0
Monday 28 Jun 2010 11:15

غرب، اسرائیل کے ٹوٹ جانے سے ہراساں

غرب، اسرائیل کے ٹوٹ جانے سے ہراساں
تحریر: سعداللہ زارعی
"اسرائیل مغربی دنیا کا ایک بنیادی حصہ ہے، وہ مغربی دنیا جس کی جڑیں مسیحی-یہودی جڑوں سے جا ملتی ہیں اور اگر مغربی تہذیب و تمدن سے یہودیت کو حذف کر دیا جائے اور اسرائیل نابود ہو جائے تو انکی سرنوشت بھی نابودی ہو گی کیونکہ غرب کی سرنوشت اسرائیل کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اور اس سے ناقابل جدا ہے"۔
یہ لندن کے اخبار "ٹائمز" میں چھپنے والے سپین کے سابق وزیراعظم [1996 سے 2004 تک] خوزے ماریا ازنار کے مقالے کا ایک حصہ ہے جس میں انہوں نے دو بنیادی نکات بیان کئے ہیں؛ اول یہ کہ اسرائیل نابودی کی طرف گامزن ہے اور دوم یہ کہ اسرائیل کی نابودی مشرق وسطی میں غرب کے اقتدار کے خاتمے کے مترادف ہے۔
کچھ عرصہ قبل اسرائیل کی نابودی کے بارے میں بات کرنا ایک قسم کی خیال انگاری اور سادہ نگری سمجھا جاتا تھا لیکن آج اسرائیل کی صہیونیستی رژیم اور غرب میں اسکے روایتی حامی شدید خوف کا شکار ہو چکے ہیں۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار ٹائمز کے علاوہ اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارنوٹ نے بھی اسرائیلی کنیسٹ کے سابق سپیکر اوراہم برگ کے بقول لکھا تھا کہ اسرائیل ٹوٹ رہا ہے اور جلد اشکنازی [مغربی ممالک سے آئے یہودی] اور سفاردی [عرب ممالک اور افریقا سے آئے یہودی] یہودیوں کے درمیان صف آرائی کے مناظر سامنے آئیں گے۔ اس صورت حال سے خوفزدہ ہو کر اسرائیلی سپریم کورٹ نے اشکنازی یہودیوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ اپنے بچوں کو مشترکہ سکولوں میں نہیں بھیجیں گے تو انہیں جیل جانا پڑے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہریڈی یہودیوں نے بڑی تعداد میں ملک گیر مظاہرے کئے جس پر اوراہم برگ نے کہا تھا کہ ہریڈی یہودی اسرائیل معاشرے سے جدا ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی سطح پر اپنی حیثیت کھو چکا ہے۔ تل ابیب کی کھلم کھلا حمایت کرنے میں مغربی دنیا کی جانب سے شک و تردید نے اسرائیل کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مغربی رہنماوں کو خوزے ماریا ازنار کی نصیحت پر توجہ کریں:
"غصے سے پرہیز کرتے ہوئے عاقلانہ اور متعادل موقف اختیار کرتے ہوئے حقائق کو مدنظر رکھیں اور ایسی ریاست کی موجودیت پر شک نہ کریں جس کی موجودیت اقوام متحدہ کی قرارداد پر مبنی ہے"۔
وہ مایوسانہ انداز میں کہتا ہے: "اسرائیلی حکومت اپنی تاسیس کے 60 سال گذر جانے کے باوجود ایسی جنگوں میں حصہ لیتی ہے جس میں مجبور ہے کہ اپنی موجودیت کا دفاع کرے"۔
یہ سابق مغربی رہنما جن حقائق کی جانب اشارہ کرتا ہے وہ یہ ہیں: فلسطین کا حاصل کردہ نیا تشخص اور مسلمانوں کی جانب سے فلسطین کی مقدس سرزمین کو آزاد کروانے پر مبنی روز بروز بڑھتا ہوا عزم۔ حقیقت یہ ہے کہ خوزے ماریا ازنار خود بھی اسرائیل کے باقی رہنے کے بارے میں زیادہ امیدوار نہیں ہے کیونکہ وہ معتقد ہے کہ صہیونیستی رژیم ابھی تک اپنی بقا کی کوششوں کے مرحلے سے عبور نہیں کر پائی ہے جبکہ اس رژیم کی پہلی نسل مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور دوسری نسل بھی اپنی زندگی کا آخری عشرہ گزار رہی ہے۔ اگر سٹریٹجک اعتبار سے دیکھا جائے تو اسرائیل کا کمزور ہونا مشرق وسطی میں غرب کے اقتدار کی کمزوری کی علامت ہے۔ اردن یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر ڈاکٹر عبدالمہدی عبداللہ نے ہفتہ وار مجلے "مریا" میں ایک تحقیقی مقالہ لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ "غرب مخصوصا امریکہ نے اسرائیل کو ایجاد کیا ہے اور یہ اسرائیل اس وقت ان کیلئے خطے کو کنٹرول کرنے کا مرکز ہے"۔
عراق پر امریکی قبضے کے کچھ ہی ماہ بعد تل ابیب سے وابستہ سٹریٹجک سٹڈیز کے مرکز "بیسا" یا بگین-سادات سٹریٹجک سٹڈیز سنٹر نے اپنی نومبر کی رپورٹ میں پرجوش انداز میں لکھا: "عراق تنازعے کے بعد ہم ایک وسیع اٹلنٹک معاہدے کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کیلئے بڑا مشرق وسطی یقینا اس کا ایک حصہ ہے اور اسرائیل اس سٹریٹجک تعادل کو تحقق بخشنے والے کی حیثیت سے سامنے آ سکتا ہے"۔
یہ وہ تصور ہے جو 6 برس پہلے besacenter کی ایک رپورٹ میں پیش کیا گیا۔ اسرائیل اور مغربی ممالک کی سیاسی محافل میں گذشتہ 4 برس میں، خاص طور پر غزہ میں 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کی شکست کے بعد ایک نیا تصور سامنے آیا ہے جس کا ایک نمونہ خوزے ماریا ازنار کے مذکورہ بالا بیانات ہیں۔
سٹریٹجک تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ غرب مشرق وسطی میں اسرائیل کیلئے ایک سپر سٹریٹجک پوزیشن کا قائل ہے لہذا اسکی شکست بھی غرب کیلئے ایک سپر سٹریٹجک شکست ثابت ہو سکتی ہے اور اسی وجہ سے امریکی حکام انتہائی توجہ کے ساتھ اسرائیل اور فلسطین میں رونما ہونے والے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ تل ابیب پر دباو ڈالتے رہتے ہیں اور اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے اقدامات سے پرہیز کرے جو صورتحال کے مزید خراب ہونے کا باعث بنیں۔
اسرائیل کے دو باسابقہ ترین جاسوسی اداروں یعنی شاباک اور موساد کی جانب سے سامنے آنے والی ایک مشترکہ رپورٹ تل ابیب میں بڑھتی ہوئی بحرانی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے ایک حصے میں آیا ہے: "ایسے وقت جب اسرائیل کی اندرونی صورتحال ایک نئی جنگ کیلئے بالکل مناسب نہیں ہے ہم دیکھتے ہیں کہ شمالی سرحدوں پر حزب اللہ روز بروز طاقتور ہوتی جا رہی ہے، مشرقی سرحدوں پر کرانہ باختری روز بروز عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے اور غزہ کے اہالی شدت کے ساتھ محاصرے کو ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں"۔
رپورٹ میں 2010 کے سال میں 7 بڑے بحرانوں کی پیش بینی کی گئی ہے اور فلسطین میں اسرائیل کے حامیوں کی کم ہوتی ہوئی طاقت کے بارے میں کہا گیا ہے: "فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات کا متوقف ہونے کا خطرہ ایران کے خطرے سے کم نہیں ہے"۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح رہی تو ہمارے پڑوسی یعنی اردن اور مصر بھی انٹی اسرائیل گروپ سے جا ملیں گے اور اس صورت میں ہماری تمام شمالی، جنوبی اور مشرقی سرحدیں ناامن ہو جائیں گی۔ اسرائیل کی سٹریٹجک مشکلات میں سے ایک یہ ہے کہ کرانہ باختری یا غزہ کی پٹی میں مد مقابل فلسطینیوں پر موجودہ حد سے زیادہ دباو ڈالنا ممکن نہیں ہے۔ دباو کی موجودہ مقدار بھی بین الاقوامی ردعمل کا باعث بنی ہے اور دوسری طرف فلسطینیوں نے اب تک اس دباو کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ صورتحال اسرائیل کو سمجھاتی ہے کہ دباو ڈالنے کی سیاست کارآمد نہیں ہے اور اس سیاست کو ترک کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی شدت پشند رژیم نے اعلان کیا ہے کہ غزہ جانے والے کچھ راستوں کو کھانے پینے کے سامان اور دوائیوں کیلئے کھول رہا ہے۔ البتہ اس کا یہ معنا نہیں ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ غزہ کا اصل محاصرہ سمندری محاصرہ ہے نہ زمینی۔ غزہ زمینی راستے کے اعتبار سے ہمیشہ محاصرے کا شکار رہا ہے چاہے وہ راستے کھلے ہوں یا بند مگر یہ کہ اسرائیل کی صہیونیستی رژیم کا خاتمہ ہو جائے۔
اسرائیل کی بقا کے ساتھ مشرق وسطی میں غرب کی پوزیشن کی بقا کے رابطے کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک کی سیاست کو منسجم کرنے میں اسرائیل کے کردار کو سمجھا جائے۔ اگر اسرائیل نہ ہو تو مغربی ممالک مجبور ہوں گے مشرق وسطی میں موجود تمام ممالک سے رابطہ رکھیں۔ ہر یورپی ملک ایک یا کئی اعتبار سے دوجانبہ رابطے پر زور دے گا جسکے نتیجے میں آپس میں اختلافات اور تنازعات پیش آئیں گے۔ جب اسرائیل مشرق وسطی میں غرب کے اصلی مرکز کے طور پر موجود ہے تو مقبوضہ فلسطین کی سرزمین غرب کیلئے مشرق وسطی میں داخل ہونے کیلئے مشترکہ دروازے کی حیثیت رکھتی ہے اور انکی سیاست میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں صہیونیستی رژیم مشرق وسطی میں مغربی ممالک کی سیاست کو ہم آہنگ کرنے کا کام کرتی ہے۔ اب ذرا تصور کریں اور یہ تصور خیالی اور حقیقت سے دور نہیں ہے کہ صہیونیستی رژیم ختم ہو جاتی ہے، نتیجے کے طور پر غرب مشرق وسطی میں داخل ہونے کا راستہ کھو دے گا اور ایسے حالات میں مشرق وسطی کے اہم ممالک جیسے ایران اس خطے میں روابط کو ہم آہنگ کرنے کا کام سنبھال لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی، سیکورٹی، اقتصادی اور ثقافتی اعتبار سے ایک علاقائی رژیم اپنی جگہ ایک بین الاقوامی رژیم کو دے دے گی اس فرق کے ساتھ کہ اس دفعہ یہ نئی رژیم فوجی طاقت اور دھونس کی بنیاد پر نہیں بلکہ علاقائی تعاون کی بنیاد پر استوار ہو گی۔
خبر کا کوڈ : 29426
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب