0
Wednesday 26 Dec 2012 01:06

پانچ سالہ دور کے پہلے حصے میں جنرل کیانی ایک مضبوط سپہ سالار کے طور پر ابھرے

پانچ سالہ دور کے پہلے حصے میں جنرل کیانی ایک مضبوط سپہ سالار کے طور پر ابھرے
اسلام ٹائمز۔ گزرتے سال میں سیاسی اور عسکری قیادت کے تعلقات نشیب و فراز کا شکار رہے۔ ایبٹ آباد میں اسامہ کی ہلاکت اور میمو اسکینڈل سے ہلچل مچی رہی۔ سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ اپنے پانچ سالہ دور کے پہلے حصے میں جنرل کیانی ایک مضبوط سپہ سالار کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے دو ہزار آٹھ کو سپاہی اور دو ہزار نو کو تربیت کا سال قرار دیا۔ جوانوں کی مراعات بڑھیں اور عزم نو تین کے علاوہ فارمیشن کی سطح پر فوجی مشقیں کرائی گئیں۔ جنرل کیانی کے دور میں قبائلی ایجنسیوں میں شدت پسندوں کے خلاف کئی چھوٹے بڑے آپریشن کئے گئے۔ اپریل 2009ء میں سوات اور اکتوبر میں جنوبی وزیرستان آپریشن ہوا۔ اس اقدام کو ملکی و عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ جنرل کیانی کو سب سے پہلے تنقید کا سامنا مدت ملازمت میں توسیع پر کرنا پڑا۔
 
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی مدت ملازمت میں دوسری مرتبہ توسیع ہوئی تو مزید گرد اڑی۔ 10 اکتوبر 2009ء کو آرمی چیف اپنے آفس میں موجود تھے کہ انہیں دہشت گردوں کے جی ایچ کیو پر حملے کا دھچکہ سہنا پڑا، پھر ریمنڈ ڈیوس کیس پاک امریکہ فوجی تعلقات میں تناو کا سبب بنا۔ ایک اور کڑا وقت ایبٹ آباد آپریشن تھا اسامہ کی موجودگی اور سرحدوں کا تحفظ سوالیہ نشانات بن چکے تھے۔ جنرل کیانی سمیت اعلی فوجی قیادت کو معاملے پر پارلیمنٹ کو بریفنگ دینا پڑی۔ فوج اور آئی ایس آئی کے کردار سے متعلق کئی سوالوں نے جنم لیا۔ 

تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ گذشتہ پانچ سالوں میں آرمی چیف جنرل کیانی کو مارشل لاء لگانے کے مواقع ملے مگر انہوں نے گریز کیا جبکہ ان کے دور میں پارلیمنٹ کی فوجی امور پر نگرانی بھی مضبوط ہوئی جسکی وجہ سے پاکستان کے موجودہ پارلیمنٹرینز جنرل اشفاق پرویز کیانی بحثیت چیف آف آرمی سٹاف کردار سے مطمئن نظر آتے ہیں۔
 منصور اعجاز کے فارن پالیسی میگزین میں چھپنے والے مضمون کے بعد میمو اسکینڈل کا جن بوتل سے باہر آیا جس نے سابق وزیراعظم گیلانی اور عسکری قیادت کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ فوجی قیادت کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے پر بھی سیاسی قیادت کو مدد کیلئے پکارنا پڑا اور نیٹو سپلائی کی بندش جیسے کڑے فیصلے کئے گئے۔ بلوچستان میں ایف سی پر لاپتہ افراد کی ہلاکتوں اور غیر قانونی حراست میں رکھنے کا الزام بھی فوج کیلئے حرف تنقید اور جنرل کیانی کی فراست کا امتحان بن چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 224954
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب