0
Tuesday 19 Jul 2011 12:23

سعودی عرب اور اقتدار کی جنگ

سعودی عرب اور اقتدار کی جنگ
تحریر: احد کریم خانی
مصر اور تیونس میں آمرانہ نظام حکومت کے خاتمے کے بعد مشرق وسطی کے عرب ممالک بے سابقہ سیاسی حالات سے روبرو ہوئے ہیں جس نے گذشتہ چند ماہ سے تمام دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ خطے میں موجود عرب اقوام کے درمیان عمومی ناراضگی کی آگ جو اس وقت لیبیا، اردن، یمن، بحرین، الجزائر وغیرہ کی حکومتوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، شعلہ ور ہو چکی ہے اور خطے کے اکثر خودسر حکمرانوں کے وحشت زدہ ہونے کا باعث بنی ہے۔
عرب حکومتوں کے درمیان سعودی عرب کی مرکزی حیثیت اور کردار کے باعث اس ملک میں انجام پانے والی سیاسی تبدیلیاں مختلف سیاسی ماہرین اور بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کی جانب سے انتہائی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں اور خطے میں رونما ہونے والی عوامی احتجاجی تحریکوں کے سعودی عرب پر اثرات کے بارے میں مختلف آراء و نظریات سامنے آ رہے ہیں۔
اس بارے میں ایک انتہائی اہم سوال جس نے سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے ذہن کو مشغول کر رکھا ہے یہ ہے کہ آل سعود کی آمرانہ رژیم کس وقت بنیادی تبدیلیوں یا سرنگونی کا شکار ہو گی؟۔
وہ چیز جو اس آمرانہ رژیم کی سرنگونی کی امید دلاتی ہے خاندان آل سعود میں "اقتدار کے حصول کیلئے آپس کی کشمکش" ہے۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ سلطان کی جسمانی حالت نازک ہو جانے کے بعد اقتدار کی یہ جنگ اپنی اوج تک جا پہنچی ہے۔
سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگار اس بارے میں بے شمار سعودی شہزادوں کے درمیان اقتدار کے حصول پر پائی جانے والی شدید رقابت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ ملک عبداللہ کی جانشینی کے مسئلے کو انتہائی مبہم اور پیچیدہ قرار دیتے ہیں۔
سعودی عرب میں دنیا کا عجیب ترین نظام پایا جاتا ہے۔ سعودی معاشرہ روایتی اور جدید طرز عمل کا آمیزہ ہے۔ یعنی اسکے شہروں میں دسیوں منزلہ جدیدترین عمارات دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں عرب جاہلیت دور کے مغز زندگی گزار رہے ہیں۔
سعودی عرب میں حاکمیت کا بحران ایک عرصے سے موجود ہے لیکن گھٹن کا شکار سیاسی فضا اور تکروی کے حکمفرما ہونے کے باعث یہ اختلافات ہمیشہ پوشیدہ
رکھے گئے ہیں اور انہیں ظاہر کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔
اگر تاریخ پر ایک نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہو گا کہ سرزمین حجاز پر قبضے کی خاطر کچھ افراد نے خلافت عثمانیہ کے مقابلے میں برطانیہ کے ساتھ خفیہ معاہدے کر رکھے تھے۔ اسکے بعد سعودی عرب میں موجودہ دور سلطنت کے آغاز سے ہی دو بڑے سیاسی گروہوں کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پایا جسکے مطابق خاندان "آل شیخ" کی قیادت میں وھابیت کو دینی اقتدار جبکہ "آل سعود اور اسکے بیٹوں" کو سیاسی اقتدار سونپ دیا گیا۔ آل شیخ اس وقت بھی سعودی عرب میں مذہبی اقتدار کے حامل ہیں جسکی رو سے تمام مساجد، حرمین شریفین، امر بہ معروف و نھی از منکر کمیٹیوں اور ثقافتی و مذھبی اداروں کی سرپرستی انکے ہاتھ میں ہے۔
دوسری طرف تمام سیاسی امور آل سعود کے قبضے میں ہیں۔ ان دو گروہوں میں اگرچہ اقتدار کی تقسیم کا سمجھوتہ طے پایا ہے لیکن انکے درمیان ہمیشہ سے ہی تضاد اور دشمنی پائی جاتی ہے، جسکی بحث مفصل ہے۔ اسی طرح آل سعود کے اندر بھی ماضی سے اندرونی اختلافات موجود ہیں۔ ان اختلافات کا ایک نمونہ "سدیری" اور "نجدی" خاندان کے شہزادوں کے درمیان شدید رقابت کا یاپا جانا ہے۔
سدیری قبیلہ ان سات بھائیوں اور انکی اولاد پر مشتمل ہے جو سب کے سب ملک عبدالعزیز کی زوجہ "حصہ سدیری" سے ہیں۔ انکو تنی بھائی بھی کہا جاتا ہے اور "آل فھد" کے نام سے بھی معروف ہیں۔ سدیری قبیلے کی نجدی گروہ کے ساتھ اقتدار کے حصول پر شدید رقابت اور کشمکش پائی جاتی ہے۔ 1982 میں ملک فھد کے برسراقتدار آنے کے بعد سات سدیری آل سعود کے خاندان میں مضبوط ترین گروہ بن کر ابھرے ہیں۔
سعودی عرب میں اقتدار کی منتقلی ہمیشہ قانون کے مطابق انجام نہیں پائی۔ یہی امر ان اختلافات کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنا ہے۔ اسی وجہ سے ملک عبداللہ نے طاقت کے خلاء کو پر کرنے کیلئے اپنی موت کے بعد "شورای بیعت" کا تعیین کیا۔ یہ شورا خود بھی اختلافات کا مرکز ہے۔ ان اختلافات کی بنیادی وجہ ملک عبداللہ کی جانب سے شورا کی قیادت اپنے ناتنی بھائی "شہزادہ مشعل" کے حوالے کرنا ہے۔ شہزادہ مشعل ایک تاجر
ہے اور زیادہ سیاسی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا جسکی وجہ سے اکثر شہزادوں کو اسکی قیادت پر اعتراض ہے۔
ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں شہزادوں کی تعداد 6 ہزار تک جا پہنچی ہے جو تین مختلف نسلوں سے ہیں۔ یہ شہزادے گروہ بندی کا شکار ہیں۔ ان تمام شہزادوں کا دعوا ہے کہ اگر اقتدار کی چوٹی پر نہ پہنچ پائیں تو کم از کم دوسرے یا تیسرے مرتبے تک ضرور پہنچ سکتے ہیں۔ ملک عبداللہ کی جانب سے "شہزادہ متعب" [ملک عبداللہ کا تیسرا بیٹا] کو نیشنل گارڈز کا کمانڈر بنانا اور حکومت کے اعلی ممبر کے طور پر متعارف کروانا اس بات کا باعث بنا ہے کہ سیاسی ماہرین یہ نتیجہ نکالیں کہ سعودی عرب میں اقتدار کی جنگ بدستور جاری ہے اور ملک عبداللہ شہزادہ متعب کو اپنا جانشین اور ولیعہد بنانا چاہتا ہے۔
یہاں پر اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ ملک عبداللہ کی جانب سے شہزادہ متعب کو نیشنل گارڈز کی سربراہی عطا کرنا جو ایک انتہائی موثر حکومتی اور فوجی عہدہ ہے، کچھ شکوک و شبہات کے جنم لینے کا باعث بنا ہے۔ نیشنل گارڈز کی بنیادی ذمہ داری حکومتی اراکین کی حفاظت ہے اور اس کام کیلئے شہزادہ متعب کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ ملک عبداللہ نے اقتدار کو اپنی نسل میں باقی رکھنے کیلئے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔
دوسری طرف کچھ عرصہ قبل "شہزادہ بندر بن سلطان" کی اچانک ریاض واپسی نے ملک عبداللہ کی جانب سے ولیعہدی کی منصوبہ بندی کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ بندر بن سلطان کی واپسی سیاسی تجزیوں میں تبدیلی کا باعث بنی ہے۔ البتہ سعودی عرب پر حکمفرما طبقے کے درمیان کئی قسم کی رقابتیں موجود ہیں۔ "شہزادہ بندر" موجودہ ولیعہد "سلطان" کا بیٹا ہے۔ وہ 22 سال سے سعودی عرب کی وزارت خارجہ میں کام کرنے میں مصروف ہے جس میں سے زیادہ عرصہ وہ امریکہ میں بطور سفیر رہا ہے۔ اسکے مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز مخصوصا سی آئی اے سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ شہزادہ بندر کچھ عرصہ پہلے امریکہ میں اپنی سفارت کی مدت پوری ہونے پر سعودی عرب واپس آ گیا ہے۔ اسی وقت یہ مشہور ہو گیا تھا کہ وہ ملک میں بغاوت کروانا چاہتا ہے جسکی وجہ سے حکومت کی جانب سے
شدید ردعمل کا شکار ہوا اور اسے ملک بدر کر دیا گیا۔
گذشتہ سال ملک عبداللہ کی جانب سے علاج کیلئے امریکہ کا دورہ کرنے کے بعد شہزادہ بندر دوبارہ ریاض واپس آ گیا۔ اسکی دوبارہ واپسی نے سعودی عرب میں اقتدار کی منتقلی کے بارے میں شدید ابھامات اور بحث و گفتگو کو جنم دیا ہے۔ امریکہ سعودی عرب میں شہزادہ بندر کے اقتدار سنبھالنے کا حامی ہے اور چاہتا ہے کہ ملک عبداللہ کے بعد وہ بادشاہ بن جائے۔
اس وقت کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب میں چار بادشاہ موجود ہیں جن میں سے ایک "ملک عبداللہ" ہے۔ دوسرا اسکا ولیعہد "سلطان"، تیسرا "شہزادہ سلمان" [ریاض کا امیر] اور چوتھا "شہزادہ بندر"۔
لہذا جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں سعودی عرب میں سدیری اور نجدی گروہوں کے درمیان اقتدار کے حصول پر شدید رقابت پائی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ روایتی سیاسی حلقوں اور غربزدہ اصلاح طلب جدید سیاسی حلقوں میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں جو انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ شہزادہ بندر بن سلطان مغربی سوچ رکھنے والے اصلاح طلب حلقے کا سربراہ ہے جبکہ اسکے مقابلے میں ملک فھد کے پوتے روایتی حلقے کو تشکیل دیتے ہیں۔ ان دو حلقوں کے درمیان رقابت اس وقت شدت اختیار کر چکی ہے جسکو مختلف انداز سے دیکھا جا سکتا ہے۔
بندر بن سلطان کا امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کا ایجنٹ جانا جانے کے باوجود چونکہ وہ ایک کنیز کا بیٹا ہے لہذا بادشاہت کا حصول انکے کیلئے بالکل ممکن نہیں۔ عرب کے دوران جاہلیت میں یہ رسم موجود تھی کہ اگر کوئی خاتون مسلسل کئی بار لڑکی کو جنم دیتی تھی تو اسکا شوہر کسی کنیز سے شادی کر لیتا تھا تاکہ صاحب اولاد نرینہ ہو سکے۔ بندر بھی اسی رسم کے تحت دنیا میں آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آل سعود کا خاندان بندر کو حقیقی معنوں میں شہزادہ قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے لہذا اسکی بادشاہت کا چانس نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ تمام مسائل باعث بنے ہیں کہ اولا مغربی قوتیں سعودی عرب میں طاقت کے خلاء کے بارے میں پریشانی کا شکار ہو جائیں اور ثانیا سعودی خاندان کا انتہائی اہم نکتہ ضعف اور سرنگونی کا امکان ابھر کر سامنے آ جائے۔
خبر کا کوڈ : 85935
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے