1
0
Tuesday 9 Jul 2019 23:10

مادر ملت، محترمہ فاطمہ جناح

مادر ملت، محترمہ فاطمہ جناح
تنظیم و ترتیب: ٹی ایچ بلوچ

 مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 52ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ فاطمہ جناح کو سول حقوق اور تحریک پاکستان کے لئے اُنکی بھرپور اور بے لوث جدوجہد کیلئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ فاطمہ جناح کو پاکستان کی تحریک آزادی میں اُن کے فعال کردار پر مادر ملت یا قوم کی ماں کہا جاتا ہے۔ وہ 9 جولائی 1967ء کو کراچی میں انتقال کرگئیں۔ فاطمہ جناح عالم اسلام کی وہ خوش نصیب خاتون تھیں، جنہیں بانی پاکستان قائد اعظم جیسے عظیم بھائی کا ساتھ نصیب ہوا۔ تاریخ کے جھرونکوں میں دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ محمد علی جناح کی زندگی فاطمہ جناح کی زندگی اور فاطمہ جناح کی زندگی قائداعظم کی زندگی تھی۔ عمروں کے فرق اور فاصلے کے باوجود فاطمہ جناح کی زندگی حضرت قائد اعظم کی زندگی کے ساتھ اس قدر متوازی چلتی ہے کہ قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ایک شخصیت کی نہیں بلکہ دو شخصیتوں کی سوانح ہے۔ مادر ملت اپنے عظیم بھائی کی تصویر تھیں۔

مادر ملت نے قیام پاکستان میں قائد اعظم کی جس خلوص اور دیانت داری سے معاونت کی، اس کا اعتراف ساری دنیا نے کیا۔ امریکہ اور برطانیہ کے اخبارات نے لکھا ہے کہ پاکستان کا قیام ایک بھائی اور بہن کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ فاطمہ جناح نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اپنی قوم اور خاندان کیلئے اپنا شاندار کیریئر قربان کرکے کیا، فاطمہ جناح ممبئی میں پریکٹسنگ ڈینٹسٹ تھیں اور اپنا کلینک چلا رہی تھیں، انہوں نے قومی کاز اور اپنے بھائی کی مدد کیلئے یہ کلینک بند کر دیا اور پھر آخری سانس تک عظیم بھائی کا ساتھ دیا، جسے دنیا قائداعظم کے نام سے جانتی ہے، دنیا کی سیاسی تاریخ میں بہت کم بہن بھائی ایسے ہونگے جو تعلیم و کردار میں اپنے وقت کے نابغہ روزگار ہوں اور ان کا مرنا جینا قوم کیلئے ہو۔ محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان میں خواتین کو قائداعظم کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد کیا اور آزادی کا پیغام ہر گھر تک پہنچایا، غاصب انگریز اور شاطر ہندو اکثریتی خطہ میں آج سے 100 سال قبل خواتین کو آزادی کیلئے متحرک کرنا کوئی آسان ہدف نہ تھا۔

مگر پرعزم اور ایثار و قربانی سے سرشار فاطمہ جناح نے یہ عظیم کارنامہ انجام دے کر دکھایا۔ فاطمہ جناح نے برصغیر کی مسلم خواتین کو آزادی کے عظیم مقصد کیلئے متحرک کیا اور انہیں پیغام دیا کہ اپنے اندر اتحاد و یکجہتی پیدا کریں اور تعلیم حاصل کریں، آج بھی قومی ترقی اور استحکام کیلئے یہی دونوں رہنما اصول ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے خاندانوں کی خواتین کی بحالی کیلئے ویمن ریلیف کمیٹی قائم کی اور انہوں نے صاحب حیثیت خواتین کو پیغام دیا کہ دکھی بہنوں کی بحالی کیلئے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کریں، پاکستان بن جانے کے بعد بھی انہوں نے قومی خدمت کا سلسلہ ترک نہ کیا، 30 جنوری 1948ء کو فسادات کے دوران اغواء ہو جانے والی خواتین کی بازیابی کیلئے محترمہ فاطمہ جناح نے مسز سروجنی نائیڈو سے مل کر ہفتہ رہائی منایا، فاطمہ جناح حقوق نسواں کے تحفظ اور تکریم کی ایک معتبر آواز تھیں، وہ جب تک زندہ رہیں، قوم کو حصول پاکستان کے مقاصد اور قائداعظم کے اقوال یاد کرواتی رہیں۔

فاطمہ جناح سیاسی اعتبار سے ہمارے لیے رول ماڈل ہیں، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، خدمت کے جذبے سے سرشار ایک باوقار خاتون تھیں اور وہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور تربیت کیلئے آخری سانس تک متحرک رہیں۔ فاطمہ جناح نے سیاسی آمریت کیخلاف بے مثال جدوجہد کی اور قوم کو حقیقی جمہوریت کا سبق پڑھایا۔ فاطمہ جناح پاکستان کو خوشحال ملک دیکھنا چاہتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک اس ملک کا ہر فرد بنیادی سہولتیں حاصل نہیں کر لیتا، اس وقت تک قیام پاکستان کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ مادر ملت ملک کی سیاسی آزادی کے ساتھ ساتھ اقتصادی آزادی کی بھی خواہاں تھیں۔ فاطمہ جناح نے اپنی سیاسی بصیرت سے مزدوروں، کسانوں، طالب علموں، نوجوانوں اور معاشرے کے ہر طبقہ کو قوت گویائی عطا کر دی تھی۔ فاطمہ جناح چاہتی تھیں کہ ملک و قوم کی تقدیر اسلامی اصولوں کی روشنی میں مرتب ہو۔ وہ اسلام کی سربلندی کی علمبردار تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ امت مسلمہ صرف اسلامی اصولوں پر کاربند رہ کر ہی عظمت گم گشتہ حاصل کرسکتی ہے۔

آج قوم کی اس عظیم خاتون کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے اقوال و افکار کی پیروی کی جائے اور نہایت دیانت داری اور سچے دل سے وطن کی خدمت کی جائے۔ محترمہ فاطمہ جناح کے نزدیک نہ صرف تحریک پاکستان میں بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی خواتین کے بغیر ترقی ناممکن تھی، اس لئے وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ خواتین پاکستان کو ایک آئیڈیل ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔ آج سے 70 سال قبل فاطمہ جناح نے 15 مئی 1947ء کو ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ خواتین حصول تعلیم کی طرف توجہ دیں، تعلیمی پسماندگی دور کی جائے، افسوس 70 سال گزر جانے کے بعد بھی فاطمہ جناح کے پاکستان کی 65 فیصد خواتین ناخواندہ ہیں، یہ قائداعظم اور ان کی عظیم بہن کے نظریات سے انحراف ہے اور اس کی ذمہ دار بعد میں آنے والی حکومتیں ہیں، طوفان بدتمیزی اٹھانے والے بھی اس سوال کا جواب دیں کہ انہوں نے ریاستی وسائل خواتین کی تعلیم و تربیت کی بجائے سیاسی و انتخابی مہنگے منصوبوں پر کیوں خرچ کیے۔؟
خبر کا کوڈ : 804133
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
اللہ ان کی مغفرت فرمائے: آمین
منتخب