0
Sunday 29 Apr 2012 21:31

تحفظ تشیع کیلئے اب ایسا اجتماع ہوگا کہ پورا پاکستان جام ہو جائیگا، علامہ ساجد نقوی

تحفظ تشیع کیلئے اب ایسا اجتماع ہوگا کہ پورا پاکستان جام ہو جائیگا، علامہ ساجد نقوی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے قائد علامہ سید ساجد علی نقوی نے واضح کیا ہے کہ ہم اتحاد و وحدت کیلئے کوشاں ہیں لیکن ہمارے اس ذمہ دارانہ طرز عمل کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے، اسلام آباد اور اب خیرپور کے اجتماع نے ایک نئی بیداری ثابت کر دی، ملت تیار رہے، تحفظ تشیع کیلئے اب ایک ایسا اجتماع ہو گا کہ پورا پاکستان جام ہو جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیرپور میں منعقدہ لبیک یاحسین ع کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں علماء کرام سمیت لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔
 
اس موقع پر علامہ سید ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی قوت کو آزمائینگے تو پاکستان کے آسمان اور زمین کا رنگ ہی کچھ اور ہو گا، حکومت ہوش کے ناخن لے، ہم محب وطن، امن پسند اور ذمہ دار لوگ ہیں، ملک کی سالمیت اور داخلی وحدت و استحکام ہمیں عزیز ہے، اسی لئے تو اب تک اتنی قربانیاں دے کر بھی اتحاد و وحدت کے لئے کوشاں ہیں، مگر ہمارے اس ذمہ دارانہ طرز عمل کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم پاکیزہ عقائد و نظریات کے تحفظ، اصولوں کے دفاع اور اپنے آئینی و قانونی اور شہری حقوق سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ خیرپور میں شرپسندوں اور دہشتگردوں کو لگام دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے نہ کہ معصوم اور امن پسند لوگوں کو گرفتار اور ہراساں کرنا۔ انکا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں شیعہ علمائے کرام نے ملک کو درپیش مسائل و مشکلات پر تبادلہ خیال کیا اور ریاست کے ذمہ داروں کو ملک کے داخلی امن و سلامتی کی جانب ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کانفرنس کے بعد پارلیمنٹ ہائوس تک ہزاروں علماء کی احتجاجی ریلی کے دوران ایک پتہ تک بھی نہیں ہلا اور انتہائی باوقار اور منظم انداز میں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا، جو معاشرے کے محب وطن اور ذمہ دار طبقے کی واضح علامت ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ یہاں خیرپور میں پہلے سے طے شدہ اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لئے شرپسندوں نے منظم طریقے سے غیر قانونی سرگرمیوں اور لاقانونیت کا سہارا لیا، مگر صد افسوس کہ انہیں قانون کی گرفت میں لینے کی بجائے پولیس اور انتظامیہ نے الٹا امن پسندوں کو ہراساں اور گرفتار کرنا شروع کر دیا اور مختلف مقامات پر کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے قافلوں کو روک کر انکی شہری آزادیوں پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔
 
کانفرنس سے شیعہ علماء کونسل سندھ کے سینئر نائب صدر علامہ جعفر سبحانی، جنرل سیکرٹری علامہ سید ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مختار امامی، علامہ محسن مہدوی، علامہ ریاض حسین الحسینی، علامہ ارشاد شاہ، علامہ اسد اقبال نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے بعد گرفتار ہونیوالے تمام شیعہ نوجوانوں کو رہا کر دیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 157540
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش