0
Monday 15 Apr 2013 20:30

رضائے الٰہی کا راستہ امام زمانہ (عج) و رہبر کے ساتھ حقیقی بیعت ہے، آیت اللہ بہاؤالدینی

رضائے الٰہی کا راستہ امام زمانہ (عج) و رہبر کے ساتھ حقیقی بیعت ہے، آیت اللہ بہاؤالدینی
اسلام ٹائمز۔ ایام فاطمیہ (ع) بسلسلہء شہادت حضرت بی بی فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا مدافع ولایت، جگر گوشہ رسول ختمی مرتب حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی مناسبت سے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر انتظام ایک مجلس عزاداری کا انعقاد مسجد و امام بارگاہ مدینة العلم گلشن اقبال میں کیا گیا۔ مجلس عزاداری سے رہبر مسلمین جہان حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے پاکستان میں نمائندے آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے خصوصی خطاب کیا۔ آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی کے مترجم کے فرائض سید مبشر زیدی نے انجام دیئے۔ مجلس عزاداری میں دستہ امامیہ کراچی ڈویژن نے نوحہ خوانی و سینہ زنی کی۔ مجلس عزاداری کا اختتام دعائے سلامتی امام زمانہ (عج) سے کیا گیا۔ اس موقع پر عزاداران سیدہ بنت رسول (ص) کی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ مجلس عزاداری کے موقع پر امامیہ بلڈ ٹرانسفیوژن اینڈ میڈیکل سروسز کے زیر انتظام ایک بلڈ ڈونیشن کیمپ بھی لگایا تھا جس میں عزاداروں کی کثیر تعداد نے خون کے عطیات دئیے۔ اس موقع پر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے ذیلی ادارے امامیہ ایجوکیشن بورڈ کے تحت امامیہ بک بینک و دیگر تعلیمی پروجیکٹ کے حوالے سے بھی کیمپ لگایا گیا تھا۔

عزاداران سیدہ بنت رسول (ص) سے خطاب کے دوران نمائندہ ولی فقیہہ آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے وقت شہادت حضرت سیدہ بنت حضرت رسول خدا (ص) کے مصائب بیان کرتے ہوئے کہا کہ روز شہادت حضرت فاطمہ الزہراء (ص) حضرت مولا امام علی علیہ السلام کے گھر میں شام غریباں برپا تھی اور مصائب کے اس عالم میں گھر کے در و دیوار سے غربت ٹپک رہی تھی۔ اس وقت ایک غمزدہ باپ ایسے عالم میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کے چار چھوٹے چھوٹے بچے اسے گھیرے ہوئے تھے اس انتظار میں کہ علی (ع) زہراء (ص) کی تلاش میں نکلیں۔ نہیں معلوم کہ کیا عالم تھا اس وقت مدینے کا مگر اتنا معلوم ہے کہ مدینے میں اس وقت تاریکی تھی اور علی (ع) کے گھر میں یا تو روز عزا تھا یا قربانی کا دن۔ جس گھر میں امام مہدی (ع) کی منتظر تھیں جناب زہراء (ص) اور فریاد کرتی تھیں کہ آئیے امام مہدی (عج) تشریف لائیے، آج اسی گھر میں شام غریباں ہے۔ انشاء اللہ فرزند زہراء(ص) حضرت امام مہدی آخر الزمان (عج) ضرور آئینگے۔ آپ ﴿ص﴾ کے فرزند مہدی (عج) آپ کے شکستہ پہلو کے زخم کیلئے مرہم لے کر ضرور آئینگے۔ آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ اللہ، فاطمہ (ص) کے غضب پر غضبناک اور انکی رضا پر راضی ہوتا ہے۔ یعنی معاملہ عموماَ اس کے برعکس ہوتا ہے کہ لوگ خدا کی رضا کے منتظر ہوتے ہیں مگر اسلامی معاشرے اور صاحبان شعور ہونے کے دعویداروں کو چاہئیے کے اس بات کو لازمی سمجھیں کہ یہاں معاملہ برعکس ہے کہ کب فاطمہ (ص) غضب کرتی ہیں کہ خدا غضب کرے۔ یہاں خدا منتظر ہے کہ کب فاطمہ (ص) کسی شے کو پسند فرمائیں تو خدا پسند فرمائے۔

آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ تذکرہ مصائب بی بی سیدہ فاطمہ زہراء (ص) ہمارے قلوب کیلئے طہارت کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہراء ﴿ص﴾ جگر گوشہ حضرت رسول خدا (ص) کو تمام تر خصوصیات ہونے کے باوجود جو مصائب و مشکلات جھیلنے پڑے اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے سامنے جو لوگ تھے انہوں نے اپنے نفس کو راضی کرنے کی کوشش کی اور خدا کی رضا کو بھول گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرہ یا فرد صحیح و صالح زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسے خدا کی رضا کے مطابق کاموں کو انجام دینا چاہئیے۔ خدا کی پسند کے مطابق چیزوں کو منتخب کرنا چاہئیے۔ اگر خدا کی رضا خاموشی میں ہے تو خاموش رہے، اگر فریاد و احتجاج کرنے میں تو فریاد و احتجاج کرے۔ رضائے الٰہی کے حصول کے حوالے سے آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ اس مقام پر پہنچنا کہ جہاں رضائے الٰہی ہمیں حاصل ہو جائے آسان کام نہیں ہے۔ یعنی خداوندعالم کی رضا کا حصول، اس کی رضا و منشاء کے مطابق قدم اٹھانا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہم سب وابستہ ہیں مختلف چیزوں سے، ماں باپ، بہن بھائی، بیٹے بیٹیاں دیگر عزیز و اقارب، دوست، تنظیمیں، گروہ، قبیلے، خاندان وغیرہ سے۔ بعض اوقات یہ تمام چیزیں مل کر ہمارے لئے بت بن جاتی ہیں اور پھر ہم ان سب چیزوں کی رضا کی خاطر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر کام میں، دوستی میں دشمنی میں دیکھنا چاہئیے کہ آیا یہ سب خدا کی رضا کیلئے ہے یا نہیں۔ حتی موبائل پر ایک میسیج کرنا، یا کسی کے حوالے سے میسیج کو آگے بھیجنا، اس میں خدا کی رضا شامل ہے یا نہیں۔ یا اگر ہم کسی ویب سائٹ پر جاتے ہیں، دیکھنا چاہئیے کہ یہ رضائے الٰہی کیلئے ہے یا نہیں۔ یا ان میسجز میں دوسروں پر تہمتیں لگائی جاتی ہیں، جھوٹے بہتانات لگائے جاتے ہیں یا غیبتیں کی جاتی ہیں، آیا یہ خدا کی رضا کے مطابق ہے؟ لہٰذا ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ یہ رہنا چاہئیے کہ اس مقام تک پہنچنا کہ جہاں ہمیں خدا کی رضا حاصل ہو جائے، آسان کام نہیں ہے۔ لیکن جتنا ممکن ہو ہم رضائے الٰہی کی خاطر قدام اٹھائیں۔ خصوصاَ جوانوں کو چاہئیے کہ خدا کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کا ارادہ کریں کیونکہ نوجوانوں میں یہ صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور وہ یہ مشکل کام کر سکتے ہیں۔ ہمارے تمام آئمہ معصومین علیہم السلام، انبیاء ﴿ع﴾، اولیا خدا سب رضائے الٰہی کے پیچھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی معرفت کے بعد انسان سوائے خد ا کے ہر چیز سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کے مقابلے میں خدا کی رضا کو پسند کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مومن وہ ہوتا ہے جو خدا کی مخالف تمام چیزوں کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ پھر خدا بھی دشمنوں کے مقابلے میں اس کی مدد و نصرت کرتا ہے۔

شب ہجرت بسترِ رسول خدا (ص) پر امام علی (ع) کے سونے کے واقعہ کے حوالے سے آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ سوال ہے کہ اے علی (ع) کیا آپ رسول اللہ (ص) کی خاطر سوئے تھے؟ جواب ملتا ہے، نہیں۔ کیا آپ اپنی خاطر سوئے تھے؟ نہیں۔ کیا آپ نے معاشرے کیلئے کیا تھا؟ نہیں۔ حتیٰ کیا آپ کے اس اقدام کی وجہ جنت کی طلب تھی؟ نہیں۔ یا اس لئے کہ کوئی آپ کو ملامت نہ کرے؟ جواب ہے، نہیں۔ بس اے علی (ع) آپ نے کس چیز کی خاطر یہ اقدام اٹھایا؟ یہاں خدا اس سوال کا جواب دیتا ہے مولا علی (ع) کی جگہ کہ لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو خدا کی رضا کو خرید لیتے ہیں۔ آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ خدا کی جانب سے ہمیں جو جان عطا ہوئی ہے وہی ہمارا کل سرمایہ ہے۔ ہمیں اس سرمایے کی قیمت سے واقف ہونا چاہئیے تا کہ کہیں اسے دھوکہ میں آکر سستے داموں نہ بیچ دیں۔ علی (ع) کی جان کی قیمت جنت نہیں ہے۔ جنت کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ علی (ع) کی جان کی قیمت یہ ہے کہ خدا علی (ع) کے کام کو پسند کرے اور علی (ع) اس کی رضا کو خرید لے۔ علی (ع) اپنی جان دیں گے۔ آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے مزید بیان کیا کہ ابھی علی (ع) کی جان باقی ہے، دی نہیں ہے مگر سودا ہو گیا۔ یعنی علی (ع) نے جب یہ اقدام کیا تو یہ جان علی (ع) کی تھی، انہوں نے اپنی جان خدا کو بیچ دی۔ مگر اس معاملہ کے بعد خدا نے جان علی (ع) سے خرید کر واپس علی (ع) کو دے دی۔ لہٰذا خدا کی رضا کے حصول کی جب بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم جنت و جہنم سے بھی آگے کی بات کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنا ہر قدم اٹھانے سے پہلے سوچنا ہو گا کہ آیا خدا ہم سے راضی ہو گا یا نہیں۔

آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ جب انسان خدا کی رضا کا طالب ہوتا ہے، اقدام کرتا ہے تو خدا اس کو سلامتی کے راستے دکھاتا ہے۔ ظلمات و تاریکیوں سے نکال کر نور و نورانیت کی طرف لے آتا ہے۔ جب ایسا شخص نور میں آ جاتا ہے تو حق و باطل کی پہچان کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایسے شخص کو خدا صراط مستقیم کی جانب رہنمائی فرمائے گا۔ لہٰذا ہم سب کا خصوصاَ نوجوانوں کا اٹھنا بیٹھا، خاموشی و فریاد کرنا، ہر چیز خدا کی رضا کی خاطر ہونا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ جو اس مقام پر پہنچے رسول اللہ (ص) کی پیروی و اطاعت کے ذریعے، خدا اس سے راضی ہوتا ہے اور یہ خدا سے راضی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو چیزیں خدا کی رضا کے حصول کا سب بنتی ہیں، ایک ہمارے قلب کی کیفیت اور دوسری اس قلبی کیفیت کے مطابق عمل۔ ورنہ انسان جتنا بھی زبان سے بیعت بیعت کر لے، خدا لوگوں کے دلوں سے واقف ہے، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ آج رضائے الٰہی کا راستہ حضرت امام زمان (عج) و رہبر کے ساتھ حقیقی بیعت ہے۔ خدا کی رضا کے حصول کیلئے ایک مرحلہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اپنے رہبر کے ساتھ حقیقی و سچی بیعت کرے، رہبر کی پیروی کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رہبر کی حقیقی پیروی کی گئی تو آپس میں اختلاف کبھی نہیں ہو گا، اتحاد رہے گا، ڈرامہ بازیاں ختم ہو جائیں گی، سب ایک ہو جائیں گے۔ لہٰذا اگر معاشرہ زندہ رہنا چاہتا ہے اور کامیابی سے آگے بڑھنا چاہتا تو سوائے اس کے کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ اپنے رہبر کی سچی بیعت کرے۔ اسی لئے ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ روزانہ دعائے عہد سے اپنی صبح کا آغاز کرو، امام زمانہ (عج) سے عہد کرو کیونکہ اس سچے عہد کے ذریعے ہی خدا مومنین سے راضی ہوا ہے۔

آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے ایرانی معاشرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا معاشرہ ایک پرسکون معاشرہ ہے، کیونکہ خدا کی رضا ہے، بیعت رہبر ہے۔ اب ایرانی معاشرہ ایسا معاشرہ نہیں کہ جہاں ہر شخص ٹینشن کا شکار ہو، ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑے پر آمادہ ہو۔ وہاں لوگ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن چاہتا ہے وہ اس ﴿ایرانی﴾ معاشرے وہ اطمنان اور سکون چھین لے جو خدا نے انہیں دیا ہے اور دشمن معاشرے کو مضطرب کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واضح رہے کہ سکون حاصل کرنے کی شرط آپ کے دل کی طہارت و سچائی ہے۔ اس سکون کا انعام خود نزدیک حاصل ہونے والی کامیابی ہے۔

آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ جب آپ رہبر کی پیروی کریں گے، حقیقی معنی میں بیعت میں آئیں گے تو نتیجہ خدا کی رضا ہے، زندگی کا آسان گزرنا، دیگر بہت ساری غنیمتیں جن میں خود وحدت، آپ کا اتحاد، آپکی محبت وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ وہ کام انجام دیں جو خدا ان سے طلب کرتا ہے تو وہ بھی غنیمتیں دینے میں تعجیل کرتا ہے۔ خدا تم تک دشمنوں کے ہاتھوں کو پہنچنے سے روک دیتا ہے۔ دشمنوں کے چھپے ہوئے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیتا ہے، وہ والے چھپے ہوئے ہاتھ جو تمہارے درمیان اختلاف ڈال کر غنیمت خود حاصل کرنا چاہتے ہیں، خدا ان ہاتھوں کو کاٹ دیتا ہے۔ لہٰذا ایک راستہ رضائے الٰہی کا یہ کہ حقیقی معنی میں پورے وجود کے ساتھ، قلبی طہارت و پاکیزگی کے ساتھ رہبر کی بیعت و پیروی کی جائے۔ بس ہمیں خدا کی رضا کے حصول کیلئے راستہ دکھایا گیا ہے۔

آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ خداوندعالم بیان فرماتا ہے کہ جو یہ کہے کہ میں خدا اور آخرت پر ایمان رکھتا ہوں اور اس کے باوجود دوسروں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ملائے۔ یعنی کہ اس بات کا اقرار کرتے ہوئے کہ ہم خدا و آخرت ر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے باوجود ان لوگوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں جو خداوندعالم کے مقابلے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ جو خدا کے رسول کے مقابلے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ کر تعلقات بناتے ہو، ان کے ساتھ اپنا اتحاد بناتے ہو۔ چاہئے وہ ان کے آباﺅاجداد، اولاد، بھائی ہی کیوں نہ ہو یا ان کے قوم، قبیلے والے ہوں۔ مومن وہ ہے جو ان تمام چیزوں کے مقابلے میں یعنی خدا کے مقابل تمام چیزوں کے خلاف کھڑا ہو جائے۔ جیسا کہ رسول اکرم (ص)، خدا کے مقابلے پر کھڑے اپنے قبیلے کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ لہٰذا خدا کی رضا تک پہنچا ہی نہیں جا سکتا سوائے اس کی اطاعت کے۔

آیت اللہ سید ابوالفضل بہاؤالدینی نے کہا کہ حدیث قدسی میں ہے کہ جو میری رضا کا طالب ہوگا میں اسے تین چیزیں عطا کروں گا۔ اول، اسے ایسے شکر کی معرفت دونگا کہ جس میں جہل کی معرفت نہ ہو گی، یعنی ایک عالمانہ شکر۔ انہوں نے کہا کہ شکر کی اعلیٰ ترین منزل ہے کہ جس میں انسان عملاَ شکر ادا کرتا ہے۔ یعنی خداوندعالم نے جو نعمت مجھے عطا کی ہے اس نعمت کو اس کی جگہ پر خرچ کروں یہ عالمانہ شکر ہے۔ مثلاَ انسان کے اپنے اعضاء و جوارح سے خدا کی رضا کے مطابق کاموں کو انجام دینے کو، ان نعمتوں پر عالمانہ شکر ادا کرنا کہیں گے۔ دوسری چیز جو خدا اس کو عطا فرمائے گا، ایسا ذکر اسے سکھا دے گا کہ جس میں بھولنے کا عارضہ نہیں ہو گا۔ ایسا شخص آفس میں ہوگا خدا کی یاد میں ہو گا، کلاس میں ہو گا خدا کی یاد میں ہو گا۔ بازار میں چل رہا ہو گا خدا کی یاد میں ہو گا۔ سیاسی کاموں کو انجام دے گا خدا اس کی یاد میں ہو گا۔ تنظیمی کاموں میں ہو گا، خدا اسے یاد رہے گا۔ اجتماعی، معاشرتہ کاموں میں ہو گا خدا اسے یار رہے گا۔ تیسرا انعام جو خدا اس شخص کو دیے گا وہ یہ کہ اپنی ایسی محبت اس شخص کے دل میں ڈال دے گا کہ پھر اس محبت کے ذریعے دنیا کی کسی چیز کی محبت اس محبت پر غالب نہیں آ سکتی۔ لہٰذا ہمیں چاہئیے کہ ہر وقت خدا کی رضا کی تلاش میں رہیں۔
خبر کا کوڈ : 254447
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے