0
Sunday 22 Jan 2012 12:21

امریکا طالبان مذاکرات، افغان جنگ کا اہم ترین موڑ

امریکا طالبان مذاکرات، افغان جنگ کا اہم ترین موڑ
تحریر: رحیم اللہ یوسف زئی 


ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زمینی حقائق اور عملیت پسندی نے افغانستان میں بر سرپیکار دونوں بنیادی فریقین کو باہم مذاکرات کا دروازہ کھولنے پر آمادہ کر لیا ہے۔ طالبان اور امریکا باہم اتفاق نہ کرنے پر متفق ہو سکتے ہیں اور بات چیت کے دوران لڑائی بھی جاری رہ سکتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ آج یہ دونوں بالآخر ایک دوسرے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا اہم موڑ ہے جس کا آج سے چند برس قبل تصور بھی محال تھا۔ طالبان اس بات پر اصرار کیا کرتے تھے کہ وہ اس وقت تک کسی سے بھی مذاکرات نہیں کریں گے جب تک کہ افغانستان میں موجود تمام غیر ملکی افواج کو واپس نہیں بلا لیا جاتا، مگر آج طالبان امریکا کے ساتھ خفیہ امن مذاکرات میں شامل ہو گئے ہیں۔
 
امریکا نے دنیا کے سامنے طالبان کو اس حد تک عفریت بنا کر پیش کیا تھا کہ یہ بات اکثریت کا ایمان بن گئی تھی کہ واشنگٹن کبھی بھی ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔ طالبان سے بات چیت کرنے کا مطلب گویا یہ تھا کہ امریکا کو اپنی ایک روایتی پالیسی سے دوبارہ رجوع کرنا ہو گا جس کی رو سے ضروری تھا کہ طالبان مذاکرات سے قبل خود کو بات چیت کے لیے قابل بھروسہ اور اہل ثابت کرنے کے لیے کچھ اہم ترین شرائط کو پورا کریں۔ مگر آج یہ بات محض ماضی کا ایک حصہ بن چکی ہے اور امریکی افسران پاکستان اور افغانستان میں صدر باراک اوباما کے خصوصی ایلچی مارک گراس مین Marc Grossman کی سربراہی میں قطر اور جرمنی میں طالبان نمائندوں کے ساتھ دو بدو بات چیت اور ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
 
اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور طالبان دونوں ہی گزشتہ کئی مہینوں سے خفیہ مذاکرات کرتے رہنے کے ساتھ ساتھ اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ وہ باہم بات چیت کا در وا کر چکے ہیں۔ اگرچہ غیر اصولی ہی صحیح مگر یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے اسی نوعیت کے متعدد بحرانوں کو حل کیا جا چکا ہے۔ بحالی امن کی خاطر باہم متحارب فریقین اکثر اپنی پالیسیوں کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں، حقیقی پوزیشن کو اختیار کرنے کی راہ میں اپنی اناء کو حائل نہیں ہونے دیتے اور اپنے مخالفین سے بات چیت کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اس رویے کو ،عملیت پسندی، کا نام دیا جاتا ہے اور امریکا کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے الفاظ میں امن مذاکرات دوستوں سے نہیں بلکہ مخالفین سے ہی کئے جاتے ہیں، خواہ یہ براہ راست ہوں یا ثالثوں کے ذریعے۔
 
یہ بات بالکل سچ ہے کہ طالبان اور امریکا باہمی تصادم میں لاتعداد جانیں گنوا بیٹھے ہیں اور آج بھی ان کی ایک دوسرے کے ساتھ نفرت کا کوئی کنارا نہیں۔ واشنگٹن طالبان کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جبکہ طالبان امریکا کو دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد ریاست تصور کرتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ان دونوں نے نفرت کی اس دیوار میں وہ دروازے ڈھونڈ نکالے ہیں جن کے ذریعے وہ دوران جنگ بھی ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی نفرت کا ثبوت حال ہی میں انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو ٹیپ ہے جس میں چار امریکی سپاہیوں کو تین طالبان جنگ جوؤں کی لاشوں پر پیشاب کرتے دکھایا گیا ہے۔ 

اس ویڈیو ٹیپ کے سامنے آنے سے ناصرف یہ کہ شدید مگر جائز غم و غصے نے جنم لیا بلکہ ان امریکی دعوؤں کی قلعی بھی کھل گئی، جن کے بقول امریکی فوج نظم و ضبط کی پابند ہونے کے ساتھ ساتھ بنیادی اصول اور اقدار کی بھی پابند ہے۔ چنانچہ بشمول صدر حامد کرزئی کے ان افغان شہریوں نے بھی جن کی تقدیر طالبان کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کی وجہ سے اب امریکا ہی کے ساتھ وابستہ ہے، اس فوٹیج پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ 

تاہم طالبان نے اپنی حالیہ عملیت پسندی کی روشنی میں یہ اطمینان بخش بیان دیا کہ وہ مذکورہ واقعے کے باعث امریکا کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بند نہیں کریں گے۔ طالبان جانتے ہیں کہ امریکی اور نیٹو افواج کے ہاتھوں یہ کوئی پہلا اور نہ ہی آخری غیر انسانی اور شدید گھناؤنا فعل ہے۔ طالبان نے بھی بعض اوقات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور آئندہ بھی کر سکتے ہیں کیونکہ آج افغان جنگ نے ایک وحشی درندے کا روپ دھار لیا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی فریق کو قابل مواخذہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
 
اگر اختیار میں ہوتا تو امریکی فوجی اپنی نظروں میں آنے والے ہر طالبان کو موت کے گھاٹ اتار دیتے اور ہتھیار ڈالنے والے طالبان کو بطور غلاموں کے خرید لیتے۔ مگر اپنی تمام تر طاقت اور اپنے اتحادیوں کے تمام تر وسائل کے باوجود وہ ایسا نہیں کر سکے اور آج اسی وجہ سے وہ اپنے بدترین دشمن کے ساتھ بات کرنے پر تیار ہوئے ہیں۔ اس جنگ میں طالبان نے بھی بدترین جانی نقصان اٹھایا ہے اور ان کے لیے نئے جنگجو بھرتی کرنا اور ہلاک ہونے والے کمانڈروں کی جگہ دوسرے کمانڈر مقرر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے چند مقاصد کے حصول کے لیے پٍُرامن طریقوں کو کام میں لانے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے لڑائی کے آپشن کو ترک نہیں کیا ہے بلکہ اگر باہمی بات چیت میں کوئی اہم کامیابی حاصل نہ ہوئی یا انہوں نے محسوس کیا کہ اس طرح ان کے مقاصد کو نقصان پہنچ رہا ہے تو وہ بات چیت ختم کر کے ایک بار پھر پوری طاقت سے ہتھیار اٹھا لیں گے۔
 
یہ چار جنوری کی بات ہے جب طالبان نے حتمی طور پر تسلیم کیا کہ وہ حکومت قطر اور "دوسرے متعلقہ فریقین" کے ساتھ بات چیت کر چکے ہیں۔ اس بات کا اعلان بھی کیا کہ وہ بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے قطر میں ایک سیاسی دفتر کھولنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ "دوسرے متعلقہ فریقین" کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم یہ فریقین واضح طور پر امریکا اور جرمنی تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ نیم اہل جرمن انٹیلی جنس طالبان کے ساتھ پہلا رابطہ کرنے میں کام یاب ہو گئی تھی، جس نے بعد ازاں متذکرہ مذکرات کو عملی شکل دی۔ اسی وجہ سے آج جرمنی بھی ان مذاکرات کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ 

طالبان کا امریکا کے ساتھ اچانک مذاکرات میں دلچسپی لینے کا مطلب قیدیوں کے تبادلے میں اپنے افراد کی رہائی کو ممکن بنانا ہے۔ یہ ان مذاکرات کا عنوان ہے، تاہم امن کے عمل میں اس وقت تک پیش رفت نہیں ہو گی جب تک طالبان قیدیوں کی محفوظ رہائی کا عمل یقینی نہیں ہو جاتا، خاص طور پر ان پانچ کمانڈروں کی رہائی جو گوانتاناموبے کے بدنام زمانہ جیل خانے میں قید ہیں؛ جب کہ امریکا کا مقصد اپنے بوئے بارگدال Bowe Bergadahl نامی فوجی کی رہائی ہے، جسے طالبان جنگجوؤں نے ڈھائی سال قبل پکڑ لیا تھا۔ طالبان اپنے جن پانچ افراد کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں وہ ان کے سابقہ آرمی چیف ملا فاضل اخوند، وزیر خارجہ خیراللہ خیر خواہ، ڈپٹی انٹیلی جنس چیف عبد الحق واثق، صوبہ بلخ کے سابق گورنر نوراللہ نوری اور فوجی کمانڈر محمد نبی ہیں۔ اپنے اپنے قیدیوں کی محفوظ رہائی امریکا اور طالبان کی اولین ترین ترجیحات میں شامل ہے۔
 
طالبان رہنما متذکرہ طالبان قیدیوں کے اہل خانہ اور دوستوں کی جانب سے اس دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں کہ وہ اپنے ان ساتھیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔ جولائی 2011ء میں افغانستان میں نیٹو افواج نے بھی اس بات کی وضاحت کی تھی کہ بوئے بارگدال Bowe Bergadahl کی رہائی ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب طالبان اس بات پر مصر تھے کہ انہیں بیرونی دنیا کسی تیسرے ملک میں اپنے کسی دفتر کی ضرورت نہیں اور یہ کہ وہ اس تناظر میں افغانستان ہی میں کام کرنے کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے افغانستان اور پاکستان کی حمایت یافتہ ترکی کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا کہ وہ ترکی کی زمین پر اپنا دفتر قائم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ترکمانستان اور صدر حامد کرزئی کی لڑکھڑاتی حکومت کی جانب سے دبئی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں دفتر کھولنے کی پیش کش کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ 

مگر بعد ازاں اس سلسلے میں چھوٹی سی خلیجی ریاست قطر کا انتخاب کیا، جس کی حکومت پر طالبان اور امریکا دونوں ہی کو اعتماد ہے۔ طالبان نے اپنے خاص طریقہ کار کے تحت امریکا کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ان مذاکرات میں افغان حکومت شامل نہیں ہو گی۔ انہوں نے اس بات کی قطعی وضاحت کر دی کہ افغانستان میں گزشتہ ایک عشرے سے جاری تنازعے میں بنیادی فریقین طالبان کی اسلامک اسٹیٹ آف افغانستان اور امریکا اور اس کے اتحادی ہی ہیں۔ طالبان نے مذکرات کے حوالے سے موجودہ افغان حکومت کو بے اختیار اور ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کا نام تک لینا پسند نہیں کیا۔ چنانچہ صدر حامد کرزئی کے مشتعل ہونے پر کوئی حیرانی کی بات نہیں۔
 
حامد کرزئی نے شکایت کی کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا انعقاد کرنے اور طالبان کو قطر میں دفتر قائم کرنے کی اجازت دینے میں ان کی حکومت سے کوئی صلاح مشورہ نہیں کیا۔ ان کے وزیر خارجہ زلمے رسول نے کہا کہ قطر میں طالبان کے دفتر کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ طالبان کو سیاسی نمائندگی دی گئی ہے۔ مگر بتدریج کرزئی حکومت کے پاس طالبان کے قطر میں دفتر کی حمایت کرنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں بچا۔ صدر کرزئی کو اپنی حدود کو اندازہ تھا چنانچہ انہیں امریکی فیصلے کے آگے سر جھکانا ہی پڑا۔ 

یہ بات کہنا ایک دیگر بات ہے کہ امن کا عمل ہر صورت میں افغانستان کی سربراہی میں ہو گا، مگر حقیقت کا چہرہ یہ ہے کہ امریکی حکومت اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے بغیر کابل جنگ یا حصول امن کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ صدر کرزئی ہی کا مطالبہ تھا کہ طالبان کا کوئی پتہ ہونا چاہیے جہاں ان کے اصل نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے لیے رابطہ کیا جا سکے۔ چنانچہ وہ اب طالبان کے قطر میں دفتر کے قیام کی مخالفت نہیں کر سکتے۔
 
قطر میں تاحال طالبان کا دفتر نہیں کھولا گیا ہے مگر وہاں اس دفتر کا قیام محض ایک رسمی کارروائی ہے کیونکہ طالبان کے سربراہ مذاکرات کار اور ملا عمر کے قریبی عزیز اور قلیل وقتی ترجمان طیب آغا اور دیگر طالبان افسران گزشتہ کئی مہینوں سے قطر کے دارالحکومت دوہا سے باہر غیر رسمی طور پر مصروف ہیں۔ اگرچہ اس عمل میں پاکستان کو کسی حد تک ایک طرف کر دیا گیا ہے مگر اسلام آباد اس کھیل سے باہر نہیں ہے۔ آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا نے امریکی افسران سے ملاقات کرنے کے لیے حال ہی میں قطر کا دورہ کیا ہے اور قطر میں طالبان کے مجوزہ دفتر کا موضوع ان ملاقاتوں میں ضرور زیر بحث آیا ہو گا۔
 
طالبان کو اندازہ ہے کہ وہ پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور وہ اپنی زیادہ آزادی کے حصول اور اپنے فیصلوں میں کم سے کم پاکستانی مداخلت کے لیے کبھی بھی پاکستان کو سیخ پا کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ مزید برآں قابل غور بات یہ ہے کہ مذاکرات کی اس گاڑی نے ابھی حال ہی میں چلنا شروع کیا ہے، جہاں ہر موڑ پر نت نئی دشواریاں متوقع ہیں اور ایسی صورتحال میں پاکستان کی مدد فیصلہ کن ثابت ہو گی۔
 "روزنامہ جنگ"
خبر کا کوڈ : 132213
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب