0
Saturday 15 Jun 2013 22:21

معاشرے کو نفرتوں سے خالی، حقیقی اسلام پر عمل پیرا کرانا ہمارا نصب العین ہے، علامہ احمد علی روحانی

معاشرے کو نفرتوں سے خالی، حقیقی اسلام پر عمل پیرا کرانا ہمارا نصب العین ہے، علامہ احمد علی روحانی
علامہ شیخ احمد علی روحانی کا تعلق پاراچنار کے نواحی علاقے نستی کوٹ سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کیلئے مقدس شہر قم چلے گئے، وہاں سے فارغ التحصیل ہوکر ۹۰ کی دہائی کے وسط میں واپس پاراچنار تشریف لا کر تحریک جعفریہ میں شامل ہوگئے۔ تحریک جعفریہ میں اندرونی بحران کے بعد آقائے روحانی دیگر مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں سے وابستہ رہے۔ چند سال قبل جب قم میں مقیم چند جید علماء نے پاراچنار میں مجلس علمائے اہلبیت (ع) کی بنیاد ڈالی تو آقائے روحانی بھی اس میں شامل ہو گئے۔ جناب عالی آج کل مجلس علمائے اہلبیت کے صدر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے کرم ایجنسی کے موجودہ حالات خصوصا مجلس اہلبیت کی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو کی ہے، جسے قارئین کے خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: مجلس علماء اہلبیت تنظیم کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا ہماری تنظیم کے اغراض و مقاصد میں شامل ہے۔ نیز معاشرے کو نفاق اور نفرتوں سے خالی محمد و آل محمد علیہم السلام کے سچے اور حقیقی اسلام کے احکام پر عمل پیرا کرانا ہمارا نصب العین ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ کی تنظیم کے اغراض و مقاصد میں سیاسی اغراض بھی شامل ہیں یا صرف رفاہی اور مذہبی مقاصد تک یہ تنظیم محدود ہے؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: تنظیم کا منشور ہر اس عمل و فعالیت پر محیط ہے جو معاشرے کے لوگوں کو راہ راست پر گامزن کرنے میں معاون ہو۔ چنانچہ اس میں سیاسی امور بھی آ سکتے ہیں اور غیر سیاسی بھی۔

اسلام ٹائمز: آپ کی تنظیم صرف کرم ایجنسی تک محدود ہے یا باہر دوسرے ایجنسیوں اور اضلاع میں بھی مصروف عمل ہے؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: ہماری تنظیم کا ڈھانچہ فی الحال کرم ایجنسی تک محدود ہے۔ تاہم اس سے وابستہ علماء دوسرے علاقوں اور ملکوں میں بھی مصروف عمل ہیں۔ یعنی ہماری نمائندگی دیگر ممالک مثلاً ایران، عراق، شام اور پاکستان کے دیگر مختلف شہروں میں بھی موجود ہے۔ ان علماء کے ساتھ ہمارا اکثر رابطہ رہتا ہے۔ بہرحال تنظیم کے نام سے کوئی باقاعدہ یونٹ نہیں۔ تاہم کوشش ہے کہ ہر شہر میں مجلس علماء اہلبیت کے نام سے تنظیم کی مزید برانچیں کھولیں۔

اسلام ٹائمز: آپکی تنظیم صرف علماء تک محدود ہے یا اسمیں جوانان یعنی غیر علماء بھی ممبر شپ لے سکتے ہیں۔ کیا آپ نے کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں یونٹ سازی کی ہے؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: فی الحال یہ صرف علماء کی حد تک محدود ہے، تقریبا 180 علماء باقاعدہ طور پر ہمارے ہاں رجسٹرڈ ہیں، جو قم، نجف اور پاکستان کے مختلف مدارس سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔ جبکہ ابھی تک غیر علماء کی ممبر شپ نہیں ہوئی ہے۔ باقی رہی بات یونٹ سازی کی، تو کرم ایجنسی میں مرکزی کابینہ کے علاوہ دیہات کی سطح پر کوئی یونٹ سازی نہیں کی گئی ہے۔ تاہم ہم نے ماضی میں معاشرے میں ایسا کردار ادا کیا ہے کہ جب بھی ہمیں جوانوں کی ضرورت پڑی ہے، انہوں نے پورے مذہبی جذبے کیساتھ اور علماء کی قدر کرتے ہوئے ہمارے ساتھ پورا پورا تعاون کیا ہے۔ بہرحال ہماری کوشش ہے کہ ہر گاوں میں تنظیم کے یونٹ کھولیں اور جوانوں کو بھی خدمت کرنے کا موقع دیں۔

اسلام ٹائمز: کرم ایجنسی میں تنظیم کے پلیٹ فارم سے آپ لوگوں نے کونسی قابل ذکر خدمات سر انجام دی ہیں؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: کرم ایجنسی میں ہر مشکل دور میں مومنین کی فلاح و بہبود کیلئے کام کئے ہیں، بےبس لوگوں اور یتیموں کی ہر ممکن امداد کی ہے۔ گذشتہ پانچ چھ سال جو کرم ایجنسی کی عوام کے لئے ایک امتحان سے کم نہ تھے، اس دوران شہداء، فقراء اور ایتام میں کروڑوں کے حساب سے رقم اور پیکجز تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ اسکے علاوہ کرم ایجنسی کے مختلف دیہات میں 30 سے زائد مساجد کے لئے پیش امام فراہم کئے ہیں، جوکہ متعلقہ مساجد میں باقاعدگی سے باجماعت نماز پڑھاتے ہیں۔ اسکے علاوہ متعدد دیہات میں قرآن سنٹرز قائم کیے ہیں۔ جس میں بچوں اور بچیوں کو قرآن سکھانے کے علاوہ دعائیہ پروگرامات بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ مجلس کی نگرانی میں کرم ایجنسی کی سطح پر ایام فاطمیہ کا انعقاد ایک نئے انداز سے کیا جاتا ہے، اس دوران گاؤں گاؤں میں سیدہ دو جہاں کی مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔ مزید برآں شہداء کے بچوں کیلئے ایتام الکوثر سکول اور ہاسٹل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جس میں شہداء کے بچوں کو تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، جبکہ ۲۰ کے قریب یتیم بچوں کو پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم اعلی اداروں میں بھیجا جا چکا ہے۔ جہاں انکو مفت لیکن معیاری تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح سال کے مختلف ایام میں اجتماعی شادیوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جس سے لاتعداد جوانوں اور انکے والدین مستفید ہو جاتے ہیں۔

اسلام ٹائمز:آپ کی جانب سے جوانوں کو آسٹریلیا بھیجنے کا ایک پروگرام چل رہا ہے۔ اسکی حقیقت کیا ہے؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: ہمارے ایک دوست عالم دین کی کوششوں سے یہ پروگرام چل رہا ہے، انہوں نے ہم سے 1000 جوانوں کے نام، ولدیت اور شناختی کارڈ نمبر مانگے۔ ہم نے اپنا فریضہ ادا کیا اور 1000 افراد کے نام اور مطلوبہ کوائف لکھ کر انکو بھیج دیئے، ہم نے کسی سے کوئی فیس نہیں لی ہے، جو لوگ شک کریں کہ ہم نے کسی مالی فائدے کے لئے فراڈ کیا ہو۔ باقی یہ ان لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ ان میں سے کتنے افراد کو قبول کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: یہ پروگرام کسی این جی او کے تحت چل رہا ہے یا آپ کے وہاں (آسٹریلیا میں) کسی مذہبی یا سیاسی شخص سے رابطہ ہے؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: جس طرح قبلا عرض کی گئی کہ ہر شہر میں ہماری نمائندگی موجود ہے، یہ پروگرام پشاور سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک عالم دین چلا رہے ہیں، جبکہ بذات خود ہمارا آسٹریلیا میں کسی کیساتھ رابطہ نہیں۔

اسلام ٹائمز: انتخابات کے بعد ایک نئی انجمن وجود میں آئی ہے۔ اس سلسلے میں آپ کا نظریہ کیا ہے۔ یعنی اس اقدام کو آپ مثبت قرار دیتے ہیں یا منفی؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: ہم اسکو مثبت قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے عوام کے حقوق کے حصول کیلئے انجمن بنائی ہے۔ انہوں نے حق کی آواز اٹھائی ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو پورے خلوص کیساتھ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ اس انجمن میں کرم ایجنسی کے نہات بااثر و متعمد شخصیات موجود ہیں۔ نیز اس انجمن میں ہر قبیلے اور ہر علاقے کے نمائندگی موجود ہے۔ چنانچہ اس سے لوگوں کافی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ انکی حمایت کرتے ہیں، اور یہ کہ انکا ساتھ دیں گے؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: ہم اس نئی انجمن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ حق کے لئے آواز اٹھانے اور فلاحی کاموں میں ہم انکا بھرپور ساتھ دیں گے۔

اسلام ٹائمز: کرم ایجنسی کی موجودہ مخدوش فضا میں آپ لوگوں نے کوئی کردار ادا کیا؟ یا موجودہ مسئلے کے حل کے لئے کوئی کوشش کی ہے؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: انتخابات کے دوران مومنین کو تقسیم کرنے اور ان میں نفاق ڈالنے کے لئے جو سازشیں یہاں ہو رہی تھیں ہم نے ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔ سید و غیر سید کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ہم اہل ممبر( علماء) کا فرض تھا کہ اس پھوٹ کو ختم کریں، چنانچہ ہم نے لوگوں کو بیرونی سازشوں سے آگاہ کیا۔ اور عوام کو حتی الوسع ایسی باتوں سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ ہمارے علماء نے اس سلسلے میں عوام کا شعور کافی حد تک بیدار کیا۔

اسلام ٹائمز: کرم ایجنسی کی عوام خصوصاً علماء کرام کو اسلام ٹائمز کے توسط سے کیا پیغام دینا پسند کریں گے؟
علامہ شیخ احمد علی روحانی: سب سے پہلے میں اسلام ٹائمز کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے ہمیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔ اسکے بعد ہم اسلام ٹائمز کے توسط سے عوام اور علماء کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ بیدار رہیں، پرانے خیالوں میں نہ رہیں، گذشتہ کیطرح دھوکہ نہ کھائیں۔ اپنی حالت خود اپنے ہاتھوں تبدیل کریں۔ جو حالات ہمارے سامنے ہیں، یہ بیرونی سازشیں ہیں۔ سادات و غیر سادات کا کوئی مسئلہ نہیں ہم سب ایک ہیں اور ہم اسطرح کی سازشوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 273792
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب