0
Wednesday 28 Mar 2012 19:47

کشمیر کی رُوداد ۔۔۔آشیاں لٹا ہر بہار میں

کشمیر کی رُوداد ۔۔۔آشیاں لٹا ہر بہار میں

تحریر:جاوید عباس رضوی
 
21 مارچ (نوروز عالم ) جہاں دنیا کو بہار کی دستک دیتا ہے ساتھ ہی ساتھ اس دن کو امن و آشتی، انسیت و سلامتی سے بھی موسوم کیا جاتا ہے، اس دن ساری دنیا میں ایک دوسرے کے حق میں دعائیں طلب کی جاتی ہیں، ایک خاص جشن کا سماء ہوتا ہے، اپنوں کے ساتھ ساتھ غیروں کے گلے شکوے بھی نظر انداز کئے جاتے ہیں، اس اپنائیت کے احساس میں محو ہوکر ایک دوسرے کو نئے دن (نوروز) نئے بہار اور نئی امنگ کی مبارکباد دی جاتی ہے، موسم سرما کی طویل مدت ختم ہوتے ہی بہار کی کرن محسوس ہوتی ہے تو نوروز آن پڑتا ہے۔

دنیا کے لئے یہ دن خوشیاں لے کر آتا ہے، امن و سکوں لے کر آتا ہے لیکن افسوس کہ کشمیری مظلوم عوام اب بھی خوشیوں سے دور ہیں، اب بھی یہاں کی بستیاں ویران پڑی ہوئی ہیں، اب بھی یہاں کے لوگ بھارتی ظلم و ستم کے شکنجے میں پسے جارہے ہیں، اس بہار میں بھی کشمیر کی گلیوں میں بھارت کی جانب سے قتل و غارت جاری و ساری ہے، اس بہار میں بھی قاتلوں کو طرح طرح کے انعامات و کرامات سے نوازا گیا، اب بھی کشمیری قوم کو دن میں سکون نہ راتوں میں نیند میسر ہے، اب بھی ہماری عصمت، ہماری ناموس کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے، اس بہار میں بھی بھارت کی خونین تلوار ہماری گردنوں پر لٹک رہی ہے، آج بھی بھارت کے قید خانے کشمیری نوجوانوں سے بھرے پڑے ہیں۔
 
اس بہار میں بھی یہاں کے کھیت کھلیانوں پر سے بھارتی فوج کا قبضہ نہیں ہٹا، اب بھی ہمارے بچے و بزرگ گھروں میں سہمے رہتے ہیں، اب بھی ہمارے قاتل سرعام گھوم رہے ہیں، آج تک ہمارے وطن عزیز نے کوئی بہار نہیں دیکھی، آج بھی وادی کشمیر میں لوگوں کی جان، مال اور عیال و ایمان خطرے سے دوچار ہیں، آج بھی ہمارے جلوس ہائے عزاء پر بھارتی افواج کے ذریعے گولیاں و لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں، اب بھی وادی گلپوش کا فرد فرد خوشیوں کو ترس رہا ہے، اب بھی کشمیر میں ہزارہا گمنام قبروں کا وجود ہے، آج بھی یہاں کی مائیں اپنے گمشدہ لخت ہائے جگر کو تلاشنے میں اپنی بینائی سے محروم ہوجاتی ہیں۔

اے دنیا کے با شعور و باحس لوگو! کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارا حال کیا ہے؟ ہمیں کس جرم میں مارا جا رہا ہے؟ ہمیں کس ناکردہ جرم کی سزاء دی جارہی ہے؟ آج بھی اس ظلم و ستم، تشدد و بربریت پر عالم اسلام خاموش و تماشائی ہے، میرے عزیز کشمیر میں اب بھی سر عام ماں، بہنوں کی عصمت تار تار کی جارہی ہے، اس بہار میں بھی ہمارے گھر ہمارے آشیاں جلا دئیے گئے، ہمارے نصیب میں بہار کہاں، خوشیاں کہاں، سکون کہاں اور آرام کہاں، ہر چہار سمت شبِ ظلمت ہے اور بس۔

 غلط ہے سراسر غلط ہے بھارت کا یہ کہنا کہ کشمیر سے کنیاکمارے(بھارتی شہر کا نام) تک بھارت ایک جیسا ہے، بہت جداگانہ اور بہت الگ ہے میرا کشمیر، بہت ہی غمناک ہے داستان میرے کشمیر کی، کشمیر میں تو مارا ماری ہے، کنیا کماری میں تو شہنشاہی ہے، کشمیر کا کوئی گھر ایسا نہیں جو پچھلے 60 سالہ بھارتی تشدد کا شکار نہ ہوا ہو، میرے وطن عزیز میں تو اب بھی خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے، میرے وطن کا ذرہ ذرہ آزادی و خودمختاری کے لئے سالہا سال سے خون کے آنسو بہا رہا ہے، میرا کشمیر تو مثل فلسطین ہے، میرا کشمیر تو مثل کرب و بلا ہے، یہ سر زمین تو نینوا سے مشابہت رکھتی ہے۔

خزاں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا اس گلستان نے، اس چمن نے صرف پرندوں کے پَر جلتے ہوئے دیکھے ہیں، اس چمن کو اہلیان چمن نے ہمیشہ اپنے تازہ لہو سے سینچا ہے، اس گلستان کے ہر گوشے میں گمنام لاشوں کا مدفن ہے۔ اس سر زمین پر بھارت کا جمہوری عریاں رقص ساٹھ سال سے اپنے مد و شد کے ساتھ رواں ہے، اس دوران بھارتی حکمرانوں کی حتیِ الامکان یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر عوام کو سرے سے ختم کیا جائے، اس ہدف کی تکمیل کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا رہے ہیں، افسوس کہ ہماری آہ و فغاں کوئی نہیں سنتا، پچاس سے زائد قرار دادیں یو این او میں مقبوضہ کشمیر کی پڑی ہوئی ہیں لیکن اسکو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔

کشمیر جو قدرتی ذخائر کا انمول علاقہ ہے، بھارت اپنے خونیں پنجوں سے اس سرمایہ کو طویل مدت سے لوٹ رہا ہے اور اہل کشمیر کو بنیادی سہولیات زندگی سے محروم رکھا جاتا ہے، اس کے علاوہ ہماری مقدس سرزمین پر بھی بیرون ریاست کے ہندوں کو بسایا جاتا ہے وہ ہندو کہ جن کا کوئی کلچر، کوئی ثقافت ہی نہیں۔ ایسے بے تمدن ہندووں کو یہاں بسا کر بھارت وادی کشمیر کی مقدس تہذیب و تمدن کو بگاڑنا چاہتا ہے، بھارتی دہشتگرد حکومت موساد کی مدد سے کشمیر میں روز بروز قتل غارت کے نئے حربے آزماکر تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کی ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہے، بھارت کشمیری عوام کی نسل کشی کے لئے کثیر تعداد فوج کے علاوہ کئی سالوں سے اسرائیل کی رہنمائی بھی حاصل کررہا ہے اور اسرائیل بھارت کو وہ سبھی ہتھیار و ہتھکنڈے فراہم کر رہا ہے جو وہ مظلوم فلسطینی عوام کو دبانے و کچلنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

       پنجہ  ظلم و ستم  نے  بُرا حال کیا
      بنکر مقراض ہمیں  بے پَر وبے بال کیا
       توڑ  اس  دست  جفا کش  کو  یا رب
      جسنے رُوح آزادی کشمیر کو پامال کیا

خبر کا کوڈ : 148581
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش