0
Saturday 7 May 2011 12:38

آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا امریکہ کے دورے پر روانہ، کسی وقت بھی مستعفی ہو سکتے ہیں، امریکی میڈیا

آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا امریکہ کے دورے پر روانہ، کسی وقت بھی مستعفی ہو سکتے ہیں، امریکی میڈیا
اسلام آباد:اسلام ٹائمز۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اہم مشن پر امریکا امریکا پہنچ گئے۔ وہ امریکی حکام کے سامنے اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے پوزیشن کی وضاحت کریں گے۔ آئی ایس آئی سربراہ امریکا کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین بھی جائیں گے۔ عسکری ذرائع نے جنرل شجاع پاشا کے امریکا سعودی عرب و دیگر ممالک کے دورے کی تصدیق سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب دورے کی تفصیل بتاتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا پاکستانی فوجی ہائی کمان کی جانب سے اسامہ کی موجودگی سے ناکامی کے اعتراف کے اگلے ہی روز روانہ ہوئے ہیں اور جانے سے قبل انہوں نے آرمی چیف سے بھی ملاقات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل شجاع پاشا کا دورہ پاکستان پر امریکا کا اعتماد بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کی تفصیلات صیغہ راز میں رکھی جا رہی ہیں۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک بھی سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔
ادھر پاکستانی اسٹبلشمنٹ کی طرف سے تنقید کی وجہ سے جنرل پاشا کسی بھی وقت استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ نیوز ویک کی سائٹ "دی ڈیلی بیسٹ" کے مطابق بن لادن کے معاملے پر جنرل پاشا عہدہ چھوڑتے نظر آ رہے ہیں۔ اخبار نے اعلیٰ حکام کے حوالے سے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک اہم سر براہ جانے کو ہے اور قوی امکان پاشا کے جانے کا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کی جاسوس ایجنسی اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں ناکامی یا امریکی حملے میں اس کی ہلاکت پر غیر معمولی عوامی تنقید کا سامنا کر رہی ہے اور اس کے موٴثر اور طاقتور سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع احمد پاشا پر دباوٴ ڈال رہی ہے کہ وہ ذمہ داری قبول کر کے استعفیٰ دیں۔ 
اخبار کے مطابق امریکی آپریشن کے نتیجے میں پاکستان کی سب سے اعلیٰ ترین خفیہ ایجنسی پر تنقید سے قومی اعتماد کو دھچکا لگنا ایک ڈرامائی تبدیلی ظاہر کرتا ہے۔ چوہدری نثار کی طرف سے کسی اعلیٰ عہدے دار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ کا مطالبہ آیا، حکومت نے اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی، ہلاکت اور امریکی حملے کی تحقیق شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم اس معاملے پر آئی ایس آئی نے کوئی بات نہیں کی۔ اگرچہ جنرل پاشا نے امریکی دباوٴ کا مقابلہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اب سی آئی اے کی طرف سے ڈرون حملوں میں اضافے اور ہلاکتوں کے بعد آئی ایس آئی نے امریکا کے ساتھ تعاون پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے جنرل پاشا پر افغانستان میں عسکریت پسندوں کی مدد کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ آئی ایس آئی القاعدہ یا طالبان کے ساتھ تعاون کے تمام مبینہ الزامات کی تردید کرتی ہے۔ 
امریکی اخبار کے مطابق جنرل پاشا کی پوزیشن اب محفوظ نہیں ہے، جنرل پاشا کی قسمت پر اثر انداز ہونے میں عوامی غصے سے زیادہ فوج کے بااثر اعلیٰ جنرلوں اور کور کمانڈروں کی مایوسی ہے۔ امریکی دفاعی حکام کے مطابق پاکستان کے کور کمانڈرز غصے میں ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ جو کچھ ہوا،اس کے بارے کوئی آگاہ تھا۔ بھارتی نشریاتی ادارے نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا اپنا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 70287
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب