1
0
Friday 30 Nov 2012 12:19

اسرائیل، اندر سے خاتمے کا آغاز

اسرائیل، اندر سے خاتمے کا آغاز
تحریر: سید محمد امین آبادی

اسلام ٹائمز- اسرائیل کے اندر آئے دن خودسوزی کی کوششیں، بڑے پیمانے پر مظاہروں کی برپائی، سنگین اقتصادی اور اجتماعی حالات کے خلاف بڑھتا ہوا احتجاج، ریورس مائیگریشن اور حکومتی کابینہ میں بڑھتے ہوئی اختلافات اور ٹکراو نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹانے کیلئے بیرونی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں اور اس طریقے سے ملک کے اندر این مصنوعی اتحاد کی فضا قائم کر سکیں۔

اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم اس وقت اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے پیش نظر انتہائی سخت دور سے گزر رہی ہے۔ خطے میں اسلامی بیداری کی امواج نے اسرائیل کی کئی روایتی حامیوں جیسے مصر کے سابق آمر حسنی مبارک کو سرنگون کر دیا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کے ایک اور اتحادی یعنی اردن کے بادشاہ ملک عبداللہ کی پوزیشن بھی انتہائی متزلزل ہو چکی ہے۔ اردن میں حکومت مخالف مظاہرے اب دارالحکومت امان سے نکل کر ملک کے دوسرے شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ اگر اسلامی بیداری کی تحریک اردن، سعودی عرب اور بحرین میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی ہے تو اسرائیل اپنے روایتی حامیوں سے بالکل محروم ہو جائے گا اور ہمیشہ سے زیادہ گوشہ نشینی کا شکار ہو جائے گا جسکا نتیجہ خطے میں اسلامی مزاحمت کے مزید طاقتور ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔

بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے اصلی حامی امریکہ اور یورپ ہیں جو اس وقت شدید اقتصادی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ امریکی حکومت جو خود کو اسرائیل کی قومی سلامتی کا ضامن تصور کرتی ہے وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک سے روبرو ہونے کے علاوہ شدید اقتصادی مشکلات، تاریخ میں بے سابقہ مالی قرضوں اور بجٹ کی ریکارڈ کمی کا بھی شکار ہے۔ لہذا امریکی حکومت اب مزید عوام سے وصول ہونے والے ٹیکس کی رقم سے اسرائیل کو مالی امداد دینے سے قاصر نظر آتی ہے۔

یورپ میں بھی اسرائیل کا سب سے بڑا حامی یعنی برطانیہ قومی سلامتی کے ایک انتہائی شدید بحران سے روبرو ہے اور بہت جلد سکاٹ لینڈ، ویلز اور آئرلینڈ اس سے جدا ہونے والے ہیں۔ یورو زون بھی انتہائی شدید معاشی بحران کا شکار نظر آتا ہے۔ یہ تمام صورتحال اسرائیل کو یہ پیغام دیتی ہوئی نظر آتی ہے کہ اب اسے اپنی تمام مشکلات اور مسائل خود حل کرنا ہوں گے اور وہ مزید ان حامیوں کی طرف سے کسی مدد کی توقع نہیں رکھ سکتا۔

اندر سے خاتمہ:
دنیا اور خطے کے سیاسی حالات کے مقابلے میں اسرائیل کی اندرونی صورتحال انتہائی بدتر ہو چکی ہے اور اسرائیلی رژیم بے شمار اجتماعی، معاشی اور سیکورٹی چیلنجز سے روبرو ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے بیرونی خطرات کو حد سے زیادہ بڑا کر کے پیش کرنے کی اصل وجوہات میں سے ایک اندرونی مسائل پر پردہ ڈالنا اور ان سے جان چھڑانا ہے۔ اسکی ایک اور بڑی وجہ اسرائیلی عوام کی توجہ ملک کو درپیش اندرونی بحرانوں سے ہٹا کر باہر کی جانب مبذول کرنا ہے۔ اسرائیل کو درپیش بعض بڑے چیلنجز مندرجہ ذیل ہیں۔

1. اجتماعی بحران:
اسرائیلی اخبار "معاریو" میں شائع ہونے والی ایک سروے رپورٹ جو اسرائیل کی ایک فارمیسی کمپنی کی جانب سے انجام پایا ہے ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں مایوسی اور ناامیدی انتہائی تیزی سے پھیلتی چلی جا رہی ہے جس کی اصلی وجہ ملک کے گھمبیر معاشی اور اجتماعی حالات ہیں۔ یہ سروے جس میں تقریبا ۳۰۰ اسرائیلی شہریوں نے شرکت کی ظاہر کرتا ہے کہ تل ابیب کے شہری سب سے زیادہ ڈیپرشن اور ذہنی تناو کا شکار ہیں۔ سروے کے ۳۰ فیصد شرکاء نے تل ابیب کو اسرائیل میں موجود اجتماعی و معاشرتی بحران کا مرکز قرار دیا جبکہ ۲۶ فیصد شرکاء کا خیال تھا کہ حیفا دوسرے نمبر پر اور مقبوضہ بیت المقدس بھی ۲۰ فیصد شرکاء کی نظر میں تیسرے نمبر پر رہا۔ دوسری طرف اس ڈیپرشن، مایوسی اور ذہنی تناو کی اصلی وجوہات کے بارے میں ۷۰ فیصد شرکاء کا عقیدہ یہ تھا کہ اسکی اصلی وجہ خراب معاشی حالات ہیں۔

خودسوزی، احتجاج کا نیا طریقہ:
اسرائیل جو اس وقت شدید قسم کی معاشرتی بے انصافی اور دوسرے مسائل کا شکار ہے کچھ عرصے سے عوامی احتجاج کے نئے انداز سے روبرو ہوا ہے اور یہ نیا انداز خودسوزی ہے۔ اب تک تقریبا ۱۴ افراد نے خود کو آگ لگا کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا ہے جسکے نتیجے میں ۲ افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔ ماہرین اس طرز احتجاج کی اصلی وجہ ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کو قرار دیتے ہیں اور پیش بینی کر رہے ہیں کہ اسکا نتیجہ نیتن یاہو کی حکومت کی سرنگونی کے طور پر بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔

خودسوزی پر مبنی اس احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ایک اسرائیلی شہری موشہ سلمان نے حکومت مخالف مظاہرے میں خود کو آگ لگا دی اور کچھ دن بعد ہی اسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس نے خود کو آگ لگانے سے قبل ایک بیانیہ پڑھ کر سنایا جس میں اسرائیلی حکام کو چور کا لقب دیتے ہوئے ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسکے تمام اموال اپنے قبضے میں لے لئے ہیں۔

موشہ سلمان کی موت کے بعد اسرائیل کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے برپا کئے گئے اور اس میں شریک اسرائیلی شہریوں نے علامتی طور پر ماچس کی ڈبیا اپنے ہاتھ میں لئے خود کو دوسرا موشہ سلمان قرار دیا۔ جیسے جیسے عوامی مظاہروں اور احتجاج میں شدت آتی گئی ان اسرائیلی شہریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا جنہوں نے مختلف شہروں کے ویلفیئر سنٹرز کو فون کر کے یہ دھمکی دی کہ اگر انکی مالی امداد نہ کی گئی تو وہ بھی موشہ سلمان کی طرح خود کو آگ لگا لیں گے۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ تعداد سینکڑوں افراد تک پہنچ چکی ہے۔

اسرائیل میں شدید معاشی حالات سے تنگ آ کر اب تک خودسوزی کرنے والے افراد میں ۸۰ سالہ بوڑھی خاتون سے لے کر اسرائیل کے ریٹائرڈ فوجی جیسے افراد بھی شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں موجود تمام طبقات کے افراد اس مایوسی اور ناامیدی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقبوضہ فلسطین میں نظر آنے والے خودسوزی جیسے واقعات اسرائیلی معاشرے میں موجود شدید معاشی اور معاشرتی بحران کو ظاہر کرتے ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں بے پناہ اضافہ، بیروزگاری، بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ، غربت اور کرپشن جیسے مسائل نے مل کر اسرائیلی رژیم کو اندر سے خاتمے جیسے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

شدید معاشی بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی اور ناامیدی کے علاوہ مقبوضہ فلسطین میں مقیم یہودی شہریوں میں پائے جانے والے ڈپیرشن اور خودکشی کے رجحان کی اور بھی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک بڑی وجہ جنگ کا دائمی خطرہ ہے۔ گذشتہ ۶ عشروں سے اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم مسلسل جنگ کی حالت میں ہے۔ ۱۹۴۷ء، ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۳ء میں عرب ممالک کے ساتھ جنگ، ۱۹۸۲ء میں لبنان کے خلاف جنگ، حزب اللہ لبنان کے خلاف ۳۳ روزہ جنگ، حماس کے خلاف ۲۲ روزہ جنگ اور حال ہی میں انجام پانے والی حماس کے خلاف ۸ روزہ جنگ اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ البتہ آخری تین جنگوں میں اسرائیل کو ایسی منہ کی کھانی پڑی ہے کہ اسکا تمام رعب اور دبدبہ پانی کی مانند بہ چکا ہے۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے انجام پانے والی شہری دفاع کی مشقوں، حماس اور حزب اللہ لبنان کے میزائل حملوں سے بچنے کیلئے محفوظ پناھگاہوں کی تعمیر، عوام میں کیمیکل اور بائیولوجیکل حملوں سے محفوظ رہنے کیلئے وسیع پیمانے پر ماسکس کی تقسیم اور دیگر ایسے حفاظتی اقدامات نے بیچارے اسرائیلی عوام کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے اور وہ ہمیشہ جنگ شروع ہونے اور مارے جانے کے خوف میں مبتلا ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے سے اسرائیلی شہریوں کی ریورس مائیگریشن کی بھی یہی بڑی وجہ ہے۔ وہ یہودی گھرانے جو یورپ، افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک سے اپنے وطن کو چھوڑ کر اس امید پر اسرائیل آئے تھے کہ یہاں سکون اور لذت کی زندگی گزار سکیں اب دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل میں رہنا انکے لئے عذاب بن گیا ہے اور یہ اسرائیل وہ "سرزمین موعود" نہیں جسکے وہ خواب دیکھا کرتے تھے۔ لہذا ان حالات کے پیش نظر یہودی مہاجرین اپنے گذشتہ وطن واپس لوٹ جانے کو ہی ترجیح دینے لگے ہیں۔

نسلی فسادات، تل ابیب کا اگلا متوقع بحران:
اسرائیل کو درپیش ایک اور بڑا مسئلہ نسلی فسادات کے آغاز کا خطرہ ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیل کی بعضی متعصب سیاسی تنظیموں کی جانب سے اریتھرے اور سوڈان سے آئے تقریبا ۶۰ ہزار سیاسی پناہ حاصل کرنے والے یہودیوں کے خلاف مظاہرے کئے گئے ہیں۔ ان مظاہروں سے اسرائیلی رژیم کے نسلی تعصب اور فاشیزم پر مبنی اصلی چہرے سے نقاب اتر گئی ہے۔

اسرائیل میں موجود مختلف فرقوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان گہرا فاصلہ پایا جاتا ہے۔ اسرائیلی معاشرہ مختلف جزیروں پر مشتمل ہے اور وہ عوامل جو ان جزیروں کا ایکدوسرے سے دور ہو جانے اور اسکے نتیجے میں اسرائیل کے اندر سے خاتمے کا سبب بن رہے ہیں بے شمار ہیں۔ مثال کے طور پر زبان کا اختلاف، مشرقی نژاد اور مغربی نژاد ہونے کا اختلاف، مذہبی اور غیرمذہبی ہونے کا اختلاف اور ایسے ہی بیشمار دوسرے اختلافات۔

اسرائیلی معاشرہ دنیا کے ۱۰۲ مختلف ممالک سے آئے ہوئے مہاجرین پر مشتمل ہے اور یہ ایک بالکل قدرتی امر ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے عبری زبان کو ملک میں رائج کرنے کی تمامتر کوششوں کے باوجود اسرائیل ایک ملٹی لینگویل ملک جانا جاتا ہے۔ اسی طرح اسرائیلی معاشرہ شدید طبقاتی تقسیم کا شکار بھی ہے۔

اسرائیلی معاشرہ ایک مہاجر معاشرہ ہے۔ لہذا اس معاشرے میں مشرقی نژاد کے باشندوں اور مغربی نژاد کے باشندوں کے درمیان ہمیشہ سے ایک تضاد اور رقابت کا سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایسے یہودی جنہوں نے یورپ سے اسرائیل کی جانب ہجرت کی ہے ان یہودیوں کو دوسرے درجے کا اسرائیلی شہری سمجھتے ہیں جو افریقہ اور ایشیا سے آئے ہیں اور انہیں "کینسر" کا لقب دیتے ہیں۔

حکومتی عہدوں اور سہولیات کی تقسیم بھی عادلانہ اور منصفانہ نہیں ہے بلکہ مغربی نژاد اسرائیلی شہری ان پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ نسل پرستی کے اعتبار سے شدت پسند یہودی اس ناانصافی اور تبعیض کے شدید حامی تصور کئے جاتے ہیں۔ یورپی نژاد یہودی نہ فقط افریقی اور ایشیائی نژاد یہودیوں کو تعصب اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ مقبوضہ فلسطین کے مقامی یہودی جو اسرائیلی آبادی کا ۲۰ فیصد حصہ تشکیل دیتے ہیں بھی انکی نسل پرستانہ اور متعصبانہ سوچ سے محفوظ نہیں ہیں۔

کرپشن کا پھیلاو:
اسرائیل میں کرپشن سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں کرپشن بڑھتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انجام پانے والی تحقیقات کے مطابق اسرائیل جو ۲۰۱۰ء میں کرپشن کی کمی کے لحاظ سے دنیا کے ممالک میں ۳۰ ویں نمبر پر تھا ۲۰۱۱ء میں ۳۶ ویں نمبر پر جا پہنچا ہے۔ عالمی سطح پر دنیا کے تمام ممالک کو کرپشن کے نہ ہونے یا شفافیت کے اعتبار سے پوائنٹس دیئے گئے ہیں۔

۲۰۱۱ء میں انجام پانے والی اس تحقیق میں دنیام کے ۱۸۳ ممالک کا جائزہ لیا گیا اور ان سب میں نیوزی لینڈ کو کمترین کرپشن ہونے کے ناطے ۱ نمبر دیا گیا۔ اس تحقیق کے مطابق اسرائیل جو ۲۰۱۰ء میں ۱۔۶ پوائنٹس کا حامل تھا ۲۰۱۱ء میں ۸۔۵ پوائنٹس تک نیچے آ چکا ہے۔ مشرق وسطی میں کرپشن کے اعتبار سے اسرائیل کا درجہ حتی قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے بھی نیچے ہے جہاں ڈکٹیٹرشپ حکمفرما ہے۔

اسرائیل میں بین الاقوامی تنظیم برای شفافیت کے منیجر جناب گالیاساگی کا کہنا ہے:
"۱۹۹۶ء میں اسرائیل کا درجہ ۷۱۔۷ تھا لیکن اس وقت سے آج تک اسرائیل میں کرپشن تیزی سے بڑھی ہے۔ اس سال اسرائیل کا درجہ اسکی پوری تاریخ کی نسبت سب سے کم ہے۔ اسرائیل آج کل بحرانی صورتحال کا شکار ہے اور عوام معاشرتی انصاف کے حصول کیلئے حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ آج عوام کا مطالبہ ملک میں کرپشن کا خاتمہ، اخلاقی رویہ، دولت اور اقتدار میں جدائی اور کرپشن کے خلاف جہاد پر مبنی ہے"۔

2. معاشی بحران:
اسرائیل میں معاشی مشکلات اور ملک کی اجتماعی، معاشی اور سیاسی صورتحال کے خلاف عوامی احتجاج کوئی نئی بات نہیں بلکہ نیتن یاہو حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب اسرائیلی معاشرے میں طبقاتی فاصلوں میں اضافہ پچھلے چند سالوں کے دوران انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ مغرب کا معاشی بحران اسرائیل میں پائی جانے والی اقتصادی مشکلات کی اصلی وجہ ہے کیونکہ اسرائیل کا تکیہ زیادہ تر امریکی اور یورپی امداد پر ہے۔ یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شریک سمجھا جاتا ہے جسکے ساتھ ۲۰۱۱ء میں اسرائیل کی سالانہ تجارت تقریبا ۳۰ ارب یورو تک جا پہنچی تھی۔

۲۰۱۰ء کے آخر تک اسرائیل کے بیرونی قرضہ جات ۸۹ ارب ڈالر تھے جو اسرائیل کی جی این پی کا تقریبا ۴۳ فیصد تھے۔ بعض تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں مقیم ۳۳ فیصد بچے غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔ ۲۰۰۷م میں اقتصادی مشکلات سے تنگ آ کر خودکشی کرنے والی اسرائیلی شہریوں کی تعداد ۳۲۶ افراد بتائی جاتی ہے۔ یہ تعداد ۲۰۰۹ء میں ۴۰۴ تک جا پہنچی تھی۔ خودکشی کرنے والے اکثر افراد کا تعلق اسرائیل کے کم درآمد والے شہروں جیسے بت یام اور عسقلان سے تھا۔ اسرائیل میں اقتصادی اور اجتماعی بحران کی شدت میں اضافہ بڑے اسرائیلی شہروں میں بھی خودکشی کے واقعات پیش آنے کا باعث بنا ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں نفسیاتی امراض کے مراکز کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران ان مراکز سے رجوع کرنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اگلے سال سے خودکشی کے خلاف باقاعدہ مہم چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد خودکشی کی شرح میں تیزی سے اضافے کو روکنا ہے۔ معاشرتی بے انصافیاں بھی خودکشی کی شرح میں اضافے کا اہم سبب سمجھی جاتی ہیں۔ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتھوپیا سے آئے ہوئے اسرائیلی مہاجر دوسرے شہریوں کی نسبت زیادہ خودکشی کرتے ہیں۔

اسرائیل میں معاشی مسائل اور اجتماعی ناانصافیوں کے خلاف کھلم کھلا عوامی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ اقتصادی مشکلات کی شدت اس حد تک زیادہ ہے کہ آئے دن ہر روز مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم نے گذشتہ سال درآمد کے فرق کی وجہ سے طبقاتی فاصلوں کی شدت کے اعتبار سے اپنے اراکین کے درمیان اسرائیل کو پہلے نمبر پر قرار دیا ہے۔ اس تنظیم کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے امیرترین طبقے کی درآمد وہاں کے غریب ترین طبقے سے ۱۴ گنا زیادہ ہے اور امیر افراد امیر سے امیرتر ہوتے چلے جا رہے ہیں جبکہ غریب اسرائیلی شہری غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں۔

گذشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل میں ارب پتی افراد کی تعداد ۱۰۰ تک جا پہنچی ہے جبکہ اکثر اسرائیلی شہریوں کی سالانہ درآمد ہزار ڈالر سے بھی کم ہے۔ اسرائیل میں اکثر اشیاء اور سروسز کی قیمت یورپ اور امریکہ کی نسبت کہیں زیادہ ہے جبکہ اسرائیل کا ٹیکس نظام انتہائی سخت گیری پر مبنی ہے۔ اسرائیلی شہری یورپی اور امریکی شہریوں کی نسبت کہیں زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

عوامی احتجاج اور مظاہروں کی اصل وجہ معاشی مشکلات اور ان مسائل کو حل کرنے میں اسرائیلی حکومت کی ناکامی ہے جبکہ اسرائیل کی سیکورٹی فورسز نے ان مظاہروں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور انہیں طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش کی۔ سیکورٹی فورسز کا یہ اقدام ان مظاہروں کی شدت میں اضافے کا سبب بن گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے اسرائیلی شہریوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کا رویہ اس قدر غیرانسانی اور وحشت ناک تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اخباری ذرائع کے مطابق اسرائیل کا معاشی بحران جاری ہے۔ اس ضمن میں خود اسرائیلی حکومت کی جانب سے انجام پانے والی ایک تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال صرف جولائی کے مہینے میں تقریبا ۲۰ ہزار اسرائیلی شہری اپنی جاب سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اسرائیل میں اعداد و ارقام کے مرکزی ادارے نے اس سال جولائی کے آخر میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جسکے مطابق ۲۰۱۲ء کی دوسری سہ ماہی میں ملک میں بیروزگاری کی شرح میں ۷ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ بڑی بڑی کمپنیز کی جانب سے نئی جابز پیش کرنے کی شرح میں بھی انتہائی کمی آئی ہے۔ یہ کمی گذشتہ سال کی نسبت تقریبا ۹ فیصد ہے۔

اسرائیل میں معاشی بحران کی شدت میں اضافے اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی ہونے کے باعث اسرائیلی حکام نے ریاضتی اقتصاد اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جو اسرائیلی شہریوں کی عدم رضایت اور غصے میں شدت کا باعث بنا ہے۔ ایسی صورتحال میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے ٹیکسز میں ۱۷ فیصد اضافہ اور ۲۰۱۲ء کے سالانہ بجٹ میں ۷ ارب ڈالر کی کمی نے اسرائیلی شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایسی رپورٹس بھی منظر عام پر آ رہی ہیں جن میں یہ پیش بینی کی گئی ہے کہ بہت جلد اسرائیل میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہونے والا ہے اور بنیادی ضروریات کی اشیاء اور انرجی محصولات کی قیمت ۱۷ سے ۵۰ فیصد تک بڑھنے والی ہے۔

اسرائیل کی وزارت زراعت نے بھی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمت میں متوقع اضافے کے پیش نظر ملک میں غذائی بحران پیدا ہو جانے کی وارننگ دی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ منجملہ اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارنوٹ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح ۹ فیصد تک بڑھ جائے گی۔ اگر ایسا ہو جائے تو اس سال اسرائیل میں بیروزگاری کی شرح ۲۵ فیصد تک جا پہنچے گی جو اسرائیلی عوام کیلئے انتہائی تشویشناک امر ہے۔

ملک میں رونما ہونے والی شدید معاشی اور اجتماعی مشکلات نے اسرائیلی حکام کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ بھی امریکی حکام کی طرح اندرونی مسائل کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے دوسرے ممالک پر فوجی حملہ کرنے اور جنگ کی آگ بھڑکانے کا راستہ اختیار کریں تاکہ اس طرح سے اپنی عوام کے ذہن میں بیرونی دشمن کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے ذریعے انکی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹائی جا سکے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو جو اس وقت ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور حتی موشہ سلمان نے بھی خودسوزی سے قبل ان سے اپنا عہدہ چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا تھا نے گذشتہ ایک سال کے دوران فلسطینیوں کے خلاف سخت بیانات اور انہیں جنگ کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے جب دیکھا کہ صرف بیانات اور دھمکیوں سے کام نہیں چل رہا تو آخرکار غزہ پر حملہ کر ہی دیا لیکن اس ۸ روزہ جنگ میں حماس کی جانب سے ایسی منہ کی کھانی پڑی کہ جلد ہی جنگ بندی کے نعرے بلند کرنے لگے۔

3. فوجی اور سیکورٹی خطرات:
اب جب خطے میں اسلامی بیداری کی امواج اپنے عروج پر ہیں اور انکے نتیجے میں اسرائیل کی غاصب صیہونیستی رژیم کے حامی ڈکٹیٹرز یکے بعد دیگرے سرنگون ہوتے نظر آ رہے ہیں تو ایسے حالات میں اسرائیل شدید خطرہ محسوس کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ساٹھ سال پہلے کی طرح اپنے فوجی اور سیکورٹی بجٹ کو دوبارہ بڑھا دے لیکن اس وقت اسرائیل انتہائی شدید معاشی بحران سے دوچار ہے اور یہ کام اب اسکے بس کی بات نہیں۔

خطے میں اسلامی بیداری کی برکت سے اسرائیل کے خلاف سرگرم اسلامی مزاحمت میں نئی روح پھونکی جا چکی ہے۔ مصر کے آمر حکمران حسنی مبارک جیسے اسلامی مزاحمت کے سابق دشمن اب برسراقتدار نہیں رہے اور انکی جگہ فلسطینی مجاہدین کے حامی افراد نے لے لی ہے۔ اردن اور سعودی عرب کے بادشاہوں کی پوزیشن بھی عوام کے اٹھ کھڑے ہونے کے نتیجے میں انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر اسرائیل میں موجود صہیونیستی قوتوں کو متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے لیکن جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اسرائیلی معاشرہ اس وقت شدید اختلافات اور تعصبات کا شکار ہو چکا ہے۔

اسرائیلی معاشرے میں پائے جانے والے سیاسی اختلافات اور شدید معاشی بحران اسکی سیکورٹی کیلئے بڑا خطرہ تصور کئے جاتے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے درمیان اختلافات، اسرائیلی سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلافات، اسرائیل میں موجود معتدل سیکولر اور شدت پسند مذہبی طبقات کے درمیان موجود اختلافات، اسرائیل میں نقل مکانی کرنے والے یورپی مہاجرین، افریقی مہاجرین اور وہاں کے مقامی عرب یہودیوں کے درمیان پائی جانے والی چپقلش اور اختلافات بیرونی خطرات کے مقابلے میں اسرائیلی عوام کے باہمی اتحاد میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام جب ان تمام مشکلات کو حل کرنے میں خود کو بے بس پاتے ہیں تو مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف ظالمانہ کاروائیاں کرنے اور ایک نئی جنگ شروع کرنے کی سوچ میں پڑ جاتے ہیں تاکہ شاید اس طرح اسرائیلی عوام کی توجہ اپنی نالائقی اور شدید قسم کی اندرونی مشکلات سے ہٹا کر کہیں اور مبذول کروائی جا سکے۔ اسرائیل کی جنگ طلبانہ پالیسیوں کا ایک اور مقصد اسرائیلی عوام کو بیرونی خطرات سے ڈرا دھمکا کر اسرائیلی معاشرے میں ایک مصنوعی اتحاد و وحدت ایجاد کرنا بھی ہے۔

اسرائیل کی موجودہ صورتحال کو شاید اسرائیل کی سپریم کورٹ کے ایک جج کے اس بیان کے ذریعے واضح کیا جا سکے۔ جناب ڈوریٹ بینیش نے ایک کانفرنس کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا:
"ہم ایک انتہائی پریشان کن سیاسی اور ثقافتی صورتحال کا شکار ہیں۔ ہم اس وقت ناکامیوں، مختلف معاشرتی طبقات کے درمیان اختلافات اور تنازعات، غربت اور حکومت پر عوام کے عدم اعتماد کے تجربات سے گزر رہے ہیں"۔
خبر کا کوڈ : 201886
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

In logon k liye acha ho ga keh woh Haq ko tasleem krn ya apna bori-bistar utha kr wapis apni sarzamino ko dafah ho jain aur mazloomin pr zulam krna band krn.