0
Friday 31 Jan 2014 19:13

سنی اتحاد کونسل نے یکم سے 10 فروری تک عشرہ کشمیر منانے کا اعلان کر دیا

سنی اتحاد کونسل نے یکم سے 10 فروری تک عشرہ کشمیر منانے کا اعلان کر دیا
اسلام ٹائمز۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ بھارتی افواج کے مظالم تحریک آزادئ کشمیر کو روک نہیں سکتے۔ کشمیری حریت پسند دہشت گرد نہیں فریڈم فائٹرز ہیں۔ قوم کو مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر بھارت سے دوستی قبول نہیں۔ بھارت نے پورے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاؤنی بنا دیا ہے۔ بھارت کے ساتھ دوستی کشمیری شہداء کے خون سے غداری ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر میں ہوتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم روکنے کیلئے اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ حکومت پاکستان ہر سفارتخانے میں کشمیر ڈیسک قائم کرے اور کسی اہم شخصیت کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پانچ فروری کو یومِ یکجہتئ کشمیر منانے کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم سے دس فروری تک ’’عشرۂ کشمیر‘‘ منایا جائے گا اور پانچ فروری کو ملک گیر ’’یومِ یکجہتئ کشمیر‘‘ منایا جائے گا۔ عشرۂ کشمیر کے دوران تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں، کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد کیے جائیں گے اور انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی نیز کشمیری شہداء کی یاد میں دیے روشن کیے جائیں گے۔ سنی اتحاد کونسل کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو خطوط بھی ارسال کیے جائیں گے۔ ان خطوط میں عالمی اداروں سے اپیل کی جائے گی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ پاکستان میں نواز شریف کی نہیں آئی ایم ایف کی حکومت ہے۔ ملک مہنگائی اور بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے جبکہ سندھ اور پنجاب کی حکومتیں میلوں ٹھیلوں میں مصروف ہیں۔ انتہاپسند دہشت گردوں نے سات ہزار فوجیوں اور پچاس ہزار محب وطن شہریوں کو شہید کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے جرائم ناقابل معافی اور ناقابل تلافی ہیں۔ پاک سرزمین پر کسی شرپسند اور دہشت گرد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ملکی سلامتی کے ساتھ کھیلنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے۔ اہلسنّت صوفیاء کے نظریات و تعلیمات کے امین ہیں۔ اہلسنّت پرامن ہیں اور قوم کو پرامن رہنے کا پیغام دیتے ہیں۔ دہشت گردوں سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کا قیام لاحاصل اور وقت کا ضیاع ہے۔ پورے ملک میں دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔ مائنڈ سیٹ تبدیل کیے بغیر طالبانائزیشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ طالبان کے مطالبات اور شرائط ریاست کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ اجلاس میں طارق محبوب، پیر سیّد محمد اقبال شاہ، مفتی محمد سعید رضوی، صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی، میاں فہیم اختر، ملک بخش الٰہی، ارشد مصطفائی، سیّد جوادالحسن کاظمی، مفتی محمد حسیب قادری، مولانا محمد اکبر نقشبندی، شیخ محمد ذوالفقار رضوی، الحاج سرفراز احمد تارڑ، اسد رفیق رضوی اور دیگر نے شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 347089
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب