0
Friday 17 Aug 2012 08:04

دہشت گردی کی ایک اور واردات

دہشت گردی کی ایک اور واردات
تحریر: تصور حسین شہزاد

ضلع اٹک میں واقع کامرہ ایئربیس پر رمضان المبارک کی 27 شب 2بجکر دس منٹ پر دہشت گردوں کے گروہ نے اچانک حملہ کر دیا، جن کی سرکوبی کرتے ہوئے ایس ایس جی کے کمانڈوز نے فوری جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک اور ایک کو زندہ گرفتار کر لیا۔ حملہ آوروں کی تعداد گیارہ تھی جو پاک فضائیہ کی وردیوں میں ملبوس تھے اور انہوں نے خودکش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔ دہشت گردوں کے پاس ’’راکٹ پر وپلڈگرنیڈ‘‘ (آر پی جی) اور جدید خودکار ہتھیار تھے۔ 

پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق جوابی کارروائی میں فضائیہ کے دو اہلکار شہید جبکہ تین زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں جوابی کارروائی کی قیادت کرنیوالے آفیسر ایئرکموڈور بھی شامل تھے جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ چودہ اگست کی فوجی پریڈ سے آرمی چیف کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ قرار دینے کی اخباری سرخیوں کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ دہشت گردوں نے اس بیان کا عملی جواب دینے کے لئے کامرہ میں راشد منہاس شہید ایئر بیس پر بھرپور حملہ کرکے ایک طرح سے پاک فوج کی دعوت مبارزت قبول کرکے بھرپور مزاحمت کا عندیہ دے دیا ہے۔

دہشت گردی کی یہ واردات امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا کے اس بیان کے فوری بعد کی گئی، جس میں لیون پینیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان نے اگر دہشت گردی کو کنٹرول نہ کیا تو اس کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع کی تنبیہ، آرمی چیف کا عزم اور دہشت گردی کی تازہ ترین سنگین واردات بیک وقت پیش منظر پر ابھر کر اہل پاکستان کو وطن عزیز کے مستقبل اور سالمیت کے بارے میں تشویش میں مبتلا کر رہے ہیں۔ پاکستان نے امریکا کی طرف سے اپنے سر تھوپی جانے والی وار آن ٹیرر میں کود کر جو زبردست غلطی کی تھی اس نے ہمارے گلے پڑ کر ہمیں یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ یہ جنگ ہماری جنگ ہے اور ہم آئین اور قانون کی سرتابی کرنے والے اپنے ہی بھائی بندوں سے نبرد آزما ہونے پر مجبور ہیں۔ 

نتیجہ یہ ہوا کہ ان بھائی بندوں نے ہمارے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کرنے کا اشارہ دے دیا ہے اور کامرہ ایئربیس پر حملہ ایسی ہی کارروائی ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ خفیہ رپورٹوں میں حکومت کو پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ سکیورٹی اداروں اور پاک فضائیہ و نیول بیسز پر دہشت گردوں کے حملے کے خطرات ہیں، مگر حسب عادت ان اطلاعات کو معمول کی کارروائی جان کر نظر انداز کر دیا گیا اور آج جب واردات ہو گزری تو ملک کے تمام ایئر بیسز پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔

’’سکیورٹی ہائی الرٹ‘‘ ہمارے ہاں ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے، پاکستان میں کسی فوجی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ مئی دو ہزار گیارہ میں شدت پسندوں نے کراچی میں بحریہ کے مہران بیس پر حملہ کرکے دس اہلکاروں کی جان لی تھی، 2009ء میں جی ایچ کیو پر دہشت گردوں نے قبضہ کیا اور بائیس گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں 22 لوگ مارے گئے تھے۔ 2009ء میں کامرہ ایئر بیس کی حفاظتی چوکی پر ایک دہشت گرد نے خودکش دھماکہ کیا تھا۔ ہر بار ہم سکیورٹی ہائی الرٹ کر کے سو جاتے ہیں۔ اتنے حساس مقامات جن کے قریب سے عام سول آدمی کا گزر تک ممکن نہیں، وہاں دہشت گردوں کا اندرون تک مار کر لینا ہمارے سکیورٹی نظام پر ایک طمانچہ ہے اور بدقسمتی ہے ہم ہر بار ایک طمانچہ کھانے کے بعد اپنا دوسرا گال آگے کر دیتے ہیں۔

کامرہ ایئربیس کوئی ایسی عام جگہ نہیں جہاں ہم نے اتنی غفلت کا مظاہرہ کیا کہ دہشت گردوں کی ایک پوری ٹولی اس کے اندر تک گھس آئی اور ایئر بیس کے ہینگرز میں گھسنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز کی فوری جوابی کارروائی نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ البتہ ایئربیس کی عقبی دیوار کے باہر سے دستی بموں کی مدد سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کو سخت نقصان پہنچا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے اہم ترین حساس مقامات کتنے محفوظ ہیں؟
 
اس تناظر میں امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا کا بیان ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے سکیورٹی اداروں کا اعتماد متزلزل کرنے کی مکروہ سازش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کرنے کا اہل نہیں اور یہ ہتھیار دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ کے پوری دنیا کے لئے مصیبت کھڑی کر سکتے ہیں۔

پاکستانی حکام کو ان سازشوں کا توڑ کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ کامرہ ایئربیس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا جائزہ لیا جائے تو دل کو ہاتھ پڑتا ہے کہ اتنا احساس مقام کہ جہاں چین کے تعاون کے ساتھ جے ایف تھنڈر 17- طیاروں کی تیاری کی جاتی ہے اور اس کام کے لئے چینی انجینئرز کی ایک بڑی تعداد یہاں رہتی ہے، پھر یہاں اواکس طیارے، میراج پانچ روز ڈبل آئی اور ایف سیون پی طیارے کھڑے ہوتے ہیں، یوکرائن سے لیے گئے۔ چار، آئی ایل سیونٹی ایٹ جہاز جن میں سے ایک کو نقصان پہنچا ہے، موجود ہیں، وہاں دہشت گردوں کا داخلہ روکنے کے لئے اقدامات میں غفلت برتنا چہ معنی دارد۔؟
 
رپورٹس کے مطابق کامرہ ایئر بیس کے گردونواح میں 6 گنجان آباد گاؤں ہیں اور کل شب حملے کے بعد جب آس پاس کے علاقوں کا سرچ آپریشن کیا گیا تو کئی مشتبہ افراد کو یہاں سے گرفتار کیا گیا اور ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کا موبائل فون بھی جھاڑیوں میں پڑا مل گیا، امید ہے کہ اس کے ڈیٹا سے کافی مفید معلومات بھی ملیں گی، مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ دہشت گرد ہمارے آبادیوں میں آ کر رہائشیں رکھ کر باقاعدہ منصوبہ کرکے اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں تو ہم اس کے سدباب کے لئے قبل از وقت بندوبست کیوں نہیں کرتے۔؟

اب اسی واردات کو دیکھیے دہشت گردوں نے منہاس ایئر بیس میں داخلے کے لئے بیس کی عقبی دیوار پھلانگی، جس طرف پنڈ سلیمان مکھن نامی گاؤں آباد ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران جہاں سے مشتبہ افراد بھی پکڑے گئے ہیں، اس گاؤں کے علاوہ بیس کی دس بارہ کلومیٹر لمبی حد کے ساتھ چھ سات گنجان آبادیوں میں نہ جانے کتنے اور ممکنہ دہشت گرد رہائش رکھ کر اس جگہ کا جائزہ لیتے رہے ہوں گے اور ان میں سے ایک پارٹی گزشتہ رات اپنی منصوبہ بندی میں کامیاب ہو گئی، جس کے گیارہ افراد اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 

بے شک یہ سارے دہشت گرد جوابی کارروائی میں ہلاک کر دیئے گئے، مگر وہ مرتے مرتے اپنا کام کر گئے کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کی اہلیت کے بارے میں دنیا کے شکوک و شبہات کو درست ثابت کر گئے۔ اب ہم بے شک بیٹھے لکیر پیٹتے رہیں مگر ہم قوم کو اس نفسیاتی دباؤ سے جلد باہر نہیں نکال سکتے، جو ہمارے سکیورٹی اداروں کی نااہلی کے سبب ان کے اذہان کو قابو میں کیے ہوئے ہے۔
 
پاک فضائیہ کے ترجمان نے بیان جاری کر دیا ہے کہ فضائیہ کے تمام اثاثہ جات محفوظ ہیں، مگر جن ایٹمی اثاثوں پر دہشت گردوں کی آڑ میں امریکہ و بھارت کی نظر ہے، ان کے بارے میں کون تسلی رکھے گا کہ وہ بھی واقعی اتنے محفوظ ہیں کہ کوئی ان کی گرد تک کو نہیں پہنچ سکتا۔ کاش ہمارے ارباب اختیار اقتدار کیلئے باہمی کش مکش چھوڑ کر ملک وقوم کو درپیش اصل خطرات سے نمٹنے کے لئے یکسو ہو جائیں۔
خبر کا کوڈ : 188096
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب