0
Tuesday 13 Aug 2013 21:38

عرب دنیا میں جاری سیاسی کشمکش اور امریکہ پر اس کے اثرات

عرب دنیا میں جاری سیاسی کشمکش اور امریکہ پر اس کے اثرات
اسلام ٹائمز- عرب دنیا اس وقت شدید سیاسی کشمکش اور بدامنی کا شکار ہو چکی ہے۔ تیونس میں سیاسی صورتحال انتہائی بگڑ چکی ہے اور حکومت سرحدی علاقوں پر اپنا کنٹرول کھو چکی ہے۔ لیبیا کی صورتحال تو اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طرابلس اب اس کا دارالحکومت ہی نہیں رہا بلکہ اس کیلئے بڑی مشکل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مصر میں بھی حکومت بے بس نظر آتی ہے اور مصر آرمی اور اسلام پسند گروہوں کے درمیان پائے جانے والے شدید نظریاتی اختلافات نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ صحرای سینا ایک چھوٹے افغانستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یمن حکومت کا کنٹرول زیادہ سے زیادہ ملک کے آدھے حصے پر قائم ہے۔ شام میں خانہ جنگی اپنے عروج پر ہے جو اب تک 8 ہزار سے زیادہ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل چکی ہے۔ عراق بھی جان لیوا اور وحشت ناک دہشت گردانہ اقدامات کی لپیٹ میں ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ بحرین اور اردن کی حکومتیں بھی گذشتہ عشرے کی نسبت انتہائی کمزور ہو چکی ہیں۔ ان تمام ممالک میں موجود بحران اتنا جلدی حل ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ 
 
عقل سلیم یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہے کہ ان ممالک میں پائی جانے والی بدامنی اور سیاسی بحران امریکہ کیلئے اچھی چیز نہیں کیونکہ دنیا کے کسی نقطے میں بھی بدامنی اور لاقانونیت کی موجودگی امریکی عوام کیلئے ایک بڑا خطرہ تصور کی جاتی ہے۔ یہ بات عام حالات میں بالکل درست اور صحیح ہے۔ لیکن سیاست اور طاقت کی بے رحم منطق کی رو سے شائد یہ بات صحیح نہ ہو۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مشرق وسطی میں بدامنی اور سیاسی بحران امریکہ کے جیوپولیٹکل مفادات کے حق میں ہے۔ اس مدعا پر کئی دلیل پیش کئے جا سکتے ہیں۔
 
آیا یہ بات درست نہیں کہ القاعدہ تنظیم جیسے بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کو ایسے علاقوں میں پھلنے پھولنے کے زیادہ مواقع حاصل ہو سکتے ہیں جہاں مرکزی حکومت کی پکڑ کمزور ہو؟ جی ہاں، ایسا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج غیرمعمولی طور پر مشرق وسطی کے ہر کونے میں مقامی سطح پر القاعدہ تنظیم سے وابستہ چھوٹے چھوٹے خودمختار دہشت گرد گروہ حیرت انگیز طور پر تیزی سے نشوونما پاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن اس حقیقت کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ وہ یہ بین الاقوامی دہشت گرد گروہ ایسے علاقوں میں پھل پھول رہے ہیں جہاں مرکزی حکومت انتہائی ضعف کا شکار ہے اور یہ علاقے اس کی رٹ سے باہر یا دوسرے الفاظ میں نو گو ایریاز تصور کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر لیبیا میں سابق ڈکٹیٹر معمر قذافی کی سرنگونی کے بعد مختلف دہشت گرد گروہ معرض وجود میں آ کر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر چکے ہیں جس کا واضح نمونہ امریکی قونصلیٹ پر حملہ تھا جس میں امریکی سفیر بھی مارا جا چکا ہے۔ 
 
لیکن ہمیں اس نکتے کی جانب متوجہ رہنا چاہئے کہ دہشت گرد گروہوں کا وجود ایک چیز ہے اور ان کی جانب سے کامیاب کاروائیاں انجام دینا ایک الگ چیز ہے۔ نو گو ایریاز میں القاعدہ سے وابستہ ان چھوٹے مگر خودمختار دہشت گرد گروہوں کی کامیابیاں یہ مطلب رکھتی ہیں کہ ان علاقوں میں یہ دہشت گرد گروہ گہرا اثرورسوخ اور تسلط قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس تسلط اور اثرورسوخ کے نتیجے میں ان دہشت گرد گروہوں نے ان علاقوں میں ٹریننگ کیمپس بنا رکھے ہیں اور دوسرے ممالک پر منظم حملوں کیلئے مکمل طور پر پلاننگ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1990ء کے عشرے کے اواخر میں طالبان کی جانب سے افغانستان پر حملہ اسی تناظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسے وقت جب کوئی ملک مکمل طور پر بدامنی اور سیاسی کشمکش کا شکار ہو ایسے آپریشنز انجام نہیں دیئے جا سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان 1990ء کی دہائی کے اواخر میں بدامنی اور سیاسی کشمکش کا شکار نہ تھا بلکہ اس وقت بھی افغانستان کے بیشتر حصوں پر طالبان کا قبضہ تھا اور طالبان رسمی طور پر القاعدہ کی میزبانی کر رہا تھا۔ طالبان کے زیرکنٹرول علاقے بدامنی اور سیاسی کشمکش کا شکار نہ تھے بلکہ دشمن علاقے تصور کئے جاتے تھے۔ 
 
بین الاقوامی جہادی گروپس اس وقت مشرق وسطی کے تمام حصوں میں اپنے ٹھکانے بنانے میں مصروف ہیں۔ یہ امر خطے کی حکومتوں کیلئے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی نظر میں خطے میں طاقت کے توازن کو درپیش سب سے بڑا سیکورٹی خطرہ بدامنی اور سیاسی کشمکش کا شکار عرب ممالک نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو بدامنی اور انارکی کا شکار اس خطے میں صحیح و سالم بچا ہوا ہے اور خطے کے تمام ممالک میں وہ واحد ملک اور حکومت ہے جہاں سیاسی استحکام اور امن پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایران اپنے جوہری پروگرام اور دوسری ترقیاتی پروگرامز کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ اگر اسلامی جمہوریہ ایران بھی باقی ممالک کی طرح سیاسی کشمکش اور بدامنی کا شکار ہو جاتا تو اس میں اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کی سکت نہ ہوتی۔ 
 
ایران میں ایک طاقتور اور امریکہ کی نظر میں شدت پسند حکومت پائی جاتی ہے جو اسرائیل کیلئے ایک بڑا خطرہ محسوب ہوتی ہے۔ مشرق وسطی میں پائی جانے والی حالیہ بدامنی اور انارکی ایک طرح سے اسرائیل کے فائدے میں بھی ہے۔ اسرائیل کی فوج نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ چونکہ اب اسے مصر، شام اور دوسرے عرب ممالک کی مسلح افواج کی جانب سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں ہو رہا لہذا اس نے اپنی مکمل توجہ غیرمتعارف خطرات جیسے عسکریت پسندوں کے نفوذ اور سائبر حملات کی جانب مرکوز کر رکھی ہے۔ لہذا مشرق وسطی اور عرب دنیا میں بدامنی اور سیاسی بحران کے بادل چھا جانے کی برکت سے اب اسرائیل اپنی جغرافیائی حدود پر کسی قسم کے اسٹریٹجک خطرے کا احساس نہیں کر رہا بلکہ اب اسے عملی خطرات کا سامنا ہے۔ حزب اللہ لبنان اور حماس جیسے جہادی گروپس بھی مصر اور شام میں جاری بدامنی اور سیاسی کشمکش کی وجہ سے ماضی کی طرح اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے پر قادر نہیں رہے۔ 
 
لیکن کیا یہ بدامنی اور سیاسی بحران خطے میں غیرقانونی آمرانہ حکومتوں سے لبرل ڈیموکریسی کی جانب انتقال کیلئے خطرہ محسوب نہیں ہوتا؟ یہ ایک اخلاقی بحث ہے جس کا جیوپولیٹکس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس سوال میں تاریخ سے ایک قسم کی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ اول یہ کہ ہمیشہ سے امریکہ کے خطے میں ناجائز آمرانہ حکومتوں سے اچھے اور دوستانہ تعلقات استوار رہے ہیں۔ خطے کی آمر عرب حکومتیں سالہای سال اور کولڈ وار کے دوران خطے میں امریکی اثرورسوخ بڑھانے کا سبب بنی ہیں اور ان کی موجودیت بھی امریکہ کے زیرسایہ رہنے کی ہی مرہون منت تھی۔ اس وقت ان ممالک میں امریکی سفارت خانے مکمل طور پر محفوظ تصور کئے جاتے تھے۔ کس نے کہا ہے کہ اگر ان ممالک میں ایک دن جمہوری حکومتیں قائم ہو جاتی ہیں تو وہ امریکہ کے جیوپولیٹکل مفادات کے حق میں ہوں گی؟ امریکہ کے اقتصادی و سیکورٹی امور کی روشنی میں خطے میں استبدادی اور آمر حکومتیں جمہوری حکومتوں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ 
 
وہ جو اس حق میں ہیں کہ خطے میں پائی جانے والی بدامنی اور سیاسی بحران جمہوریت کی جانب خطے کے سفر کیلئے خطرہ محسوب ہوتا ہے ان کیلئے یورپ کی تاریخ میں رونما ہونے والے واقعات کی مثال پیش کرتے ہیں۔ یورپ نے جمہوریت کی جانب اپنا سفر بدامنی اور جنگ کے ذریعے طے کیا ہے۔ روس نے 1990ء میں ایک ہی رات میں کامیونیسٹک ڈکٹیٹرشپ سے ویسٹرن ڈیموکریسی کی جانب سفر کا تجربہ انجام دیا جس کے نتیجے میں تھوڑی بدامنی معرض وجود میں آئی۔ لیکن دوسری طرف ایشیائی ممالک نے یہ راستہ انتہائی احتیاط سے طے کیا اور کئی سالوں تک آمرانہ حکومتوں کو برداشت کرتے رہے اور بتدریج جمہوریت کی جانب گامزن رہے۔ مشرقی اور سنٹرل یورپ میں کامیونزم نے بعد تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس تیزی کی وجہ یہ تھی کہ ان ممالک میں ایک جمہوری اور ثقافتی پیشینہ اور ماضی موجود تھا۔ خلاصہ یہ کہ مشرق وسطی میں پائی جانے والی بدامنی اور سیاسی بحران کئی سالوں تک باقی رہ سکتا ہے۔ 
 
امریکہ میں جو بعض افراد یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مشرق وسطی میں پائی جانے والی حالیہ بدامنی اور سیاسی بحران کے ذمہ دار موجودہ امریکی صدر براک اوباما ہیں ان کی رائے انتہائی نامعقول ہے۔ وہ یہ بات اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ واشنگٹن مشرق وسطی میں بہت زیادہ اثرورسوخ کا حامل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عرب دنیا میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کی حقیقی وجہ خود عرب ممالک کے اپنے اندرونی حالات ہیں۔ البتہ لیبیا کو اس بات سے مستثنی کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں امریکہ کی فوجی مداخلت نے معمر قذافی کی سرنگونی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر امریکہ گذشتہ سال شام میں بھی فوجی مداخلت انجام دیتا تو اس ملک کی صورتحال آج سے بہتر نہ ہوتی۔ ایسا سوچنا کہ امریکہ کی جانب سے فوجی مداخلت شام کی صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہے یا اس میں کوئی مثبت تبدیلی لا سکتی ہے ایک انتہائی بچگانہ سوچ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل قریب میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاران امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے شام میں فوجی مداخلت نہ کرنے کے فیصلے کو سراہیں گے اور اس کی تعریف کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ 
 
شام میں بدامنی نے لبنان اور عراق کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسی طرح شام میں پائی جانے والی بدامنی اسرائیل کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ محسوب ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ اسرائیل کیلئے ایک اہم موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔ لیکن کلی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بدامنی اور سیاسی بحران امریکہ کے نقصان میں ہے۔ مصر میں پائی جانے والی بدامنی بھی امریکہ کیلئے کوئی سنجیدہ خطرہ محسوب نہیں ہوتی۔ البتہ یہ بات اس وقت تک درست ہے جب تک سوئیز کینال بند نہیں کی جاتی یا جب تک اسرائیل کے ساتھ مصر کی جنوبی سرحدوں پر امن و امان قائم رہتا ہے۔ 
 
دوسری طرف بحرین کے علاوہ خطے میں بعض تیل پیدا کرنے والے دوسرے عرب ممالک جیسے سعودی عرب ماضی کی طرح سیاسی استحکام کے حامل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود خطے میں طاقتور ڈکٹیٹر عرب حکومتوں کی سرنگونی امریکہ کیلئے ایک ایسا بڑا سیکورٹی چیلنج ہیں جو اگلے کئی سالوں تک اس کے سامنے موجود رہے گا۔ 
خبر کا کوڈ : 292112
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

متعلقہ خبر