0
Tuesday 31 Mar 2015 16:15
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے منصوبے ناکامی کا شکار ہوں گے

یہود و نصاری کی خواہش پر بنائی گئی فورس خود کو عربی کہلانے کا حق نہیں رکھتی، آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی

یہود و نصاری کی خواہش پر بنائی گئی فورس خود کو عربی کہلانے کا حق نہیں رکھتی، آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی
اسلام ٹائمز- مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے یمن اور خطے کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں قم المقدسہ سے اپنے پیغام میں چند اہم نکات کی جانب اشارہ کیا ہے۔ اس پیغام کا اردو ترجمہ اسلام ٹائز اردو کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جب سے اسلامی ممالک میں بسنے والی مسلمان اقوام، اپنی خودمختاری اور وقار کی بحالی اور صہیونی رژیم، عالمی استکباری قوتوں اور ان کے پٹھو حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کا عزم کر چکی ہیں، عالمی استکباری قوتوں، خاص طور پر امریکہ نے اپنے مفادات اور تسلط پسندی کیلئے خطرے کا احساس کرتے ہوئے بعض اسلامی ممالک میں سلفیت، داعش اور بوکوحرام جیسے گروہوں کو تشکیل دینا شروع کر دیا اور اس کام کیلئے دوسری اقوام کا خون چوسنے اور ان کے خام تیل اور گیس کے ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدن کو ہی صرف کیا۔ مغربی طاقتوں سے وابستہ ان تکفیری گروہوں نے شام، لبنان، عراق اور بحرین جیسے ممالک میں انتہائی بربریت اور وحشیانہ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین، بچوں اور بے گناہ انسانوں کے قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ خود کو خادم الحرمین شریفین کہلوانے والی حکومت، جو ہر سال کروڑوں کی تعداد میں قرآن کریم کے نسخے چھپوا کر انہیں دنیا بھر میں بھیجتی ہے اور اس طرح خود کو اسلام کی پناہ گاہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے، خود میدان میں کود پڑی اور اسلامی ملک یمن کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنا ڈالا۔ یمنی عوام کا جرم صرف اتنا سا ہے کہ انہوں نے اپنی خودمختاری اور تسلط پسندانہ عزائم رکھنے والی قوتوں سے آزادی کا عزم کر لیا ہے۔ 
 
سعودی حکومت نے یمن پر جارحیت کے دوران شرمناک جرائم کا ارتکاب کیا اور کئی دوسرے اسلامی ممالک کو بھی اپنے ساتھ ملا رکھا ہے جبکہ عالمی استکباری قوتیں بھی اسے شہ دینے اور اس کی حمایت کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر ان کے دل میں اسلامی ممالک سے اس قدر ہمدردی موجود ہے تو جب شام، لبنان اور عراق پر دہشت گردانہ حملے شروع ہوئے تو اس وقت خاموشی کیوں اختیار کی؟ اور بحرین کے بارے میں کیوں کچھ نہ بولے؟ مظلوم فلسطینی عوام پر اسرائیل کی وحشیانہ بربریت پر خاموش کیوں رہے؟ 
 
آج یہ عرب حکمران مصر کے شہر شرم الشیخ میں بیٹھ کر اجلاس تشکیل دیتے ہیں اور عرب فورس بنانے کی باتیں کرتے ہیں۔ انہیں اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ امریکہ اور صہیونی رژیم کی خواہش پر بننے والی فورس کو عربی فورس نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ درحقیقت "استکباری اور صہیونی فورس" ہے۔ مسلمان جاگ چکے ہیں اور امریکہ اور اس کے پٹھووں کے منصوبے خاک میں مل کر رہیں گے۔ اقوام عالم اور مستضعفین جہان عالمی استکباری قوتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ہماری اس بات کی بنیاد اسلام اور قرآن کریم پر استوار ہے۔ ہم ان حملوں اور جرائم کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر قوم کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے اور مستضعفین انشاءاللہ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔
إِنْ تَنْصُرُوا اَللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ أَقْدٰامَكُمْ 
حسین نوری ہمدانی
۹ جمادی الثانی ۱۴۳۶ (۳۰ مارچ ۲۰۱۵ء)
    
خبر کا کوڈ : 451165
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب