیں اور ان کو موجودہ صورت حال سے نکالیں۔ اگر ایسا فوریت اور اولویت کی بنیاد پر نہ کیا گیا تو ملت کو ایسا نقصان ہوگا، جس کا خمیازہ بھگتنا بہت مشکل ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 795138
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
یہ کوئی تجزیہ نہیں ہے، فقط الزامات ہیں اور ایک طرف کو اللہ تعالیٰ کی مقدس گائے بنا کر پیش کیاگیا ہے۔ کمال تب ہے کہ اپنی سمت کی خامیاں بھی بیان کرتے، اگر ایسے کالمز اور مکالے لکھنے ہر کوئی بیٹھ جائے تو ہزاروں سیاسی اور اجتماعی خامیاں گن گن کر بتایا جا سکتا ہے کہ کہاں کیا خرابیاں تھیں اور آج تک ہیں، مگر بات یہاں پر پھر اتحاد کا مسئلہ ہے۔ ویسے ان سخت حالات میں جب سب ایک ہونے کی بات کر رہے ہیں تو ایسے کالمز لکھنےکی ضرورت کیوں پیش آئی ہے، جب کہ سب ایک ہونے جا رہے تھے۔
Iran, Islamic Republic of
اے کاش مثبت جہت اور مثبت دیدگاہ سے دیکھتے اور منفی ہی دیکھنا تھا تو آئی ایس او کے مقابل جے ایس او بنائے جانے والی سازش اور اسی طرح آقایان حامد موسوی, ساجد نقوی اور ڈھکو صاحب کے بعض کاموں نے جو نقصانات کئے، ان کی طرف بھی اشارہ کر دیتے۔