0
Tuesday 3 Sep 2013 00:21

تاجر برادری نے چیف جسٹس اور وفاقی حکومت کو کراچی بدامنی کے خاتمے کیلئے دس نکاتی تجاویز پیش کر دیں

تاجر برادری نے چیف جسٹس اور وفاقی حکومت کو کراچی بدامنی کے خاتمے کیلئے دس نکاتی تجاویز پیش کر دیں
اسلام ٹائمز۔ بھتہ اور اغواء برائے تاوان کے مجرم کی سزا موت مقرر کی جائے، رینجرز کو فعال یا فارغ کیا جائے، ممنوعہ بور کے اسلحے کے لائسنس کا اجراء بند اور جاری کئے گئے لائسنس منسوخ کر دیئے جائیں، محکمہ پولیس سے کالی بھیڑوں کی فی الفور چھانٹی کی جائے، نو گو ایریاز بحال اور ناجائز اسلحہ بازیاب کروایا جائے۔ آل کراچی تاجر اتحاد نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وفاقی حکومت کو کراچی میں جاری تشویشناک بدامنی اور لاقانونیت کے خاتمے کیلئے دس نکاتی تجاویز پیش کر دیں۔ یہ تجاویز آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کی زیرِصدارت آرام باغ فرنیچر مارکیٹ میں منعقدہ اجلاس میں مرتب کی گئیں۔ اجلاس میں وائس چیئرمین محمد اکرم رانا، انصار بیگ قادری، زبیر علی خان، عبدالغنی اخوند، شیخ محمد عالم، احمد شمسی، طارق ممتاز، سید شرافت علی، محمد آصف، عمران پاروانی،حنیف خان، ایاز میمن، معراج الدین خان، شاکر فینسی، شاہد شمسی، عبدالقادر، دلشاد بخاری، سمیع اللہ خان، محمد رفیع، فہیم نوری اور دیگر رہنماء بھی شریک ھے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں کے مابین محاذ آرائی کے نتیجے میں شہر کشت و خون کا مرکز بنا لیکن تاجر، صنعتکار اور سرمایہ کار نقلِ مکانی پر مجبور نہیں ہوئے لیکن گذشتہ تین سال سے تاجر برادری کو براہِ راست نشانہ بنانے کے نتیجے میں 35 ہزار سے زائد سرمایہ کار، تاجر اور صنعتکار بیرونِ شہر نقلِ مکانی پر مجبور ہوگئے۔ کئی کئی مرتبہ حکمرانوں کی توجہ تاجروں کی مشکلات کی جانب مبذول کروائی گئی لیکن ہر سطح پر ٹھوس، سنجیدہ اور مخلصانہ اقدامات سے گریز کیا گیا جس سے تاجر شہر کے تجارتی مستقبل سے مایوس ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ کھولے جائیں اور بے رحم انصاف کا تصور متعارف کروایا جائے۔ انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے دردمندانہ استدعا کی کہ شہر میں لاقانونیت اور بدامنی کے خلاف حکومت اور اسکے ماتحت اداروں کے موثر اور نتیجہ خیز اقدامات تک وہ اپنی کارروائی جاری رکھیں۔

تاجر رہنماﺅں نے تجویز دی کہ (1) کراچی کو جرائم سے پاک کرنے کیلئے شہر بھر سے اسلحے کی بازیابی، جرائم پیشہ عناصر کے ٹھکانوں سمیت ایک درجن سے زائد علاقوں سے نو گو ایریاز کا خاتمہ کیا جائے (2) جرائم سے متاثرہ تجارتی مراکز کی سیکوریٹی کیلئے مستقل بنیادوں پر 1000 رینجرز اہلکار اور 5000 پولیس اہلکاروں پر مشتمل علیحدہ فورس کی تعیناتی عمل میں لائی جائے (3) اغواء برائے تاوان اور بھتہ کے خلاف فوری طور پر موثر قانون سازی اور ان جرائم کی سزا موت مقرر کی جائے (4) پولیس اور رینجرز کی زیرِ سرپرستی بھتے سے متاثرہ مارکیٹوں کے تھانوں میں بھتہ شکایتی سیل کا قیام اور سیلولر فون سے کئے جانے والے جرائم کی روک تھام کی تکنیکی بنیادوں پر روک تھام کے انتظامات کئے جائیں (5) جرائم کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی حوصلہ افزائی اور گواہان کو یقینی تحفظ فراہم کیا جائے (6) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو مجرمانہ کالز کی معلومات مارکیٹ ایسوسی ایشنز کی سطح پر فراہمی کا پابند کیا جائے (7) محکمہ پولیس سے کالی بھیڑوں کی فی الفور چھانٹی اور فرض شناس افسران و عملے کو خصوصی ٹاسک دیا جائے(8) فوج یا رینجرز کو سیکشن 245 کے تحت خصوصی اختیارات اور شہر میں کم از کم پانچ ملٹری کورٹس قائم کی جائیں (9) اغواء برائے تاوان اور بھتے کے مجرم کی گرفتاری اور جرم کے اعتراف کی صورت میں اسے میڈیا پر بے نقاب کیا جائے (10) DG رینجرز اور IG سندھ کو بھتہ کرائم کے خلاف تاجر تنظیموں کی رپورٹ کی روشنی میں اداروں کی کارکردگی کا ہفتہ وار جائزے کا پابند کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 297974
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب