0
Wednesday 9 Feb 2011 17:13

تیونس اور مصر کے انقلاب کا رخ موڑنے کیلئے مغربی ہتھکنڈے

تیونس اور مصر کے انقلاب کا رخ موڑنے کیلئے مغربی ہتھکنڈے

اسلام ٹائمز- ان دنوں جس چیز نے عوامی توجہ کو اپنی جانب مبذول کر رکھا ہے وہ مصر اور تیونس میں رونما ہونے والے انقلابات کے حوالے سے عالمی استکبار کی اختیار کردہ منافقانہ سیاست ہے۔ انکی یہ کوشش ہے کہ ان دو ممالک میں رونما ہونے والے ان انقلابات کو جمہوریت خواہی کے مطالبے تک محدود کر دیں۔ مصر اور تیونس میں پیش آنے والی سیاسی تبدیلیوں کے مقابلے میں مغربی میڈیا کے رویہ نے اقوام عالم کو آزادی اور جمہوریت کے حصول میں مدد کرنے سے متعلق انکے قوانین اور اصولوں کے بارے میں سنجیدہ قسم کے سوالات جنم دیئے ہیں۔
تیونس کے انقلاب کے برعکس جو اپنی کامیابی سے دو دن پہلے تک مغربی میڈیا کی جانب سے مکمل بائیکاٹ کا شکار تھا، مصری عوام کے انقلاب نے مغربی میڈیا میں کسی حد تک جگہ پیدا کر لی ہے۔ تاہم مغربی ذرائع ابلاغ نے مصری عوام کی تحریک کو فقط مظاہروں اور انارکی کی حد تک محدود ظاہر کیا ہے اور وسیع پیمانے پر عوام کی شرکت کو محور قرار دینے سے گریز کیا ہے اور حتی مصری سیکورٹی فورسز کی طرف سے عوام پر روا رکھے جانے والے ظالمانہ اور غیرانسانی سلوک سے بھی مکمل چشم پوشی اختیار کی ہے۔
عالمی استعماری نظام سے منسلک ذرائع ابلاغ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مصر اور تیونس کی عوامی تحریکیں جارجیا اور یوکرائن میں رونما ہونے والے انقلابوں کی مانند ہیں جہاں عوام کے مدنظر صرف جمہوریت کی برقراری تھی۔ مغربی میڈیا کی کوشش ہے کہ وہ اسلامی نعرے لگانے والے عوام کے انقلاب کو امریکی انقلاب کا نام دے کر اسکے اہداف و مقاصد کو جمہوریت خواہی تک محدود کر دیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ بعد یوکرائن کی امریکہ نواز حکومت سرنگوں ہو گئی۔ مصر اور تیونس مغربی ممالک کا حصہ نہیں بلکہ وہ ایک اسلامی اوریجن رکھتے ہیں اور اسلام ان دونوں ممالک کی تہذیب و تمدن میں شامل ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو عرب عوامی انقلابوں کے بارے میں مغربی دنیا کا کیا موقف ہے جو انکے دو اتحادی اور دوستوں کے خلاف رونما ہوئے ہیں اور مغربی میڈیا کیسے اور کن ہتھکنڈوں کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے مغربی نظریات کی جانب موڑنے کی کوشش میں مصروف ہے؟۔
مندرجہ ذیل مغربی میڈیا کے وہ نفسیاتی ہتھکنڈے ہیں جنکے ذریعے وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کہ مصری اور تیونسی قوموں کی جانب سے لائے گئے انقلاب مغربی طرز کی جمہوری نظام کی جانب رواں دواں ہیں۔
1۔ نظام کی بجائے فقط حاکم کی سرنگونی کی سیاست کا القاء:
مغربی ذرائع ابلاغ تیونس اور مصر میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو اس انداز میں دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ ان ممالک کے عوام صرف سربراہان مملکت کی برطرفی کے خواہاں ہیں اور وہاں پر حاکم نظام کو ختم کرنا نہیں چاہتے۔ وہ اس طرح سے اپنے نئے کٹھ پتلی افراد کے برسراقتدار میں آنے کیلئے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
وہ تیونس میں اسی پرانے انداز میں طاقت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ مصر میں بھی انکی کوشش ہے کہ حکومت حسنی مبارک کے پیش کردہ عمر سلیمان کے ہاتھوں میں آ جائے۔ تیونس میں آئینی کونسل نے نئے صدارتی انتخابات کے انعقاد تک پارلیمنٹ کے سپیکر کو عارضی صدر مقرر کیا اور مغربی ذرائع ابلاغ اس اقدام کو عوامی تحریک کا خاتمہ قرار دے رہے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمان عوام امریکہ اور اسرائیل کے تمام نوکر حکمرانوں کی برطرفی کے خواہاں ہیں۔ مصر میں بھی عوام ملک میں حاکم نظام کی تبدیلی کے نعرے لگا رہے ہیں جبکہ مغربی میڈیا یہ پرپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے کہ مصری عوام صرف حسنی مبارک کی برکناری کا مطالبہ کر رہے ہیں اور نئی حکومت کے ساتھ ان کا کوئی مسئلہ نہیں۔
2۔ اقتدار کی مرحلہ وار منتقلی کا منصوبہ:
مغربی میڈیا کوشش کر رہا ہے کہ ان دونوں ممالک کے واقعات کو اس طرح سے ظاھر کرے جس سے یہ دکھائی دے کہ عوام عارضی حکومت کی تشکیل پر قانع ہیں لہذا مصری صدر کو بھی اقتدار چھوڑنے کا عوامی مطالبہ تسلیم کر لینا چاہئے۔ مصر میں عمر سلیمان کی طرح کے مغربی مہروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی ان دو قوموں کے انقلابی غم وغصے کو ایک اور رخ دینے کی غرض سے ہے تاکہ اس بات کا القاء کریں کہ نئی حکومت ضرور بن کر رہے گی اور اسکی پالیسیاں بھی موجودہ حکومت سے مختلف ہوں گی۔ لیکن وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ عوام ہر حکومتی سطح پر تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
3۔ اپنی طرز کا اسلامی جمہوری نظام قائم کرنے کیلئے ایران کی مداخلت کا جھوٹا پروپیگنڈہ:
مغربی ذرائع ابلاغ نے تیونس کے عوامی قیام کے اوائل ہی میں یہ جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا تھا کہ ایران اپنا انقلاب برآمد کرنا چاہتا ہے۔ اس پروپیگنڈے کا مقصد دونوں ممالک میں ایران اور اسلام پسند عناصر کے خلاف ایک سیاسی فضا قائم کرنا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ اس حد تک شدید تھا کہ تیونس میں تحریک اسلامی کے سربراہ راشد الغنوشی کو یہ بیان دینا پڑا کہ انکا مقصد ملک میں ایران طرز کی اسلامی حکومت کا قیام نہیں ہے۔ مغربی میڈیا نے مصر سے متعلق بھی یہ واویلا شروع کر دیا کہ وہاں ولایت فقیہ کا نظام تشکیل پانے والا ہے۔ جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نماز جمعہ کے خطبہ میں انتہائی واضح انداز میں کہا ہے کہ ایران ان دونوں ممالک کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیونس اور مصر کی آزاد قومیں جان لیں کہ فقط اسلام ہی عالمی استعمار کے پنجوں سے نجات کا واحد راستہ ہے۔
4۔ حسنی مبارک کے فوری استعفے کا منصوبہ:
مغربی دنیا نے جب دیکھا کہ مصری عوام حسنی مبارک کی برکناری پر مصمم ہیں تو عوامی سطح پر ذہنوں میں یہ ڈالنے کی کوشش کی کہ "مبارک" کو استعفا دے دینا چاہئے تاکہ نئی حکومت تشکیل پا سکے۔ انہوں نے انتہائی چالاکی سے حکومت کے خاتمے کو حسنی مبارک کی برکناری سے تعبیر کیا اور اس طرح عوام کو ایسی سمت لے جانی کی کوشش کی کہ وہ مبارک کی جگہ ایک دوسرے مغربی کٹھ پتلی حکمران کی حکومت پر راضی ہو جائیں۔ یہ ان ذرائع ابلاغ کا ایک اور ایسا ہتھکنڈہ ہے جسکے ذریعے وہ مصر کے عوامی انقلاب کو اپنی پسند کا رخ دینا چاہتے ہیں۔
5۔ مظاہرین کی تعداد کو کم اور حکومت کے حامیوں کو زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش:
مغربی میڈیا جو ان دو ممالک میں انقلاب کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے کسی موقع کو ضائع نہیں کرتے نے انتہائی دلچسپ اقدام اٹھاتے ہوئے کوشش کی ہے کہ ایک طرف تو احتجاج کرنے والے افراد کی تعداد کو کم ظاہر کریں اور دوسری طرف مظاہرین کے خلاف حکومتی اقدامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں تاکہ لوگوں کو خوفزدہ کر کے مظاہروں میں شرکت سے باز رکھ سکیں۔ مثال کے طور پر جب رشیا ٹوڈے اور الجزیرہ قطر جمعہ کے دن مصر کے تحریر اسکوائر میں مظاہرین کی تعداد کو 5 لاکھ سے زیادہ بتا رہے تھے اسی وقت مغربی اور امریکی نیوز چینلز نے اپنی نیوزلائن میں لکھا کہ دسیوں ھزار مظاھرین تحریر اسکوائر میں مبارک کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
درحقیقت مظاہرین کی غلط تعداد بتانے کا مقصد انکے ارادوں کو کمزور ظاہر کرنا تھا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ مصری عوام کی اکثریت نئی حکومت کی تشکیل پر راضی ہے اور یہ کہ اب مبارک کو برکنار ہو جانا چاہئے۔

خبر کا کوڈ : 53731
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب