0
Wednesday 31 Oct 2012 20:53

دہشتگردی کیخلاف جنگ کا دعویٰ جھوٹا، امریکہ دہشتگردوں کا سب سے بڑا حامی ہے، سید علی خامنہ ای

دہشتگردی کیخلاف جنگ کا دعویٰ جھوٹا، امریکہ دہشتگردوں کا سب سے بڑا حامی ہے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ انقلاب اسلامی ایران کے سربراہ آيت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ تیرہ آبان (تین نومبر) کے دن تین تاریخی واقعات پیش آئے تھے، جو اپنے اعلٰی اھداف تک پہنچنے کے لئے ملت ایران کے عزم و استقامت کا مظہر ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آج تیرہ آبان مطابق تین نومبر کی مناسبت سے یونیورسٹیز اور اسکولز کے ہزاروں طلباء سے خطاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت اور عید سعید غدیر خم کی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے تیرہ آبان (تین نومبر) کو تہران میں امریکی سفارتخانے اور جاسوسی کے اڈے پر قبضہ کرنے کے طلباء کے اقدام کو امریکہ کی ایک اور شکست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس زمانے سے آج تک امریکہ مسلسل شکست کھاتا آرہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ملت ایران کی جدوجہد میں طلباء صف اول کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ 

اسلامی انقلاب کے سربراہ نے کہا کہ تیرہ آبان (تین نومبر) کو پیش آنے والے تاریخی واقعات میں انیس سو چونسٹھ کو حضرت امام خمینی قدس سرہ کی جلاوطنی، تیرہ آبان انیس سو اناسی کو پٹھو پہلوی حکومت کے ہاتھوں طلباء کا قتل عام، اور تیرہ آبان کو ہی طلباء کا امریکی سفارتخانے پر قبضہ کرنا، ان تمام واقعات میں ایک طرف حضرت امام خمینی اور ملت ایران ہیں اور دوسری طرف امریکی سامراج ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت ایران امریکہ کے خلاف جدوجہد میں مشغول ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ پچيس سال کی جدوجہد کے بعد اسلامی نظام کی تشکیل امریکہ کے خلاف جدوجہد میں ملت ایران کی کامیابی کا پہلا مرحلہ ہے۔
 
ایران کے روحانی پیشوا کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے دن سے ہی ملت ایران کی مخالفت اور اسلامی انقلاب کی راہ میں روکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیا تھا اور ان تمام سازشوں کا مرکز تہران میں امریکہ کا سفارتخانہ یا جاسوسی کا مرکز تھا، رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ گذشتہ تینتیس برسوں سے امریکہ انیس سو اناسی میں اپنی شکست کا تدارک کرنے کے لئے سازشیں کرتا آرہا ہے۔ ان سازشوں کے جاری رہنے کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے زمانے میں امریکہ کی شکست صرف ملت ایران کے ہاتھوں شکست نہیں تھی، بلکہ سارے علاقے میں امریکہ کی شکست تھی اور آج شمالی افریقہ اور عرب دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اور قوموں میں روز بروز امریکہ سے نفرت کے جذبات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ سب امریکہ کی اسی شکست کا نتیجہ ہے۔ 

اسلامی انقلاب کے سربراہ نے امریکہ کے خلاف ملت ایران کی کامیابی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے اسلامی نظام کے مقام و منزلت کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کامیابی کے بعد ناصرف یہ کہ ختم نہیں ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ مستحکم، باعظمت اور ترقی یافتہ ہوتا گيا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں کوئی بھی حکومت امریکہ کی طرح قابل نفرت نہیں ہے اور اگر اس علاقے اور دیگر ممالک کی حکومتیں جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دن کو امریکہ کے خلاف اظہار نفرت کا دن معین کر دیں تو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکہ کی ظاہری ساکھ خراب ہونے کے ساتھ ساتھ اسکے اقدار بھی زوال پذیر ہوگئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ امریکہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے، لیکن اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ امریکہ دراصل دہشتگردوں کی حمایت کرتا ہے۔ ایم کے او جیسے دہشتگرد گروہ کو نام نہاد بلیک لسٹ سے نکالنا اس دعوے کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ 

ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکہ انسانی حقوق کی حمایت کرنے کا بھی دعویٰ کرتا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے خلاف گھناونے ترین اقدامات امریکہ کی حمایت سے انجام پاتے ہیں اور صیہونی حکومت نے ساٹھ برسوں سے کھلم کھلا ملت مظلوم فلسطین کے جو حقوق پامال کر رکھے ہیں، انہیں بھی امریکی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ کے داخلی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ننانوے فیصدی افراد کی تحریک امریکہ میں ایسے عالم میں شروع ہوئی جبکہ امریکی عوام اپنے ملک کے بارے میں بہت سے حقائق سے واقف نہیں ہیں اور اگر امریکی حکومت حقائق کی نشر و اشاعت پر سے پابندی ہٹالے تو یہ تحریک یقیناً بہت زیادہ وسعت حاصل کرلے گی۔
خبر کا کوڈ : 208033
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے