0
Thursday 23 Jan 2014 17:09
کراچی بھر میں ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کے تحت احتجاجی دھرنے جاری

سانحہ مستونگ کے تانے بانے امریکا و اسرائیل جا کر ملتے ہیں، مقررین کراچی دھرنا

نواز شریف پاکستان کی بجائے طالبان کے وزیراعظم کا کردار ادا کر رہے ہیں
سانحہ مستونگ کے تانے بانے امریکا و اسرائیل جا کر ملتے ہیں، مقررین کراچی دھرنا
رپورٹ: ایس زیڈ ایچ جعفری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے مستونگ میں ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر ہونے والے بم دھماکے کیخلاف پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح کراچی بھر میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے، ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کے تحت مرکزی دھرنا کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر دیا گیا ہے جبکہ شہر بھر میں نیشنل ہائی وے ملیر 15، ناتھا خان، اسٹار گیٹ، تین تلوار، شاہراہ پاکستان انچولی، عباس ٹاؤن، گلشن اقبال، گلستان جوہر، رضویہ سوسائٹی، نیو رضویہ، پہلوان گوٹھ، 5 اسٹار چورنگی ناظم آباد سمیت بارہ سے زائد مقامات پر بھی احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔
 
احتجاجی دھرنوں میں خواتین اور بچوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہے۔ شرکائے دھرنا کی جانب سے شیعہ نسل کشی کیخلاف شدید نعرے بازی جاری ہے۔ نمائش چورنگی پر جاری مرکزی دھرنے میں نظامت کے فرائض مولانا سید حسن ظفر نقوی اور آغا مبشر حسن ادا کر رہے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ خانوادہ شہداء کے مطالبات کو فی الفور تسلیم کیا جائے اور بلوچستان کے علاقوں مستونگ، دشت، اختر آباد میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ آپریشن سمیت ملک بھر میں تکفیری دہشتگرد عناصر خصوصاً طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا جائے۔
 
شرکاء سے علامہ سید حسن ظفر نقوی، علامہ شیخ حسن صلاح الدین، علامہ اصغر حسین شہیدی، علامہ عقیل موسیٰ، علامہ موسیٰ کریمی، علامہ علی انور جعفری، ایم ڈبلیو ایم کراچی کے سیکرٹری جنرل حسن ہاشمی، آئی ایس او کراچی کے صدر آل علی، علامہ مبشر حسن، سمیت دیگر رہنماوں نے خطاب کیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فردوس شمیم نقوی اور رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے بھی احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کیا اور تکفیری دہشتگرد لشکر جھنگوی کی کھلے الفاظ میں مذمت کی۔ تحریک انصاف کے رہنماء فردوس شمیم نقوی اور خرم شیر زمان نے کہا کہ پاکستان بھر میں دیئے گئے دھرنوں کے شرکاء کے مطالبات فی الفور تسلیم کئے جائیں اور ملک بھر میں جہاں جہاں دہشتگردانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں اور عناصر ان کارروائیوں کا اعتراف کر رہے ہیں ان دہشتگرد عناصر کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پارٹی پالیسی کے مخالف جا کر یہ بیان دیا ہے۔

مختلف مقامات پر جاری احتجاجی دھرنوں سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام اور رہنماؤوں نے کہا کہ موجودہ نواز حکومت اور اس کے سربراہ نواز شریف پاکستانی مظلوم عوام کی آواز بننے کی بجائے پاکستان میں عالمی استعمار امریکا، اسرائیل اور اسلام کے خائن سعودی عرب کے ناپاک مفادات کا تحفظ کرنے والے تکفیری دہشتگرد طالبان کے حامی ہونے اور ان کے اشاروں پر ناچنے کا ثبوت دیا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم ہونے سے زیادہ وہ طالبان کے وزیراعظم ہونے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سانحہ مستونگ اور ملک بھر میں جاری دہشتگردی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔

علماء کرام اور رہنماؤں نے کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے اگر پاکستان اور اسکی عوام کے وفادار ہیں تو انہیں اپنی مجرمانہ خاموشی کو توڑ کر ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل اسلام و پاکستان دشمن تکفیری دہشتگرد طالبان کیخلاف فوجی آپریشن کا اعلان کرنا ہو گا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ماضی میں ملکی خفیہ ایجنسیوں نے امریکی مفادات کے تحت نام نہاد افغان جہاد کے موقع پر جن عناصر کی پرورش کی تھی، آج وہ ملک عزیز پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے خطرہ بن چکے ہیں لہٰذا ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے اسلام و وطن دشمن دہشتگرد طالبان خوارج کیخلاف کریک ڈاؤن اور بےرحمانہ فوجی آپریشن کا آغاز کیا جائے اور دہشتگردوں کے نیست و نابود ہونے تک فوجی آپریشن کو جاری رکھا جائے۔
 
رہنماؤں نے کہا کہ سانحہ مستونگ کی ذمہ دار وہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہیں جو ہزاروں بےگناہ پاکستانیوں کے قاتل طالبان دہشتگردوں سے مذاکرات کی بات کرکے ان کی جنایت کاریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں، یہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنی پالیسی کو واضح اور اپنا قبلہ درست کریں اور ملکی بقاء و سالمیت کو چیلنج کرنے والے، پاک فوج، مساجد، امام بارگاہوں، درگاہوں اولیاء کرام کے مزارات اور ہزاروں بےگناہوں کا خون بہانے والے طالبان دہشتگردوں سے اظہار برٲت کریں ورنہ پاکستان بھر کی مظلوم عوام ان جماعتوں کو اسمبلیوں میں جانے سے روکے گی۔ 

احتجاجی دھرنوں سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ کراچی میں بھی تکفیری اور لسانی دہشت گردوں کا راج ہے، نام نہاد آپریشن کے نام پر کئی افراد کی گرفتاریاں کرنے والے ایڈیشنل آئی جی اب تک ٹارگٹ کلنگ پر قابو پانے میں ناکام ہیں، محب وطب سنی شیعہ مسلمانوں کی شہادت سندھ حکومت، پولیس اور رینجرز میں شامل کالی بھیڑوں کی طالبان دہشت گردوں سے ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ رہنماؤں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وزیراعظم نواز شریف، چیف جسٹس تصدق گیلانی سے مطالبہ کیا کہ ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ملک بھر میں بالخصوص بلوچستان کے علاقوں مستونگ، دشت، اختر آباد میں دہشت گردوں کے خلاف فی الفور فوجی آپریشن کرے۔
 
مقررین نے مزید کہا کہ عالم اسلام خصوصاً وطن عزیز پاکستان میں عالمی استعمار امریکا اور اسکے اتحادی مغربی و عرب ممالک کی ایماء پر انتہاءپسند و شدت پسند تکفیری سوچ کو پروان چڑھا کر دنیا بھر میں اسلام ناب محمدی کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔  سانحہ مستونگ کے تانے بانے امریکا و اسرائیل سے جا کر ملتے ہیں اور انہیں کے نمک خوار مقامی ایجنٹ ملک بھر میں دہشتگردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں جاری احتجاجی دھرنوں میں سنی شیعہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب و مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت نہیں ہے بلکہ امریکی و اسرائیلی ایماء پر تکفیری سوچ رکھنے والے دہشتگرد بارود کے ذریعے اپنی خود ساختہ اور اسلام سے متصادم شریعت کا نفاذ کرنا چاہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 344183
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب