0
Monday 5 Apr 2010 13:41

امریکہ اور ایران فوبیا

امریکہ اور ایران فوبیا
آر اے سید
سامراجی طاقتیں ایک بار پھر ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں بڑھانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ سامراجی طاقتوں کے سرغنہ امریکہ نے تو اپنی پوری وزارت خارجہ کو صرف اسی کام پر لگا رکھا ہے۔ امریکی وزير خارجہ ہلیری کلنٹن جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ صیہونی حکومت کی اجازت کے بغیر پانی بھی نہیں پیتیں،آج کل جس زور و شور سے ایران کے خلاف سرگرم ہیں اس نے ملکہ جنگ کونڈا لیزا رائس کے ریکارڈ کو بھی توڑ دیا ہے یہاں پر ایک معترضہ جملہ کہے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ونیزویلا کے صدر نے رائس اور ہلیری کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونڈا لیزا رائس اور ہلیری کلنٹن میں صرف اتنا فرق ہے کہ ہلیری سنہری بالوں اور گوری چمڑی والی رائس ہے،کام دونوں کا ایک جیسا ہے اور ہدف بھی ایک۔
بات ہو رہی تھی ایران کے خلاف امریکہ کی مہم کی۔امریکہ اپنی تمام تر سفارتی اور غیر سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران کے خلاف فضا تیار کر رہا ہے،سلامتی کونسل کے تمام مستقل اور غیر مستقل اراکین کو مختلف حیلے بہانوں سے ایران کے خلاف پابندیاں بڑھانے پر تیار کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جن دلائل کو سامنے لا کر ایران کے خلاف ووٹ جمع کر رہا ہے،حقیقت میں اسے خود ان دلائل پر اعتماد نہیں ہے۔اسکے اپنے خفیہ اور تحقیقاتی ادارے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی نوعیت کا نہیں ہے،لیکن امریکہ کی تسلط اور جنگ پسندانہ خو اور ایران کا سرتسلیم خم نہ ہونا،دو ایسی بنیادی وجوہات ہیں جسکی بناء پر امریکہ ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے اور سلامتی کونسل میں اسکے خلاف پابندیاں بڑھانے کے لئے تیزي سے سرگرم عمل ہے۔
امریکہ کے انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے نے امریکی کانگریس کو ایک خفیہ رپورٹ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران بالسٹیک میزائل کی تیاری میں خود کفیل ہو گیا ہے۔اس رپورٹ میں مزيد آیا ہے کہ ایران نے شروع میں میزائل بنانے کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کی مدد حاصل کی تھی لیکن اس وقت بالسٹیک میزائل کی صنعت میں مکمل طور پر خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے کسی بھی بیرونی حمایت یا مدد کی ضرورت نہیں ہے۔سی آئی اے کی اس رپورٹ میں آیا ہے کہ ایران کے بالسٹیک میزائل کا پروگرام مشرق وسطی کا سب سے بڑا پروگرام ہے اور ایران نے نزدیک اور درمیانے مار کرنے والے کئی بالسٹیک میزائلوں کے کامیاب تجربے کئے ہیں۔سی آئی اے نے اس بات کی بھی تائید کی ہے کہ ایران گزشتہ سال اگست کے مہینے میں سیٹلائٹ بھی فضا میں روانہ کر چکا ہے جو فضائی شعبے میں ایران کی قابل قدر ترقی و پیشرفت کی علامات ہیں۔امریکی رپورٹوں میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ ایران نے دوسرے ملکوں کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنے ماہرین کے ذریعے ملک میں تیار کرنا شروع کر دیا ہے اور اب وہ اسے برآمد کرنے کی پوزیشن میں بھی آگیا ہے۔
 سی آئی اے کی اس رپورٹ کے علاوہ امریکی کانگریس نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا ہے۔امریکی خفیہ اداروں نے اس رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ایران روس کی مدد سے"ایس تین سو"نامی دفاعی میزائلی نظام پر بھی تیزی سے کام کر رہا ہے۔امریکی کانگریس کی اس رپورٹ میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی بعض حقائق کو تسلیم کیا گیا ہے۔سی آئی اے کی اس تجزیاتی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار نو تک ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔اگرچہ ایران کے سامنے ایٹمی ہتھیار بنانے کا آپشن موجود ہے۔تاہم سی آئی اے اس بات کا قطعی اعلان نہیں کرسکتی کہ آیا ایران ایٹمی ہتھیار بنائے گا یا نہیں۔
امریکہ کے خفیہ اداروں اور آئی اے ای اے کی درجنوں رپورٹوں میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور اس میں کسی قسم کا انحراف نہیں ہے لیکن اسکے باوجود ایران پر آئے روز اقتصادی پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور اسے عالمی سیاست میں تنہا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سی آئی اے کی اس رپورٹ میں جہاں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو دو ہزار نو کے اختتام تک پرامن کہا گيا ہے وہاں اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ امریکی کوششوں سے لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا بھی کوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران دفاعی صنعت میں تمام علاقائی ممالک سے بہت آگئے نکل چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی دفتر نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ ترقی و پیشرفت کے لحاظ سے ایران گزشتہ تین عشروں میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔سی آئی اے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئي ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے گزشتہ روز امریکی اور صیہونی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سنگین عالمی مالیاتی بحران اور سامراجی ملکوں کی جانب سے شدید اقتصادی بائیکاٹ کے باوجود اسلامی جمہوریۂ ایران کو کوئی نقصان نہیں پہنچا،انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ عالمی بحران کے نتیجے میں بڑے بڑے دعوے کرنے والے ممالک کی معیشت دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی اور ان کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر سے ہاتھ دھونا پڑے جبکہ ایران اور چند دیگر ممالک کو مالیاتی بحران سے کم سے کم نقصان پہنچا ہے۔صدر احمدی نژاد کے بقول ایرانی قوم،ماہرین اور ایران کے چاہنے والوں کی بلند ہمتی نے مالیاتی بحران سے پیدا ہونے والے مسائل کو بے اثر کر دیا حالانکہ مغربی ممالک یہ تصور کر رہے تھے کہ ایران بھی بے روزگاری،دیوالیے پن اور کارخانوں کے بند ہونے نیز سرمایہ کاری کے رک جانے کا شکار ہو جائے گا،لیکن دشمن کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔ 
صدر احمدی نژاد نے صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا کہ صیہونی حکومت ناقابل تسخیر ہے لیکن صیہونی حکومت کو لبنان اور پھر غزہ میں ایسی عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔امریکی کانگریس میں سی آئی اے کے اعتراف اور اقوام متحدہ کی اس رپورٹ جس میں گزشتہ تین عشروں میں ترقی و پیشرفت کے لحاظ سے ایران کو دنیا کے پہلے تین ملکوں میں شمار کیا گیا ہے اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سامراجی طاقتوں کی تمام تر سازشوں اور منفی ہتھکنڈوں کے باوجود اسلامی جمہوریۂ ایران نے اپنے انقلابی نظریات پر عمل پیرا رہ کر اور سامراجی طاقتوں کے اقتصادی بائیکاٹ کے باوجود ترقی و پیشرفت کے سفر کو جاری رکھا۔کون نہیں جانتا کہ ایران کے اسلامی انقلاب اور ایران کی غیور مسلمان قوم کو اسلامی انقلاب سے متنفر کرنے اور اس نظام سے دور کرنے کے لئے بیرونی سامراجی طاقتوں نے کیا کیا سازشیں نہیں کیں،اقتصادی بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ آٹھ سال تک جنگ مسلط کی،عالمی سیاست میں تنہا کرنے کےلئے ایران فوبیا کو ہوا دی گئی،اندرونی سیاسی استحکام کو کمزور کرنے کے لئے ایم کے او جیسی دہشت گرد تنظیم کی حمایت کی گئی اور حال ہی میں رنگین انقلاب کے نام پر ایران کے دسویں تاریخی صدارتی انتخابات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے۔لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود ایران کی اسلامی حکومت اور اسکا اسلامی نظام مضبوط و پائیدار اپنی جگہ پر استوار ہے اور پہلے سے زيادہ مضبوطی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔
امریکہ اور اسکے حواری ایک بار پھر عالمی برادری کو ایران کے خلاف پابندیاں بڑھانے پر راضی کر رہے ہیں،لیکن جس قوم نے ترقی وپیشرفت کے عزم بالجزم کا ارادہ کر لیا ہے،اسے اقتصادی پابندیوں اور سیاسی تنہایوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا اور وہ روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا۔اسی لئے ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے عالمی سیاسی تناظر میں ایک بار پھر یہ کہا ہے کہ طاقتور ایران کا مطلب یہ ہے کہ ایران ان قوموں کے لئے جو عزت،آزادی اور عدل و انصاف کی خواہاں ہیں ایسی پناہ گاہ ہے جسے کبھی شکست نہیں ہو سکتی۔

خبر کا کوڈ : 23096
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب