?>?> ایران ہر مشکل گھڑی میں ہمارے کام آیا جبکہ امریکہ نے صرف وعدوں پر ہی رکھا، حاجی حنیف طیب - اسلام ٹائمز
0
Tuesday 5 Nov 2013 20:58
بلوچستان عالمی سیاسی کھیل کا محور بن چکا ہے

ایران ہر مشکل گھڑی میں ہمارے کام آیا جبکہ امریکہ نے صرف وعدوں پر ہی رکھا، حاجی حنیف طیب

ایران ہر مشکل گھڑی میں ہمارے کام آیا جبکہ امریکہ نے صرف وعدوں پر ہی رکھا، حاجی حنیف طیب
حاجی حنیف طیب انجمن طلباء اسلام کے بانی اور سابق مرکزی صدر بھی ہیں، آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ الاسلام کھارادر سے اور میٹرک قریشی ہائی سکول سے کیا۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی۔ اردو لاء کالج سے ایل ایل بی کیا لیکن قانون کی تعلیم کو انہوں نے بطور پروفیشن نہیں اپنایا، کچھ عرصہ عبدالستار ایدھی کیساتھ بھی کام کیا، اس کے بعد جمعیت علمائے پاکستان میں شامل ہو گئے اور کراچی کے جنرل سیکرٹری رہے۔ 1975ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئے، 1977ء میں دوبارہ ایم این اے بنے۔ مختلف وزارتوں پر بھی رہ چکے ہیں۔ آج کل نظام مصطفٰی پارٹی کے سربراہ اور سنی اتحاد کونسل کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ گذشتہ روز مختصر دورہ پر لاہور تشریف لائے تو اسلام ٹائمز نے ان کے ایک نشست کی جس کا احوال ہم اپنے قارئین کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ (ادارہ)
                                      
اسلام ٹائمز: نواز شریف کے دورہ امریکہ کو آپ کامیاب سمجھتے ہیں کہ ناکام، اور کیا دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر ہمارا ملک ترقی کر سکتا ہے؟
حاجی حنیف طیب: میاں نواز شریف کے دورے کو اس اعتبار سے تو کامیاب ضرور قرار دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے وہاں ڈرون حملوں کا ایشو اٹھایا لیکن امریکہ کی طرف سے مثبت جواب لینے میں ناکام رہے۔ اس طرح مسئلہ کشمیر اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے بھی انہوں نے آواز اٹھائی لیکن اس کا بھی مثبت جواب نہیں ملا۔ البتہ امریکہ نے پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں تعاون کا یقین دلایا ہے، ملک کو دہشت گردی سے محفوظ بنانا ہمارا کام ہے، اس کے لئے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اے پی سی کے ذریعے حکومت کو طالبان کیساتھ مذاکرات کا اختیار دے رکھا ہے اب یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھاتی مگر ایسا نہیں کیا گیا، حکومت نے مذاکرات سے تاخیر سے نہ صرف اپنا وقت ضائع کیا بلکہ قوم کا وقت بھی اور قیمتی جانیں بھی ضائع کر دیں۔ اس لئے کہ اس کے بعد پشاور میں چرچ میں حملہ ہوا، پھر ایک واقعہ میں میجر جنرل اور کرنل سمیت چند فوجی جوانوں کی بھی شہادت ہوئی اس کے بعد خیبر پختونخوا کے ہی ایک وزیر اسرار اللہ گنڈا پور کو قتل کر دیا گیا، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے جو کچھ بھی کرنا ہے جلد فیصلہ کرے اس طرح تاخیر سے تو نقصان پہ نقصان ہو رہا ہے۔

خودکش حملوں سے پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپنی جگ ہنسائی ختم کرنے کے لئے فوری مذاکرات کا عمل شروع کرے۔ اس لئے کہ جب تک ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ملکی معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ وزیراعظم نواز شریف نے ایڈ نہیں ٹریڈ کا مطالبہ کر کے اچھی بات کی ہے مگر ٹریڈ کون کرے گا۔ جس ملک کی معیشت کمزور ہو گی حالات ساز گار نہیں ہوں گے ان کے ساتھ تجارت کون کرے گا، ہمیں کاسہ گدائی توڑ کر عزت و آبرو کی زندگی بسر کرنے کی ضرورت پر زور دینا چاہیئے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات حاصل کر کے خود کفالت کی منزل کی طرف رواں دواں کریں گے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے اندر چھپے ہوئے قدرتی خزانوں کو تلاش کریں بلوچستان کے عوام اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیں اور وہاں کی معدنیات سے استفادہ کیا جائے۔ ان میں سے ان کا جو حصہ بنتا ہے وہ ضروری ادا کرئے ان کے حقوق ادا کر کے ہی ہم وہاں کے خزانوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وہاں اتنے خزانے موجود ہیں کہ ہمیں کسی ملک کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

اسلام ٹائمز:حکومت کی کارکردگی کو کس نظر دیکھتے ہیں، کیا حکمران سابق حکومت کے نقش قدم پر تو نہیں چل رہے؟
حاجی حنیف طیب: جہاں تک موجودہ حکومت کی کارکردگی کی بات ہے تو میں برملا کہوں گا کہ حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، اگرچہ سخت حالات اور بری صورت حال میں ان کو اقتدار ملا تھا لیکن اس کے باوجود بہت کچھ ہونا چاہیئے تھا جو نہیں ہوا، ریلوے اور پی آئی اے کا تباہ ہو جانا المیہ ہے۔ کرپشن ختم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے، قومی معیشت آکسیجن ٹینٹ میں ہے۔ پاکستان کا دنیا کے کرپٹ ممالک کی فہرست میں 33 ویں نمبر پر آ جانا لمحہ فکریہ ہے۔ گڈگورننس کسی شعبہ میں دکھائی نہیں دیتی۔ حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ ملک میں بدامنی، مہنگائی اور بےروزگاری کی آگ میں جل رہا ہے، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔ قومی خزانہ خالی ہو چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، داخلی قرضے 13 ہزار ارب روپے اور بیرونی قرضے ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

توانائی بحران کی وجہ سے تیرہ سو صنعتیں بند اور تین لاکھ سے زائد افراد بےروزگار ہو چکے ہیں۔ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔ گذشتہ دور میں پنجاب حکومت نے اربوں روپے سستی روٹی سکیم کے تحت تنوروں میں جھونک دیئے تھے۔ پنجاب کے ہزاروں سکول عمارتوں، فرنیچر اور اساتذۃ سے محروم ہیں لیکن حکومت نے سستی شہرت کے لئے اربوں روپے دانش سکولوں پر لٹا دیئے ہیں۔ عمران خان کی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہو کر لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے۔ میرے خیال میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی بجائے ہر تعلیمی ادارے میں کمپیوٹر لیب ہونی چاہیئے تھی۔ پنجاب کا سارا بجٹ لاہور پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں دور پسماندہ علاقوں میں سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں لیکن لاہور کی صرف ایک سڑک پر 70 ارب روپے خرچ کر دیئے گئے۔

اسلام ٹائمز:کراچی اور بلوچستان کی صورتحال اور ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی پر آپ کیا کہیں گے؟
حاجی حنیف طیب: کراچی اور بلوچستان میں بدامنی عالمی گریٹ گیم کا حصہ ہے۔ کراچی اور بلوچستان میں جاری خونریزی کے پس پردہ غیر ملکی ہاتھ کار فرما ہے، بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو امریکہ اور بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔ افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے بلوچستان میں آگ لگانے کے لئے سرگرم عمل ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں اور وہ ظالم سرداروں سے نجات چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں بلوچ ہی نہیں پنجابی اور فورسز کے جوان بھی شہید ہو رہے ہیں جن کی کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ حکومت بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت عالمی برداری اور اقوام متحدہ میں پیش کرے۔ عالمی سیاسی کھیل کا محور بلوچستان بن چکا ہے، گوادر میں چین کی موجودگی امریکہ کو وارا نہیں کھاتی، افغانستان اور ایران کے بلوچ آبادی والے علاقوں کو پاکستانی بلوچستان سے ملا کر ’’گریٹر بلوچستان‘‘ قائم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس کے لئے واشنگٹن سے جنیوا تک جال بچھائے جا رہے ہیں۔

اومان کی آدھی سے زیادہ آبادی دوہری شہریت والے پاکستانی بلوچوں پر مشتمل ہے، اس خطے میں سب سے بڑا امریکی اڈہ موجود ہے۔ امریکہ اومان میں موجود بلوچ نوجوانوں کو بغاوت کے لئے تیار کرتے ہیں۔ کراچی کے عوام کئی سالوں سے قاتلوں، قانون شکن عناصر، بھتہ خوروں، لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا کے نرغے میں ہیں۔ ہزاروں بےگناہ لوگ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ حکومت سپریم کورٹ کی رولنگ کے مطابق ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث عناصر کو ریاستی گرفت لائے۔ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کو سیاسی ونگز ختم کرنے کی وارننگ دی جائے۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت کی بڑی وجہ بھی غیر ملکی مداخلت ہے، بعض اسلامی ممالک اپنے کھیل یہاں کھیل رہے ہیں۔ تمام مذہبی جماعتیں اور تمام مکاتب فکر ’’زندہ رہو اور زندہ رہنے دو‘‘ کی روش اختیار کریں۔ نظریات کا مقابلہ طاقت کی بجائے نظریات سے کرنے کا رویہ اپنایا جائے۔

اسلام ٹائمز:پاک بھارت تعلقات، باہمی تجارت اور بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
حاجی حنیف طیب: مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے دوستی نہیں کی جا سکتی۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے تمام راستے کشمیر سے ہو کر گزرتے ہیں۔ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا کشمیری شہداء کے خون سے غداری ہو گا۔ بھارتی فوج اب تک 93 ہزار 816 کشمیری شہید کر چکی ہے۔ سات ہزار کشمیری دوران حراست قتل ہوئے۔ دس ہزار خواتین کی بےحرمتی کی گئی۔ پچھلے 24 برسوں میں آٹھ ہزار کشمیری لاپتہ ہیں۔ ایک لاکھ سات ہزار بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں بھارت کے ساتھ دوستی کیسے ہو سکتی ہے۔ بھارت پاکستانی دریاؤں پر ڈیم بنا کر آبی جارحیت کر رہا ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، بھارت نے بابری مسجد شہید کی، بھارت نے مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ کیا، بھارت ہمارا دوست نہیں دشمن ہے، بھارت کیساتھ تجارت گھاٹے کا سودا ہے، ایمان کی حرارت والے محب وطن پاکستان کو بھارت کی منڈی نہیں بننے دیں گے۔

اسلام ٹائمز:کالا باغ ڈیم بنائے بغیر توانائی بحران حل نہیں ہو سکتا، اس کے باوجود پیپلز پارٹی، اے این پی اور سندھ کی قوم پرست جماعتیں ابھی تک کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہی ہیں، اس حوالے سے سنی اتحاد کونسل کا کیا موقف ہے؟
حاجی حنیف طیب:ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم پاکستان کی لائف لائن ہے۔ سستی اور وافر بجلی کے لئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ البتہ حکومت کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئیں۔ بھارت کالا باغ ڈیم کی مخالفت کیلئے اربوں روپے خرچ کر رہا ہے، کالا باغ ڈیم کی مخالفت حب الوطنی نہیں، 1991ء میں مشترکہ مفادات کونسل کالا باغ ڈیم کی منظوری دے چکی ہے۔ کالا باغ ڈیم کی مخالف کرنے والے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ نئے ڈیموں کی تعمیر کے بغیر بجلی کا بحران حل نہیں ہو سکتا۔ کالا باغ ڈیم سے سندھ کا 20 لاکھ ایکڑ، خیبر بختونخوا کا 8 لاکھ اور بلوچستان کا 7 لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہو گا۔ کالا باغ ڈیم تعمیر نہ ہونے سے ملک کو سالانہ 132 ارب کا نقصان ہو رہا ہے۔ نئے ڈیم نہ بننے سے چار روپے یونٹ والی بجلی صارفین کو چودہ روپے کے حساب سے مل رہی ہے۔ مفروضوں اور سیاسی مفادات کی بنیاد پر کالا باغ ڈیم کی مخالفت افسوسناک ہے۔ اس اہم منصوبے کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک بھی کالا باغ ڈیم کو ہر لحاظ سے مفید قرار دے چکے ہیں۔ کالا باغ ڈیم بنا ہوتا تو سیلاب سے نوشہرہ نہ ڈوبتا۔ سیلابی پانی کی تباہی سے بچنے کے لئے کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے ملکی معیشت، زراعت اور صنعت کو فائدہ پہنچے گا۔

اسلام ٹائمز: ملالہ یوسف زئی پر حملے کے خلاف سنی اتحاد کونسل کے مفتیوں نے فتویٰ دیا تھا، لیکن اب ملالہ یوسف زئی کی یورپ میں پذیرائی اور اس کی کتاب میں جو نظریات اس نے پیش کئے ہیں انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
حاجی حنیف طیب: سنی اتحاد کونسل کے مفتیوں نے ایک معصوم بچی پر سفاکانہ اور بےرحمانہ حملے کے خلاف فتویٰ دے کر اپنا فریضہ ادا کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ اسلام خواتین کی تعلیم کے خلاف نہیں، بلکہ اسلام میں ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے علم حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ چونکہ ملالہ پر حملے کے بعد اسلام کو بدنام کیا جا رہا تھا اس لئے ہم نے شرعی نقطہ نظر قوم کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں ایک معصوم بچی پر حملہ اسلام کی گمراہ کن تعبیر ہے۔ اسی فتویٰ میں امریکہ کیساتھ تعاون کو بھی غیر اسلامی فعل قرار دیا گیا تھا، کیوں کہ امریکہ نے افغانستان اور عراق میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہاء کر دی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں شہید ہونے والی ملالاؤں کے حق میں بھی آواز اٹھائی جانی چاہیئے۔ فلسطین میں شہید ہونے والی ملالاؤں کے لئے عالمی برادری، یورپ، امریکہ اور اقوام متحدہ کیوں شور نہیں مچاتے، سنی اتحاد کونسل ظلم کا شکار ہر ملالہ کے لئے آواز بلند کرتی رہے گی، عافیہ صدیقی بھی قوم کی بیٹی ہے، این جی اوز عافیہ صدیقی کے لئے مظاہرے کیوں نہیں کرتیں۔

دوہرے معیار کو ختم کرنا ہو گا، امتیازی رویوں سے انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔ حکومت نے جس طرح ملالہ کے لئے فنڈ قائم کیا ہے اس طرح دہشت گردی میں شہید ہونے والے فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کے لواحقین کے لئے بھی فنڈ قائم کیا جائے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ملالہ پر حملہ کرنے والے سواتی طالبان افغانستان میں امریکی سرپرستی میں ہیں۔ جنہیں امریکہ اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے جہاں تک گستاخانہ فلم کے خلاف تحریک کو دبانے کی بات ہے، تو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نے اس ایمانی تحریک کی توہین انبیاء کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی تک جاری رکھیں گے۔ جہاں تک ملالہ کو ملنے والے ایوارڈ کا تعلق ہے تو ملالہ یہ ایوارڈز ضرور حاصل کرے گی لیکن اسے یہود و ہنود کی سازشوں سے گریز کرنا چاہیئے۔ کہیں وہ اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ کر لیں۔ اس سے ملالہ کے والدین کو آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔ ملالہ نے تعلیم کے لئے جو کام کیا ہے وہ محنت ضائع نہیں جانی چاہیئے اس لئے ہمیں ملالہ کو دشمنوں کے عزائم سے باخبر رکھنا ہو گا۔

اسلام ٹائمز:پاک ایران گیس منصوبے پر حکومت کے بیانات کبھی کچھ، کبھی کچھ آ رہے ہیں، آپ کو کیا لگتا ہے حکومت دباؤ کا شکار ہو کر یہ منصوبہ ختم تو نہیں کر دے گی؟
حاجی حنیف طیب: نہیں یہ منصوبہ ختم نہیں ہو سکتا، اس سے پاکستان کی معیشت منسلک ہے، اس کے علاوہ حکومت پر بیرونی دباؤ سے زیادہ اندرونی دباؤ بھی ہے، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس منصوبے کے حق ہیں یہاں تک کہ ہمارے ہاں جو ایران کے مخالف طبقے ہیں وہ بھی اس منصوبے پر خاموش ہیں یعنی خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے تو حکومت اس منصوبے کو ختم نہیں کرے گی اس کے علاوہ میری معلومات کے مطابق اس منصوبے میں ایران کو بھی خدشہ تھا کہ پاکستان پر بیرونی دباؤ ہو گا اور وہ مکر سکتا ہے اس لئے ایران نے جو معاہدہ کیا ہے اس کی شرائط بہت زیادہ کڑی ہیں اس لئے پاکستان اپنا نقصان نہیں کرے گا، منصوبے سے منحرف ہونے کی صورت میں اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا جس کا ہمارا ملک متحمل نہیں ہو سکتا اس کے علاوہ ہمیں امریکہ کی نسبت ایران کو ترجیح دینی چاہیئے، ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہر مشکل کھڑی میں ہمارے کام آیا ہے جبکہ امریکہ نے مشکل گھڑی میں ہمیں صرف وعدوں پر ہی رکھا ہے، تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس منصوبے کو ہر صورت میں مکمل ہونا چاہیئے اور تمام بیرونی دباؤ مسترد کر دینے میں ہی حکومت کی عافیت ہے۔
خبر کا کوڈ : 317587
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش