0
Saturday 4 Jan 2014 11:16

مشرف کوعلاج کیلئے سعودی عرب یا متحدہ امارات بھیجنے کی قیاس آرائیاں

مشرف کوعلاج کیلئے سعودی عرب یا متحدہ امارات بھیجنے کی قیاس آرائیاں
اسلام ٹائمز۔ برطانوی اخبار”فنانشل ٹائمز“ کمطابق جنرل مشرف بیرون ملک طبی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ شکوک و شبہات میں گھر گیا، جس سے قیاس آرائیوں کو ہوا ملی کہ سابق فوجی آمر اب طبی علاج کے لئے بیرون ملک جا سکتے ہیں۔ مشرف کے اسپتال داخل ہونے کے عمل پر سفارت کاروں اور فوجی حکام کے درمیان بھی قیاس آرائیاں ہیں کہ سابق فوجی آمر کی قسمت کا فیصلہ ایک معاہدے کے ذریعے کیا جائے گا جس میں انہیں طبی سہولت دینے کے لئے بیرون ملک سفر کی اجازت دی جائے گی۔ یہ اقدام ممکنہ طور پر فوج اور نواز شریف انتظامیہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرسکتا ہے۔ مشرف کے قریبی ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ صورت حال یوں دکھائی دیتی ہے کہ مشرف علاج کے لئے سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات جا سکتے ہیں یا انہیں ممکنہ طور پر جلاوطن کیا جاسکتا ہے۔

ایک ریٹائرڈ فوجی شخصیت نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ کوئی بھی ایسا راستہ نہیں کہ مشرف کو پاکستان میں رکھا جائے گا اور ان کی تزلیل کی جائے گی۔ اس مخصوص اسپتال میں مشرف کا آنا ظاہر کرتا ہے کہ سابق صدر اب فوج کے تحفظ میں ہیں۔ نواز شریف انتظامیہ کے ایک سنیئر وزیر نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف جلد مقدمہ کی سماعت ہو سکتی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ 2008 میں زبردستی اقتدار سے نکالنے تک مشرف نے پاکستان پر نو سال تک حکمرانی کی۔ چار سال سے زائد عرصے کی جلاوطنی کے بعد جب وطن لو ٹے تو انہوں نے قومی انتخابات میں اقتدار پھر سے لینے کی ناکام کوشش کی۔ وزیر اعظم نواز شریف کا اپنے سابق حریف کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے فیصلے نے بیرون ملک مقیم لوگوں میں خدشات پیدا کیے کہ یہ مقدمہ پاکستان کی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان پہلے سے نازک تعلقات کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔

سابق رہنما اب راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں جو جی ایچ کیو سے پانچ منٹ کی مسافت پر ہے اس جگہ علاج کی سہولت لینے کے پرویز مشرف کے فیصلے سے اب سیاسی مخالفین مقدمے کی سماعت کے عمل میں مداخلت کے الزامات دے رہے ہیں۔ گزشتہ اتوار مشرف نے کہا تھا کہ اس کے خلاف مقدمے پر پوری فوج پریشان ہے، اگرچہ فوج کی طرف سے اس پیش رفت پر تبصرہ کرنا باقی ہے، تاہم سیکورٹی تجزیہ کار اس نقطہ نظر کی تصدیق کرتے ہیں کہ اپنے سابق فوجی سربراہ کی ممکنہ عمر قید سزا کے تناظر میں فوج ناخوش ہے۔
خبر کا کوڈ : 337293
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب